زرہامہ(کپوارہ)+سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی بی جے پی کے’’خطوں ، مذہب اور طبقوں کو ایک دوسرے کے خلاف تقسیم‘‘ کرنے کے بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ اتوار کو محبوبہ نے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکز جموں وکشمیر میں حد بندی میں’’ عجلت پسندی اور دبائو ‘‘سے کام لے رہا ہے جس سے اس مشق کے محرکات کے بارے میں شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے تحریر کیا ’’عجلت پسندی کے ساتھ حکومت ہند کی جانب سے جموں کشمیر میں حد بندی میں دباء نے اس مشق کے مقاصد کے بارے میں حقیقی اور سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے،یہ بی جے پی کے ایک دوسرے کے خلاف علاقائی، مذہب اور فرقوں کو تقسیم کرنے کے بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے‘‘۔گذشتہ سال 6 مارچ کو مرکز نے جموں و کشمیر کے لئے حد بندی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ ادھرکپوارہ میں اپنے قیام کے دورسے روز زرہامہ ترہگام میںمحبوبہ مفتی برزلہ میں مارے گئے پولیس اہلکارمحمد یوسف بجا ڑ کے گھر گئی اور متا ثرین سے اظہار ہمدردی کیا ۔انہو ں نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمو ں و کشمیر میں گزشتہ 30برسوں کے دوران ہزارو ں نوجوان مارے گئے ہیں لیکن مرکزی سرکار ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ گزشتہ سال چین، ہمارے علاقہ میں گھس آیا اور ہمارے 20سے زیادہ جوانو ں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا لیکن اس کے با جود بھی چین کے ساتھ کئی بار بات چیت کا راستہ اپنا یاگیا اور آج مسئلہ کا حل نکل آیا ۔انہو ں نے کہا ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان بات چیت کا راستہ اپنا کر مسئلہ کشمیر کا حل نکالیں کیونکہ جمو ں وکشمیر ہندوستان اور پاکستان کے بیچ جنگ کا اکھاڑا بن گیا ہے اور یہا ں دونو ں طرف لوگ مر رہے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ ہمارے پولیس اور عام شہری مارے جاتے ہیں جبکہ سیکورٹی فورسز کے لوگ بھی مر رہے ہیں ۔انہو ں نے کہا جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں نہ ہی بندوق سے کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے، چاہیے وہ بندوق ملی ٹنوںکی ہو یا سیکورٹی فورسزکی ہو ۔