ایجنسیز
تہران//ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور جاری ہے اور اس کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ اس دوران ایران کی اسلامک ریولیوشنری گارڈس کارپس (آئی آر جی سی) نے ایک نئے زیر زمین میزائل بیس کی نقاب کشائی کی ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اس تنصیب کو ’میزائل سٹی‘ قرار دیا ہے، جہاں جدید ہتھیاروں سے لیس طویل سرنگیں موجود ہیں۔جمعرات کے روز نیوز ایجنسی ’ڑنہوا‘ نے ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ میزائل بیس کی نقاب کشائی بدھ کو ایرانی دفاعی افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی اور آئی آر جی سی ایرو اسپیس ڈویڑن کے کمانڈر سعید ماجد موسوی دورے پر پہنچے تھے۔
اس دوران ہی میزائل بیس کی نقاب کشائی کی گئی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اعلیٰ افسران کے دورے کے دوران آئی آر جی سی کی میزائل یونٹوں کی صلاحیتوں اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایران کی سیکورٹی فورسز کے سینئر کمانڈروں کو اسٹریٹجک یونٹس کی پیشرفت اور موجودہ تیاریوں کے بارے میں تفصیل سے واقف کرایا گیا۔موسوی نے اڈے پر کہا کہ ایران نے اپنی بیلسٹک میزائلوں کوتمام تکنیکی معاملوں میں اپ گریڈ کرکے حملوں کوروکنے کی اپنی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمنوں کی کسی بھی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ 12 روزہ جنگ (جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ) کے بعد ایران نے اپنی فوجی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ فوجی نظریے کو اب دفاعی انداز سے جارحانہ انداز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں تیزی اور بڑے پیمانے پر کارروائیوں پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ غیر متناسب جنگی طریقے اور فیصلہ کن، کچل دینے والی فوجی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔یادرہے کہ ایران کے قریب واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرارہے۔ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ وہ یا تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے یا کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیاررہے۔