نئی دلی// فوج کے سربراہ ایم ایم نروانے کہا ہے کہ افغانستان میں حالات مستحکم ہونے کے بعد افغان نژاد غیر ملکی جنگجوئوں کے جموں و کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کے امکان کو مسترد نہیں کیاجا سکتا، کیونکہ 20سال پہلے اس طرح کے واقعات رونما ہوئے تھے جب طالبان کی حکومت تھی۔ نروانے’ انڈیا ٹوڈے کنکلیو‘ کے دوران تقریر کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر (جموں و کشمیر میں) سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے لیکن کیا ان کا براہ راست تعلق افغانستان میں کیا ہو رہا ہے ، ہم واقعی نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے کہا’’لیکن ہم ماضی سے جو کچھ دیکھ چکے ہیں وہ یہ ہے کہ جب سابقہ طالبان حکومت اقتدار میں تھی ، اس وقت یقینی طور پر ہمارے پاس جموں و کشمیر میں افغان نژاد غیر ملکی جنگجوئوںموجود تھے‘‘۔انہوں نے مزید کہا ، "اس وجہ سے یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ ایک بار پھر وہی ہو سکتا ہے کہ جب افغانستان کے حالات مستحکم ہو جائیں تو پھر ہم ان جنگجوؤں کی افغانستان سے جموں و کشمیر میں آمد کو دیکھ سکتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کی کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں، ہمارے پاس ایک بہت مضبوط انسداد دراندازی گرڈ ہے جو انہیں سرحد پر روکنے کے لیے ہے، ہمارے پاس اندرونی علاقوں میں انسداد دہشت گردی کا بہت مضبوط گرڈ موجودہے تاکہ اس طرح کی کسی بھی کارروائی کا خیال رکھا جا سکے،جس طرح ہم نے 2000کی دہائی کے اوائل میں ان سے نمٹا تھا ، اب ہم ان کے ساتھ بھی نمٹیں گے اگر وہ ہمارے قریب کہیں بھی نظر آئیں گے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے جموں و کشمیر میں پاکستان کے راستے جنگجوپھیلنے اور جنگجویانہ سرگرمیوں میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں ، خاص طور پر لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے گروہوں کی طرف سے طالبان کی لڑائی کے بعد کابل میں طاقت بڑ ھ گیا ہے ْجموں و کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ پر ، آرمی چیف نے کہا کہ یہ "تشویش" کا معاملہ ہے اور اسے "قابل مذمت" قرار دیا۔انہوں نے کہاوہ لوگ یہاں نار ملنسی نہیں چاہتے،یہ ان کی آخری کوشش ہے اورعوام اسکی بغاوت کریں گے،اگر وہ (عسکریت پسند) کہتے ہیں کہ وہ یہ سب لوگوں کے لیے کر رہے ہیں ، تو پھر آپ اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہیں جو آپ کی سپورٹ بیس ہیں، یہ صرف دہشت پھیلانے کی کوشش ہے جو کہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے‘‘۔