لندن //امریکا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان میں ہوٹلوں کو استعمال کرنے سے گریز کریں۔ان کی جانب سے یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی جہاں چند روز قبل ہی ایک مسجد میں حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ نے علاقے میں ’سیکیورٹی خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکی شہری جو سرینا ہوٹل کے قریب ہیں، انہیں فوری طور پر وہاں سے چلے جانا چاہیے‘۔طالبان کے قبضے کے بعد سے بہت سے غیر ملکی افغانستان چھوڑ چکے ہیں لیکن چند صحافی اور امدادی ورکرز کابل میں موجود ہیں۔معروف پرتعیش سرینا ہوٹل جو کاروباری مسافروں اور غیر ملکی مہمانوں میں مقبول ہے، دو مرتبہ طالبان کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔2014 میں صدارتی انتخابات سے چند ہفتوں قبل چار نوعمر افراد جن کے موزوں میں بندوق چھپی ہوئی تھی، سیکیورٹی کو عبور کرتے ہوئے ہوٹل میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس میں اے ایف پی کے ایک صحافی اور اس کے خاندان کے افراد سمیت 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔2008 میں ایک خودکش دھماکے میں 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اگست میں غیر ملکی شہریوں اور خطرات کا سامنا کرنے والے افغانوں کی افراتفری میں انخلا کے دوران نیٹو ممالک نے ایک ممکنہ خطرے کے بارے میں انتباہ جاری کیا تھا جس میں لوگوں کو کہا گیا کہ وہ کابل ایئرپورٹ سے دور رہیں۔