ہمارا ملک ہندوستان اپنی تہذیب کے حوالے سے دنیابھرمیں ایک امتیازی شان رکھتاہے،اس سرزمین کواولیاء اللہ، صوفیائے کرامؒنے اپنابناتے ہوئے پیغام محبت کوعام کیااورامن وسلامتی کاگہوارہ بنایا،لیکن چندسالو ںسے اس ملک کی تہذیبی شناخت کومٹانے کی منظم اندازمیں مذموم کوشش کی جارہی ہے اوراس کوایک خاص رنگ میں رنگنے کی جہدمسلل جاری ہے۔اس ملک کوآزادکروانے میں سب سے زیادہ قربانی مسلمانوں نے دی ہے اورآج اسی قوم کااس ملک میں عرصۂ حیات تنگ کیاجارہاہے ۔ہمارے ملک کے آئین کی یہ خوبی ہے کہ ملک کے ہرشہری کوبلاتفریق مذہب وملت اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب پرعمل پیراہوکرامن وامان کے ساتھ زندگی بسرکرے لیکن کچھ برسوں سے ایک مخصوص طبقہ کے افرادنے اقلیتوں بالخصوص مسلمانو ں کاجیناحرام کردیاہے۔نہ صرف یہ کہ ان کے کھانے پینے ،رہن سہن کے طریقوں پراعتراض کئے جارہے ہیں بلکہ شریعت میں مداخلت کی کوشش کی جارہی ہے اورانہیں بدترین ظلم وتشددکانشانہ بنایاجارہاہے۔یہ ملک جتنادوسرے مذاہب کے ماننے والو ں کاہے، اُتناہی مسلمانوں کابھی ہے۔ہمارے اسلاف نے ملک کے تحفظ،سجانے،سنوارنے اورآزادی دلانے کے لئے جوکارہائے نمایاں انجام دئے ہیں اور بیش قیمت قربانیاں دی ہیں ،انہیں یاد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے اسلاف نے ملک کی آزادی کی خاطرقیدخانوں میں زندگیاںگزاردیں،جانوں کے نذرانے پیش کئے تاکہ ہم سب لوگ آزادفضاؤںمیں سانس لے سکیں۔افسوس ان فرقہ پرست و شدت پسند فسطائی طاقتوں پرہے جوہندوستان کومسلم بیزار نعروں کے ذریعے مذہب،علاقے،برادری،غریبی،امیری اوررنگ ونسل کی بنیادپرتقسیم کرنے میں لگی ہوئی ہے، جب کہ ہندودھرم کی قدیم کتابوں میں ان چیزوں کاکوئی تذکرہ نہیں ملتاہے۔ایک نئی ایجادکردہ اصطلاح ( جومبہم اورغیرواضح ہے جس کی تشریح تک یہ نہیں کرسکتے) کی آڑ میں مسلم اقلیت جذبات بر انگیختہ کر کے برسوں سے فرقہ پرست عناصراس کوآگے بڑھارہے ہیں۔اس کے لئے جوطریقہ کاراختیارکیاگیاہے اس کودیکھ کرایسالگ رہاہے کہ ایک مخصوص خیال کا طبقہ خودکوہی قانون سمجھنے لگاہے۔ یوںہندوستان کا ہر ناگرگ ہی خطرے میں نہیں بلکہ وشال دیش کاآئین ونظم مملکت بھی خطرے میں پڑا ہے ، جب کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں پرعرصۂ حیات تنگ کیاجارہاہے ۔اس وجہ سے ملک کے بیشترافرادعدم تحفظ اورخوف کے ماحول میں زندگی گزاررہے ہیں۔ہجومی تشددکے واقعات میں دن بدن اضافہ ایک وحشت ناک حقیقت ہے،اُترپردیش کے اخلاق احمداورہریانہ کے حافظ جنیدخان سے لے کرراجستھان کے اکبرخان ،جہارکھنڈکے تبریزانصاری اوربہارکے نوشادقریشی جیسے درجنوں بے گناہوں کوہجومی تشددکے ذریعے آج تک قتل کردیاگیا،ان میں بیشتر کوسوشل میڈیاپرمختلف افواہوں کے نتیجے میں مارا گیا، خاص کردرجنوں افرادگائے کے تحفظ ،لوجہاد اورچوری کے نام پرمارے جاچکے ہیں۔ہجومی تشددکے واقعات کی خبریں آئے دن ملک کے کسی نہ کسی علاقے سے آتی رہتی ہیں۔ان واقعات پرمرکزی اورریاستی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، یہ بہت افسوس ناک امر ہے۔ایسے گھمبیر حالات بناکرمسلمانوں کوایک خاص قسم کی نفسیاتی بیماری اوراحساس مظلومیت میں مبتلاکرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔ہجومی تشددمیں ملوث دھارمک جنونیوں کے خلاف مؤ ثراقدامات نہیں کئے جانے کی وجہ سے سماج میں نفرت اورمسلمانوں میں احساس عدم تحفظ کا دن بہ دن اضافہ ہورہاہے۔ان جنونیوں کامقصدکچھ بھی ہو،ہجومی تشددایک الگ نوعیت کا قاتلانہ جرم ہے اوراس کی روک تھام کے لئے ایک الگ موثر قانون کی ضرورت ہے۔موجودہ حکومت نے اپنی میعادکے پانچ برس پہلے ہی گزارے اوران پانچ برسوں میں جن بے نوا لوگوں نے ظلم وستم کے ماحول میں زندگیاں گزاریں، صرف وہی ایک نہیں بلکہ ملک میں تمام صحیح اور مثبت سوچ رکھنے والے افراداقتدارکی تبدیلی کے خواب دیکھ رہے تھے کہ ایسی حکومت برسراقتدارآئے گی، جوملک کے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کاتحفظ کرے گی لیکن وہی حکومت دوبارہ اقتدارمیں آتے ہی ملک کے کئی حصوںمیں جوظالمانہ واقعات پیش آئے۔ انہوں نے پچھلے پانچ برسوں کی خوف ناک یاد یں تازہ کردیں،بالخصوص مسلمانوں کویہ احساس دلانے کی بھرپورکوشش کی گئی ہیں کہ وہ اس ملک میں ایک ایسے شہری کے طورپرزندہ رہیں جنہیں وطن ِ ہند میں رہنے کاخراج اداکرناہوگا۔یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ملک کو کدھرلے جارہی ہے اوروہ اقلیتوں سے کیاچاہتی ہے،جب ملک کی فضامیں خوف ہوتواس کااثرملک کے ہرطبقہ اورہرشعبے پرپڑتاہے۔ہندوستان کے دیس باسیو کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیاکے انسانی حقوق کے کارکنوں کواس جانب توجہ دینی چاہئے اورایسے واقعات کے تدارک کاانتظام کرناچاہئے۔
چند سالوں سے نہ جانے اس ملک کو کس کی بری نظر لگ گئی ہے کہ جو پیار ومحبت مسلم،ہندو،سکھ،عیسائی کے درمیان تھی، وہ نفرت وعداوت میں بدل گئی ہے،بھائی چارگی کے گیت گانے کے بجائے ظلم وعداوت کے نعرے لگائے جارہے ہیں،ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے بجائے ظلم وزیادتی کے بازار گرم کئے جارہے ہیں،مذہب، سہ طلاق،ٹوپی،داڑھی،گائے کے نام پر مسلمانو ں اور دلتوں کے اوپر مظالم ومصائب کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ،انہیں قتل کیا جارہاہے ،مار پیٹ کر دھارمک نعرے دینے کے لیے کہا جارہا ہے،آخر ہمارے دیش کے ان ناگرکوں کو یہ کیا ہوگیا ہے ؟کیا ان کو پتہ نہیں کہ ہندو مذہب کے اوتار رام چندر جی نے تیاگ اور بلیدان کا درس دیا ہے ؟ انہوں نے پرجا کو ظلم وستم سے نہیں بلکہ باہم دگر پیارو محبت سے جینا سکھایا ہے ۔ انہوں نے کہیں نہیں کہا ہے کہ دوسرے مذاہب ماننے والوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کرو، انہیںمارو پیٹو،گالی گلوچ دو! یہی وجہ ہے گاندھی جی نے مر تے وقت ’’ہے رام ‘‘ کہہ کر اپنی نسبت مظلومین کے ساتھ جتلادی ۔ ہجومی تشدد والوں سے سادہ ساسوال ہے کہ تم لوگ آخر گیتا کے خلاف کیوں جارہے ہو؟ اپنے مذہب کا وِردُھ کیوں کررہے ہو؟کبھی اکیلے بیٹھ کر ضرور سوچنا کہ آخر تم لوگ کر کیا رہے ہو؟کیا یہ کسی دباؤ یا لالچ میں آکریہ حرکتیں کررہے ہو؟کیا تم لوگوں کو نہتے پکڑ کر نہیں لگتا کہ اس سے ہمارا دیش کتنا بدنام ہورہا ہے؟جن لوگوں کے دلوں میں آج تک ہندوستان کی رواداری اور وسیع القلبی تعلق سے اچھے تاثرات اور پیغامات گئے ہیں، انہیں یہ سب جان کر کیا اچھا لگا ہوگا؟کیا کبھی مسلمان نے کسی بھی مذہب والوں کو زبردستی کلمہ کہنے کے لیے کہا؟پھر بھی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہورہا ہے آپ پوری دنیا پر نگاہ ڈالیں کسی بھی مسلم ملک میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شہری کو تلوار یا بندوق یا لاٹھی کے زور پر کلمہ پڑھایا گیاہو،پھر بھی یہ اسلام کا کمال اور برکت ہے کہ اسلام فروغ اور پھیلاؤ کے حوالے سے ترقی کررہا ہے اور دوسرے مذاہب ماننے والے اسلام کے دامن بگوش ہورہے ہیں۔ اخلاق سے لے کر تبریز انصاری تک تقریباً ۶۵ مسلمانوں اور کچھ ایک دلتوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کا یہ مطلب نہ لیجئے کہ اب ملک میں رہ رہے بیس کروڑ سے زائد مسلمان اپنا دین دھرم چھوڑ دیں گے۔ نیز ارباب ِ اقتدار سے سوال ہے کہ کب تک اس طرح انسانی خون کی ہولی کھیلی جانے کی بلوائیوں کو آزادی دی جائے گی؟کیا حکومت ماب لنچنگ کے تعلق سے کوئی قانون پاس کرے گی؟کیا ان قاتلوں کو سزا دی جائے گی؟یا کرسی والے اسی طرح خاموش تماشائی بنی رہیں گے؟ کیا کہیں اس قتل و غارت کا خاتمہ ممکن ہوگا؟
مسلمان بھی یاد رکھیں کہ اگر ہم خاموش رہیں تو باری باری ہر ایک مسلمان کو قتل کردیا جائے گا اور دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔مسلمانوں کی اجتماعی ضرورت ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لئے بغیر جمہوری انداز میں فرقہ پرست بلوائیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اوران کی آنکھ میں آنکھ ملا کر پُر امن مقابلہ کریں،یہ وقت ِ امتحان ہے ۔ آثارو قرائین سے یہ لگتا ہے کہ ہمارا ساتھ پولیس دے گی اور نہ ہی حکومت، اگر یہ لوگ مظلوم اقلیتوں کا ساتھ دیتے تو اب تک اتنے سارے مسلمان ہجومی تشدد کے شکار نہ ہوتے ۔ اس لیے اب ہمیں ہی کچھ سوچنا ہوگا ۔ہمیں ہی کوئی بڑا قدم قانون کے دائرے میں رہ کر اٹھانا ہوگا۔فی الحال جو بات ہم سب کے اولین فرصت میں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ماب لنچنگ (ہجومی تشدد)کو کس طرح عقل وشعور کے ساتھ روکا جائے۔اس بارے میں ذیل میں کچھ تدابیر اور تجاویز لکھی جارہی ہیں جن پر ہم سب کو غور وفکر کر نا چاہیے :
(۱) ہر علاقے اور گاؤں کے ذمہ داران یا تنظیم یا ادارے، اعلیٰ عہدے داروں سے مطالبہ کریںکہ ماب لنچنگ کو جلد از جلد روکا جائے،اور ان میں ملوث قاتلوں کے خلاف موثر اور انسدادی قانون بنایا جائے۔
(۲)اپنے دفاع کے لیے حکومت سے مطالبہ کریں کہ ہمیں بھی اپنے جان ومال اور عزت وآبروکا دفاع کر نے کی اجازت دی جائے تاکہ جب بھی اور جہاں بھی ہم پر یہ درندہ صفت بلوائی حملہ آور ہوں تو ہم اپنا بچاؤ میں پیچھے نہ رہیں۔(۳) اکیلے سفر سے پرہیز کریں اور ہمیشہ چند لوگوں کے ساتھ ہی سفر کریں۔
(۴)اجنبی گاؤں میں تنہا جانے سے گریز کریں ۔
(۵)ٹیمپو،رکشہ وغیرہ میں بیٹھتے وقت گاڑی کا نمبر لکھ کر یا اس نمبر کی تصویر لے کر اپنے دوستوں کو بھیج دیں اور بتا دیں کہ ہم فلاں جگہ سے فلاں جگہ اس نمبر کی گاڑی سے جارہے ہیں۔
(۶)ٹرین میں سفر کے وقت کوشش کریں کہ جہاں چند مسلمان اکٹھے ہوں، وہاں بیٹھیں ۔اگر غیر مسلم کے پاس بیٹھنا پڑجائے تو خاموشی کے ساتھ سفر کریں، سیاسی وغیر سیاسی گفتگو سے پرہیز کریں، اگر بات کرنے کی مجبوری ہی پڑجائے تو ان مدعوں پر ہرگز بات نہ کریں جن سے حالات نازک ہورہے ہیں۔
(۷)بیلٹ ضرور باندھیں ،اپنے ہنر کا استعمال کرتے ہوئے بیلٹ کو بہترین حفاظت کا ہتھیار بنایا جاسکتا ہے۔اس لیے خود حفاظتی کے جو بھی تدابیر ہوں سب کو اختیار کریں۔
(۸)اگر کسی بلوائی پر شک ہو یا اس سے خطرے کا اندیشہ ہو تو فوراً اس پر کڑی نظر رکھیں ، خاص کر اگر وہ موبائیل کا استعمال نہ کرسکے۔
(۹)اپنے اپنے گاؤں ،قصبوں میں تیز طرار،ہوشیار نوجوانوں کے واٹس ایپ گروپ بنالیں،اپنے قرب وجوار کے گاؤں کے گروپس میں جڑے رہیں ،تاکہ بچاؤ کارروائی کی ضرورت پڑنے پر نزدیک کے گاؤں سے مدد حاصل کی جاسکے ۔
(۱۰)اپنے غیر مسلم دوستوں سے گہرا تعلق بنائیں رکھیں ، ہر غیرمسلم بھائی کو ایک ہی ترازو میں نہ تولیں ۔ دشمنوں کو بھی اچھی طرح پہچاننے کیلئے اپنے گردونواح پر کڑی نظر رکھیں ۔
(ا۱)بچوں کے دلوں میں یہ بات بٹھائیں کہ ہمارے ہیروز کون لوگ ہیں اور کیسے ہیں؟ صرف ایک اللہ تبارک وتعالیٰ کا خوف دل میں بٹھانے کی کوشش کریں۔
(۱۲)ہماری مساجد میں اصلاح اور حالات حاضرہ کی مناسبت سے ہوش مندانہ اور عاقلانہ تقاریر ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ بے وقت کی راگنیاں سنائی جائیں، نہ جذباتیت کے عالم میں کوئی بات یا ایکشن لیا جائے، ہر محلے میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے کم سے کم ہفتے میں ایک پروگرام ضرور ہو۔
(۱۳)اپنے گھر،اپنے سماج،اپنے گاؤںکے اندر امن شانتی،اتحاد و اتفاق کا ماحول بنائیں۔علما ،تنظیمیں،خانقائیں،ادارے آپس میں اتفاق و اتحاد پیدا کریں،ایک دوسرے پر طعن وتشنیع،غیبت وچغل خوری سے باز آئیں،یہ وقت آپس میں فضول باتوں پر لڑنے جھگڑنے کا نہیں ہے بلکہ یہ وقت متحد ہوکر اپنا بچاؤ کرنے کی گھڑی ہے ۔
(۱۴)دورانِ سفر وقتا فوقتا اپنے گھر والوں اور دوست واحباب کے رابطے میں رہیں اور انہیں سفر کے حالات وکوائف کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں۔
یاد رکھئے سب مسلمان دیش میں امن وشانتی ،الفت ومحبت کے خواہاں ہیں،ہم ظلم وزیادتی،نفرت وعداوت پھیلانے والے نہیں،ہم ظلم کا جواب ظلم سے دینے کے روادار نہیں ۔اس لیے ان تدابیراور تجاویز کو منفی نقطہ ٔ نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ مثبت پہلو سے دیکھا جائے۔ضروری نہیں ہے کہ ان تدابیر پر سب کا اتفاق ہوجائے لیکن اتنی گزار ش کی جسارت ضرورکروں گا کہ ان تدابیر اوتر تجاویز کو عملی جامہ پہنانے سے اگر ہماری کچھ حفاظت ممکن ہے تو ضرور عمل کیا جائے۔اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے تمام مسلمانوں کی حفاظت و صیانت فرمائے، اور ظالموں کے ارادوں کو ناکام کرتے ہوئے ہماراایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔آمین
رابطہ :امام روشن مسجد،میسورروڈ،بنگلور
09620747322