افتخاراحمدقادری
امام احمد رضا خان قادری فاضلِ بریلوی کی غزل گوئی پر کچھ لکھنے سے پہلے اگر اچھے شعرا کی تعریف پر ایک نظر ڈال لی جائے تو بہتر ہوگا۔عصر حاضر کے ایک عظیم نقاد مجنوں گورکھپوری کہتے ہیں:’’ شاعری موزوں اور پر ترنم الفاظ میں دلی جذبات کا اظہار ہے اور شاعری کا اصلی خمیر تغزل یعنی داخلی اور اندرونی تحریک ہے۔ اگر شاعری کو الہام یا نوائے سروس کہا جاتا ہے تو اسی اعتبار سے شاعری کی کوئی صنف شاعری رہتے ہوئے اس مرکزی عنصر سے بے نیازی نہیں برت سکتی۔ قصیدوں اور مثنویوں کے وہی اشعار زبان زد ہوئے ہیں یا زبان زد ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں کچھ غزل کا انداز نکلتا ہے۔‘‘
مندرجہ بالا اقتباس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاعری کی اصلی جان یا روح صرف تغزل ہے جسے سوز و گداز اور خلوص سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ شعر قصیدہ سے متعلق ہو، مثنوی کا ہو یا غزل کا۔ صرف وہی زندہ رہے گا جو تغزل کی خوبی کی دولت سے مالامال ہوگا ورنہ محض قافیہ پیمائی ہوگی۔ مثال کے طور پر اردو کے دو عظیم شاعروں کے دو شعر پیش کرتے ہیں، جن کا مرکزی خیال ہے لیکن ایک تغزل کی خوبی کی وجہ سے ایک زبان زد ہوگیا اور دوسرا تغزل سے عاری ہونے کی وجہ سے ایک عالم اصلاحی شعر بن کر رہ گیا ہے۔ شعر ملاحظہ کیجیے شاد عظیم آبادی کہتے ہیں:؎
یہ بزمِ مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
جناب حالی کہتے ہیں:؎
کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا
کچھ کر لو نوجوانو! اٹھتی جوانیاں ہیں
دوسرا شعر تغزل کی کمی کی وجہ سے عام شعر ہوکر رہ گیا ہے۔
اب ہم بعض مشہور شاعروں اور امام احمد رضا خان بریلوی کے ایک ہی موضوع پر کہے ہوئے چند اشعار قارئین کے حوالے کرتے ہیں، جن سے صاحبِ ذوق قارئین اندازہ کرسکیں گے کہ امام احمد رضا خان نے ان عظیم شعرا کے مقابلے میں اپنی انفرادیت کو کس طرح بحال رکھا ہے۔ اُردو شاعری میں ، زلف وگیسو کے بارے میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اگر اس موضوع پر کہے ہوئے اشعار کو جمع کیا جائے تو کئی ضخیم مجلدات تیار ہو سکتی ہیں ۔ہم ذیل میں مرزا غالب، آتش، علامہ اقبال، اور امام احمد رضا خان کا صرف ایک ایک شعر پیش کرتے ہیں اور فیصلہ صاحبِ ذوق قارئین پر چھوڑتے ہیں:
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
(مرزا غالب)
شام سے ڈھونڈا کیا زنجیر پھانسی کے لیے
صبح تک میں نے خیال گیسوئے پیچاں کیا
(آتش)
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
قلب و نظر شکار کر ہوش و خرد شکار کر
(علامہ اقبال)
تارے شیرازہ مجموعہ کونین ہیں یہ
حال کھل جائے جو دم بھر ہوں کنارے گیسو
(امام احمد رضا)
لفظ ’’ آئینہ ‘‘ کا استعمال شعرا کے یہاں عام ہے اور انہوں نے اس لفظ سے صدہا ترکیبیں نکالی ہیں اور خصوصاً غالب تو اس قبیل میں منفرد اور واقعی غالب ہیں۔ زیر نظر اشعار میں دیکھیے کہ امام احمد رضا خان اور دیگر شعرا نے آئینہ کو اپنے اپنے انداز میں کس طرح باندھا ہے:
دیکھ کر حال زبوں کا میرے حیراں رہ گیا
یار کے دل سے بھی تھا ہر چند پتھر آئینہ
روبروئے یار ہوتے ہی زباں ہوتی ہے بند
کس طرح طوطی کو کرتا ہے سخن ور آئینہ
(آتش)
مدعا محو تماشائے شکست دل ہے
از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئینہ
طوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئینہ
(مرزا غالب)
سکھایا ہے یہ گستاخ نے آئینہ کو یارب
نظارہ روئے جاناں کا بہانہ کرکے حیرت کا
عکس در آغوش وجاں محو جمال پاک دوست
کیا ہی بھاتا ہے مجھے انداز روئے آئینہ
(امام احمد رضا)
مندرجہ بالا اشعار پیش کرنے سے ہمارا مفہوم و مقصود امام احمد رضا خان بریلوی کا دوسرے غزل گو شعرا سے مقابلہ و موازنہ مقصود نہیں بلکہ ہم تو صرف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امام احمد رضا خان جنہیں صرف مولود خواں سمجھا جاتا ہے، وہ غزل کے بھی اچھے شاعر ہیں اور ان کے کلام میں تغزل کے دلکش نمونے بکثرت ملتے ہیں۔ ذیل میں امام احمد رضا خان کے کلام میں سے اردو اور فارسی کے چند ایسے منتخب اشعار پیش ہیں، جن میں فنی لحاظ سے بھی کوئی سقم نہیں ہے اور تغزل کے معیار پر بھی پورا اترتے ہیں:
ابھی ابھی تو چمن میں تھے چہچہے ناگاہ
یہ درد کیسا اٹھا جس نے جی نڈھال کیا
سکھایا ہے یہ کس گستاخ نے آئینہ کو یارب
نظارہ روئے جاناں کا بہانہ کرکے حیرت کا
جب بام تجلی پر وہ نیر جاں آیا
سر تھا جو گرا جھک کر دل تھا جو تپاں آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی پھول اور کہاں کھلے
نہ جگہ ہے جو شش حسن میں
نہ بہار اور ر پہ رخ کرے
کہ جھپک پلک کی تو خار ہے
فارسی کلام کے سلسلے میں سب سے پہلے ایک مسلسل غزل ملاحظہ فرمائیں:
حیرت زدہ ام چہ خواب دیدم
در عین شب آفتاب بودم
قرباں نگاہ خو د کہ آں نور
بے پردہ و بے نقاب دیدم
آں جلوہ رخ بزیر گیسو
خورشید تہہ سحاب دیدم
برقے ز طور جاں رباید
ایں طرفہ کے بے حجاب دیدم
یاراں بہ رضا خبر کہ ام شب
درد سے بدل ضراب دیدم
ایک قصیدے کے تشبیب کے دو قطعہ بند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
منکہ می گریم سزائے من کہ رویت دیدہ ام
تو کہ آئینہ نہ بینی از چہ رو گریاں توئی!
یا مگر خود را بروئے خویش عاشق کردہ
یا حسیں تر دیدہ ازخود کہ صید آں توئی
’’ طشت از بام افتادن‘‘ کا محاورہ دیکھیے کہ کس خوبی سے نظم کیا ہے:
عالمے جملہ زباں گشت و گفتن با قیست
ملشت ازبام فتاد است و تہفتن با قیست
[email protected]