واشنگٹن //امریکی حکام نے سرحدوں پر موجود ساڑھے 15ہزار مہاجر بچوںکو حراستی مراکز میں بند کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق انسانی حقوق اور طبی سہولیات سے متعلق اداے ایچ ایچ ایس کا کہنا ہے کہ امریکا کے ہمسایہ ملک میکسیکو کی سرحد پر 10ہزار سے زائد بچوں کو محفوظ ٹھکانہ فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ادھر کسٹمز اور سرحدی حفاظت کے ادارے سی بی پی کے ترجمان نے بتایا کہ جنوبی ٹیکساس میں میکسیکو کی سرحد کے قریب 5ہزار بچوں کو پناہ گاہ فراہم کی جائے گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی قانون کے مطابق حراستی مراکز میں بچوںکو 72گھنٹے سے زیادہ نہیں رکھا جاسکتا،جب کہ یہ بچے وہاں 5روز گزار چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہناہے کہ حراستی مراکز میں بچوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ انہیں کھلےآسمان تلے سلایا جاتا ہے اور جگہ کم ہونے کے باعث ٹانگیں پھیلانے کے لیے باریاں مقرر کی جاتیں ہیں۔ ہفتے بھر میں بڑی مشکل سے انہیں ایک بار نہانے کا موقع ملتا ہے۔ دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے این جی اوز کے تعاون سے تارکین وطن کو ہوٹل میں رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ریاست ٹیکساس کے شہر سان انٹونیو سے تعلق رکھنے والی ایک این جی او اینڈیورز دیگر رفاہی تنظیموں کی معاونت سے ان معاملات کی نگرانی کرے گی، جن کے تحت ٹیکساس اور ایری زونا میں قائم ہوٹلوں میں ان خاندانوں کو امریکا میں داخلے کے فیصلے آنے تک ٹھیرایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر ان ریاستوں کے 7ہوٹلوں میں 1400 بستروں پر مشتمل کمرے فراہم کیے جائیں گے۔ ان ہوٹلوں میں رواں سال اپریل میں سینٹر کھولے جائیں گے، جہاں کورونا ٹیسٹ، طبی سہولیات، خوراک، سماجی اہلکار اور کیس منیجروں دستیاب ہوں گے۔ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے عملے کو تربیت بھی دی جائے گی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تارکین وطن کی نگرانی کے لیے خفیہ آلات کی مدد لی جائے گی یا کون سا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت امریکاپہنچنے والے تارکین وطن کو سرحد پر قائم پیٹرولنگ اسٹیشن پہنچنے کے بعد کاغذی کارروائی کے لیے ہوٹلوں میں قائم مراکز میں بھیج دیا جائے گا۔ ا?ئی سی ای کی ترجمان نے بتایا کہ بدھ کے روز امریکامیں داخل ہونے والے 1200 تارکین وطن کو ریاست ٹیکساس میں قائم 2حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا۔ ریاست پنسلوانیا میں قائم تیسرا حراستی مرکز اب کام نہیں کررہا۔