قریب دس سال قبل شہرِخاص کے فتح کدل سے ایک افواہ اُڑی کہ وہاں برلبِ سٹرک واقع اپنے زمانے کی مشہور روحانی شخصیت تاجہ بی بی کے مزار سے دودھ کی نہر رواں ہوگئی ہے۔ جو بھی جاتا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ جاتا کہ واقعی مزار کے قریب ایک گویا دودھ کا چشمہ ابل رہا ہو۔ پھر کیا تھا، لوگ سرپٹ دوڑنے لگے۔
لوہے کو گرم دیکھ کر چالاک افواہ بازوں نے زمین و آسمان کے قلابے ملانا شروع کردیا۔ کسی نے کہا ایک گھونٹ پینے سے دل کی بیماری رفوچکر ہوجاتی ہے، کسی نے کہا کہ ضیابیطس یعنی شوگر سے نجات ملتی ہے۔ کوئی کہتا تھا کہ بے اولادوں کو اولاد ملتی ہے ، تو کوئی کہنے لگا کہ کینسر کے مریض شفایاب ہوجاتے ہیں۔ کئی روز تک لوگ قطاردرقطار لوٹے، بالٹی، کنستر ڈبے اور نہ جانے کیا کیا برتن لئے تاجہ بی بی کے مزار کے قریب دودھ کا تبرک لینے کے لئے کئی گھنٹے صرف کرتے تھے۔ کئی ماہ بعد ایک ماہر ڈاکٹر نے اس سیال شے کی جانچ کی تو پایا کہ اس میں چْونا اور پانی ہے، بس اور کچھ نہیں۔
پولیس نے مزید تحقیق کی تو واٹرورکس کی ایک پائپ چْونے کے بہت قدیم گودام سے گزرتی تھی جو اب خراب ہوکر لیک کررہی تھی۔ چونا اور پانی ملکر افواہ باز کے لئے دودھ بن گیا۔۔۔!
افواہ تو اپنی موت آپ مرگئی، لیکن تب تک اُسوقت کے ایک وزیر اور شہر خاص کے باسی نے تاجہ بی بی کے آستانہ کی تعمیر کروادی۔ تاجہ بی بی کی حق مغفرت کرے، اُن کے مزار کو اُستوار کرنے میں حرج نہیں، لیکن یہ واقعہ افواہ بازی کی اُس مہلک بیماری کو سمجھنے کے لئے اہم ہے جو اکثر معاشروں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کردیتی ہے۔
افواہ دراصل فوہ کی جمع ہے۔اس کے معنی ہیں بازاری خبر، گپ شپ اور مبالغہ آمیز باتیں۔ مذہبی پیشوائوں، دانشوروں اور تقریباً سبھی مکاتبِ فکر کے اہل عقل کا اس بات پر اجماع ہے کہ افواہ بازی دراصل ایک اخلاقی بیماری ہے، جو اگر کسی قوم میں سرائیت کرجائے تو اُس قوم کا شیرازہ بکھرتے دیر نہیں لگتی۔
عہدِ نبوی ؐ میں بھی ہمیں ایسے منافقین کا ذِکر ملتا ہے جنہوں نے ا فواہ کو ہتھیار بناکر نبوی مِشن کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کیں۔ ایک معروف قبیلے کے سردار عبداللہ بن اُبئی اکثر مہاجر اور انصار کے درمیان بدظنی اور بداعتمادی پیدا کرنے کے لئے افواہ کا ہی سہارا لیتا تھا۔ سرکارِ دو عالم ؐ اِن بدسیرت افراد پر کڑی نظر رکھتے تھے اور پیغمبرانہ بصیرت کے ذریعہ اُن کی سازشوں کو ناکام بناتے تھے۔ اُن منافقین کا ایک رویہ یہ تھا کہ وہ پیغمبرؐ کے قریب جاکر اُن کے ساتھ سرگوش ہوجاتے اور عام لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ حضور صلعم اُن کے ساتھ رازونیاز کی باتیں کررہے ہیں، تاکہ پھر وہ لوگوں میں جْھوٹ پھیلا کر اُسے پیغمبرؐ کے ساتھ منسوب کریں۔ پیغمبر ؐکے ساتھ اپنی قْربت سے وہ عوامی اعتباریت حاصل کرتے تھے تاکہ لوگ بِلا چْون وچَرا اُن کی بات پر یقین کرلیں۔ اور پھر وہی منافقین اسلام ہی کے خلاف گمراہ کْن پروپگنڈا کرتے۔اسلام نے سب سے پہلے محفلوں میں منافقین کی کانا پھْوسی پر پابندی عائد کردی اور افواہ بازی کو بھیانک جْرم قرار دیا۔
اسلام ہی نہیں، دْنیا کے سبھی مہذب اور باوطیرہ معاشروں میں افواہ بازی کو قبیح جْرم گردانا جاتا ہے، کیونکہ افواہ بازی کی بنیاد جْھوٹ پر ہوتی ہے اور اِسکا مقصد دشنام طرازی، تہمت، کردارکْشی اور ذی عزت لوگوں کی تضحیک و تذلیل ہوتا ہے۔
قرانِ پاک میں نہ صرف یہ کہ منافقین کے کردار کی وضاحت ہے بلکہ مومنین سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ سْنی سْنائی باتوں پر بغیرتحقیق یقین نہ کرلیں۔
اِنسان کی عائلی زندگی میں بھی شرارت پسند لوگ ہوتے ہیں جو افواہ پھیلاتے ہیں۔ پہلے تو یہ افواہیں داستان گو پھیلاتے تھے، پھر تہذیبی ترقی نے اخبار، رسالوں، ٹی وی اور ریڈیو کا ذریعہ بہم پہنچایا، اور آج کل افواہیں وٹس ایپ ،فیس بْک اور ٹویٹر پر پھیلتی ہیں۔
حکومت کے زیرنگرانی چلنے والے نشریاتی اداروں پر ذمہ داری ہے کہ وہ افواہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لئے کسی بھی صورتحال کی درست، صحیح اور سچی تصویر لوگوں کے سامنے رکھیں۔صحافتی ادارے بھی اس کام سے خود کو بری الزمہ نہ سمجھیں۔
تاجہ بی بی کے مزار کا واقعہ ہو، یا نوے کے عشرے میں قرانِ پاک سے بال نکلنا اور راتوں کو گھروں کے باہر بھوت دکھائی دینا یا پھر ماضی قریب میں خواتین کے بال کاٹنے والے طلسماتی گیسوتراش، غرض ہمارا معاشرہ بھی افواہوں کو سچ سمجھنے کا عادی ہے، اور بلاتحقیق سنی سنائی پر عمل کرنا بھی ہماری عادت بن چکی ہے۔
ٹی وی ، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا پر ائمہ اور خطباء حضرات افواہ بازی کے بارے میں اُسوہ رسول ؐ کو اُجاگر کرتے تو ممکن تھا کہ یہ اخلاقی بیماری دور ہوجاتی۔ کورونا وائرس نے دنیا کو جس عالمگیر قہر میں جھکڑ رکھا ہے، وہ اپنے اندر افواہ بازوں کے لئے مواقع کی دنیا رکھتا ہے۔ لاک ڈائون کے دوران طرح طرح کے خودساختہ طبیب کورونا وائرس کا مقابلہ ادرک، لیمو، الاچی، سنگتروں اور شہد سے کرنے لگے۔ بے شک یہ سب چیزی ہمارے روزانہ تغذیہ میں مناسب مقدار کے ساتھ شامل ہوں تو صحت بخش ہیں، لیکن جو کام ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کرنے، ضروری تشخیص اور پاکیزگی کے اہتمام سے ہوگا ،وہ افواہ بازوں کے ٹوٹکوں سے کیسے ہوسکتا ہے؟
اگر ہم قران اور سنت کی روشنی میں خود میں اور اپنے بچوں میں یہ عادت ڈال دیں کہ چاہے کہنے والا کوئی بھی ہو، ہم سنی سنائی بات پر بغیر تحقیق یقین نہیں کریں گے اور نہ اُسے آگے پھیلائیں گے، تو ممکن ہے کہ افواہ بازی کی بیماری سے چھٹکارا مل سکے۔
(کالم نگار سماجی رضاکار ہیں۔ رابطہ: 9469679449)