سرینگر// معروف شاعرمظفر ایرج77برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد منگل کی شام اس دار فانی سے رحلت کر گئے۔دنیا سے چل بسے،جبکہ انہیں بدھ اعلیٰ الصبح کو سپرد خاک کیا گیا۔ مرحوم عرصہ دراز سے ذیبابطیس کی بیماری میںمبتلا تھے۔مظفر ایرج کا اصل نام محمد مظفر نقشبندی تھا،جن کا جنم سرینگر کے پائین شہر میں یکم اگست1944میں ہوا۔ مظفر ایرج محکمہ صنعت و حرفت میں بطور جوائنٹ ڈائریکٹر اپنی خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئے۔ محروم نگینہ کے بانی ممبران میں سے ایک تھے،جبکہ کئی شاعری مجموئوں کے مصنف بھی تھے جن میں حال ہی میں شائع ہوئی سخن آئینہ کے علاوہ،1988میںانکسار ،1998 میںابجد ،2007میںثبات، 2009میں شائع ہوئی دشت دیار اور دل کتاب بھی شامل ہے۔ایرج کا کلام بیرون ریاستوں کے رسالہ جات میں بھی شائع ہوا، وہ اردو کے محب تھے۔ ان کی شاعری پر برصغیر کے معروف شاعراء کرام نے اپنے قلم کو جنبش دی ہے جن میں پریم کمار نذر ،عتیق احمد عتیق، بشر نواز، اسد بدیوانی،ابن فرید ،ساحل احمد،پروین کمار عاشق، افتخار امام صدیقی ،خالد عبادی، رئیس الدین رئیس،ڈاکٹر اشرف آثاری اور دیگر قلماکار بھی شامل ہیں۔ شمس رحمان فاروقی نے مظفر ایرج کے کلام پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’ نظم اور غزل میں انفرادیت سے کام لیا اور اپنے لہجے کی شناخت کو طمانیت بخشی ‘‘۔معروف قلمکار نور شاہ نے محروم کو ایک اعلیٰ پایہ کا شاعر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم جہاں ایک پروقار اور شریف النفس شخصیت کے مالک تھے وہی ان کے کلام میں گہری سوچ تھی۔انہوں نے کہا کہ مظفر ایرج کا شمار دور حاضر کے معروف و مقبول اور اعلیٰ شاعروں میں کیا جاتا تھا۔شاہ کا کہنا تھا’’ میرے مظفر صاحب سے گزشتہ40برسوں کے مراسم تھے اور میں نے ہمیشہ انہیں ایک سلجھا ہوا شخص،شرافت کا مجسمہ،اعلیٰ درجہ کا شاعر اور خوش مزاج پایا‘‘۔ صحافی و قلمکار وجیہ احمد اندرابی نے کہا کہ مرحوم نے اپنی زندگی میں کافی پیچ و خم دیکھے اور انہوں نے اس کو صفحہ قرطاس پر بھی اتارا۔وجیہ احمد اندرابی نے مرحوم کو ایک پرکشش انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اعلیٰ پایہ کے شاعر تھے۔ قلمار ڈاکٹر اشرف آثاری نے مظفر ایرج کو ایک با صلاحت شاعر اور ایک زندہ دل انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ریاست اور ملک کے رسالوں میں مظفر ایرج پر کئی گوشے شائع ہوئے ہیں،جن میں برصغیر کے نامور اور معروف قلمکاروں نے لکھا ہے۔