یو این آئی
تل ابیب//اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلا۔ جب نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس جنگ میں دھکیلا تو اسرائیلی وزیراعظم ہنس پڑے۔انہوں نے جواب دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین رہنما ہیں۔ وہ وہی کرتے ہیں، جو ان کے خیال میں امریکہ کے لیے ٹھیک ہوتا ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ کبھی کبھی ایسے لوگوں سے حفاظت کے لیے جنگ ضروری ہوتی ہے جو ہمیں تباہ کر سکتے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر اسرائیلی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ تہران کی حالیہ جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے وہ مہینوں کے اندر اندر اس قابل ہو جاتا کہ اسے روکنا ناممکن ہو جاتا۔جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے جوہری مقامات کو نشانہ بنانے والے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فضائی حملوں کے باوجود نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایرانی فوجیوں اور تکنیکی ماہرین نے زیر زمین بنکرز سمیت نئی تنصیبات بنانا شروع کیں، جہاں وہ بیلسٹک میزائل اور ایٹم بم تیار کر سکتے تھے۔اسرائیلی وزیراعظم نے بتایا کہ اگر اب کوئی ایکشن نہ لیا جاتا تو مستقبل میں کوئی ایکشن نہ لیا جا سکتا۔واضح رہے کہ ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔