عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //تمل ناڈو میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران انسان اور جانوروں کے درمیان تصادم میں 685 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جس میں گزشتہ برس ہوئی 43 لوگوں کی موت شامل ہے۔ ان حالات میں محکمہ جنگلات کے سینئر افسران نے خبردار کیا کہ صرف ٹیکنالوجی اور سختی سے اس بڑھتے ہوئے بحران کو حل نہیں کیا جا سکتا، اس کے لئےعوامی بیداری ضروری ہے۔ اناملائی ٹائیگر ریزرو (اے ٹی آر) کے چیف کنزرویٹرآف فاریسٹ اورفیلڈ ڈائریکٹرڈی وینکٹیش نے کہا کہ جنگل کے کناروں پر رہنے والی مقامی برادریوں کی فعال شمولیت کے بغیرانسانوں اور جانوروں کے درمیان تنازعہ کو کم کرنا ناممکن ہے۔
تمل ناڈو کے محکمہ جنگلات کی جانب سے بدھ کے روز کوئمبٹور میں ریاستی جنگلات سروس کے لیے سنٹرل اکیڈمی میں انسان اور جانورٹکراؤ کو کم کرنے پرایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں پرنسپل چیف کنزرویٹرآف فاریسٹ اور چیف آف فارسٹ فورس (ایچ او ایف ایف) سرینواس آر ریڈی اور کوئمبٹور، ہوسور، ستیہ منگلم، نیل گیری، ڈنڈیگل، کوڈائی کنال اور تینکاسی کے جنگلاتی افسران نے حصہ لیا۔ اس موقع پرانسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان بقائے باہمی کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کی حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ڈی وینکٹیش نے بتایا کہ مغربی گھاٹ کے کنارے والے اضلاع تنکاسی، ورودھو نگر،کوئمبٹور، تروپور، تھینی، سیلم،دھرم پوری اور کرشناگری میں انسانوں اور جانوروں کے درمیان تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے تنازعات کے پیچھے ماحولیاتی وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے وینکٹیش نے کہا کہ بہت سے جنگلاتی علاقے جو سرسبز نظر آتے ہیں دراصل غیرملکی پودوں کی انواع کے پھیلاؤ کی وجہ سے ’سبز صحرا‘ بن گئے ہیں جو مقامی جانوروں کو سہارا نہیں دے پاتے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے انحطاط نے جنگلی حیات کی نقل و حرکت کے روایتی انداز کو متاثر کیا ہے اور انسانوں کے ساتھ تنازعات میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہاتھی، جو پہلے زیادہ تر کوڈائی کنال کے بیریجم علاقے تک محدود تھے، اب ڈنڈیگل میں ضلع کی سرحدوں کے پار دیکھے جا رہے ہیں، جو رہائش کے نقصان اور تقسیم کی وجہ سے نقل مکانی کے بدلے ہوئے راستوں کی عکاسی کرتے ہیں۔