واشنگٹن // امریکی حکومت نے افغان عوام کے لیے 308 ملین ڈالرز امداد کا اعلان کیا ہے۔ وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2021ء سے افغانستان کے لیے 782ملین ڈالرز دیے جاچکے ہیں‘ افغانستان کے لیے 10 لاکھ کورونا ویکسین بھی فراہم کی جائیں گی‘ امداد یو ایس ایڈ ، غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کے ذریعے فراہم کی جائے گی‘ افغان عوام کی خوشحالی اور بہتر مستقبل کے لیے پر عزم ہیں۔ادھرچین میں افغانستان کے سفیر جاوید احمد قائم نے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اگست سے تاحال تنخواہیں نہ ملنے پر عہدہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے دفتر بند کرکے چلے گئے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چین میں افغانستان کے سفیر جاوید احمد قائم نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ انھیں اور عملے کو گزشتہ برس اگست سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں جس کے باعث کئی سفارت کار پہلے ہی ملازمتیں چھوڑ چکے ہیں۔جاوید احمد قائم نے مزید لکھا کہ عہدہ چھوڑنے کی ذاتی اور پیشہ ورانہ سمیت بہت سی وجوہات ہیں لیکن میں یہاں ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا البتہ انھوں نے خط میں یہ بتایا کہ سفارت خانہ ایک نئے ملازم کے حوالے کردیا ہے جو ریسیپشنسٹ کی ذمہ داری نبھائے گا۔افغانستان کے سفیر نے خط میں اخراجات کے بارے میں بتایا کہ یکم جنوری تک سفارت خانے کے بینک اکاؤنٹ میں ایک لاکھ ڈالر اور ساتھ ہی دوسرے اکاو?نٹ میں نامعلوم رقم بھی تھی جب کہ 5 گاڑیوں کی چابیاں دفتر میں رکھ دی ہیں اور دو کاروں کو اسکریپ کرنے کی ضرورت ہے۔جاوید احمد قائم نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ میں نے تمام مقامی عملے کو 20 جنوری 2022 تک ادائیگی کر دی ہے اور اب ان کی ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔ دفتر میں نئے ریسیپشن کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا۔ادھر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ جاوید احمد قائم نے بغیر بتائے خاموشی سے چین چھوڑ دیا ہے اور یہ معلومات حاصل کی جارہی ہیں کہ وہ کب اور کہاں گئے۔