فلمی اور ڈرامائی چیزیں دو طرح سے پیش کی جاتیں ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہوتا ہے کہ سارے کردار اور سارے واقعات اور متعلقہ چیزیں حقیقی ہوتی ہیں، اور نیک مقاصد کے لیے انہیں فلمایا جاتا ہے۔اسلامی ادب اور ذرائع ابلاغ میں یہ مقبول ہے۔دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ تخیلاتی فکرہ پر صالح مقاصد کے لئے پورا منظر، کردار اور دیگر چیزیں مرتب کرکے اسے فلمایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بھی اسلامی نقطہ نظرسے ادب و ذرائع ابلاغ میں مقبول ہے۔ ارطغرل دراصل ان دونوں کا مجموعہ ہے۔ صالح مقاصد کے حصول کیلئے کچھ حقیقی اور تخیلاتی واقعات کو فلما کر پیش کیا گیا ہے ۔ آپ جب ارطغرل دیکھیں گے تو پائیں گے کہ ناامیدی کے اس ماحول میں ارطغرل ڈرامہ ایک امید افزا تاریخی کارنامہ ہے ۔
ترکی کے مسلمانوں پراثر:
ترکی کی اسلامی پہچان ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔تین براعظموں پر پھیلی ہوئی خلافت عثمانیہ کے چھ سو سالہ دور کا مرکز ترکی رہا ہے۔اس خلافت کے خاتمہ کے بعد مصطفی کمال نے ترکی سے اسلام اور اسلام سے متعلق ہر چیز کو کھرچ کھرچ کر نکالنے کی کوشش کی۔ اسلامی ثقافت اور اسلامی امتیاز کی ہر چیز پر وہ حملہ آور ہوا۔ایسی ظالمانہ پالیسیاں بنائیں کہ جس کی رو سے حجاب، اذان، اسلامی ادارے اور عربی رسم الخط کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر پابندی لگا دی گئی اور اسی کے ساتھ ساتھ عوامی زندگی سے عثمانی خلافت کے اثرات اور یادیں مٹانے کی مکمل کوششیں ہوئیں۔عثمانیوں کو یاد کرنا بھی گویا جرم بن گیا تھا۔ایک بار نجم الدین اربکان نے اسکول میں بچوں سے عثمانی خلافت پر ایک ڈرامہ پیش کروایا، جس کی وجہ سے انہیں جیل بھیج دیا گیا لیکن آج اسی ترکی میں مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت اور ترکی کے مسلمانوں کے مثالی آباء اجداد پر نہ صرف یہ کہ ایک مثبت پیغام دیتا ہوا ڈرامہ بنا بلکہ اس سیریز نے کامیابی، مقبولیت اور اثر پذیری کے ترکی میں سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ایک صحافی’’فارن پالیسی جرنل‘‘میں لکھتے ہیں کہ ’’میں جب استنبول گیا تو میں نے دیکھا کہ عثمانیوں اور ان کی تاریخ کے تعلق سے لوگ مثبت رائے کا اظہار کررہے ہیں، ان میں یونیوسٹی کے طلبہ، ہوٹل اسٹاف، ٹیکسی ڈرائیورز، ریسٹوران کے ویٹرز اور عام دوکاندار تھے،یہاں تک کہ اردوغان کے سخت مخالفین کو بھی مثبت رائے کا اظہار کرتے سنا‘‘۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ ایک ایسے ملک ،جس میں عثمانیوں پر اسکول میں صرف ایک ڈرامہ پیش کرنے پر جیل ہوجاتی ہو، میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت کے بانیوں پر ایک کامیاب سیریز بنا کر عام کردینا اور ایک مثبت رائے عامہ تیار کردینا کیا اپنے آپ میں ایک کامیابی نہیں ہے؟۔ جس ملک میں اسلامی شناخت اور اسلامی طرز زندگی ایک جرم ہو وہاں اسلامی روایت و اقدار پر مبنی کرداروں پر ایک ڈرامہ بنا کر لوگوں کے ذہنوں کو بدل دینا خود ایک کارنامہ نہیں ہے؟
مغربی میڈیا کا رد عمل:
اس ڈرامہ کی بے پناہ کامیابی اور حیرت انگیز مثبت اثر پذیری سے مغربی میڈیا کو تو تاثر لینا ہی تھا۔آخر وہ یہ بات کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ جس ذرائع ابلاغ کے استعمال سے آج تک ہم مسلمانوں کے خلاف نفرت اور جھوٹ پھیلاتے رہے، اسی کا استعمال کرکے ہماری مکاریوں، عیاریوں، اور ظلم و زیادتیوں کو دنیا کے سامنے پیش کردیا گیا، جس کا اثر خود عیسائی عوام تک لے رہی ہے۔ آخر انہیں یہ بات کیسے برداشت ہوسکتی ہے کہ ہم نے ڈراموں اور فلموں کی کامیابی کا جو معیار بنایا ہے وہ یہ ہے کہ فحش گانے، فحش مناظر، فحش کردار ہی سے فلمیں اور ڈرامے لوگوں میں مقبول ہوسکتے ہیں، لیکن ارطغرل سیریز نے ان سب کے بنا نہ صرف میدان مار لیا بلکہ یہ رجحان بھی قائم کردیا کہ فحاشی کے مناظر کے بغیر بھی سیریل بنا کر کامیابی سمیٹی جا سکتی ہے۔نیویارک ٹائمز میں 14مئی 2017 کو شائع ایک مضمون میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ارطغرل کے ذریعہ ترکی میں ماضی کو زندہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح انگریزی خبروں کی ویب سائٹ Fanack نے کہا کہ یہ سافٹ بم ہے جو لوگوں میں عثمانیوں کو زندہ کررہا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ماضی کو زندہ کرنے کا طعنہ دینے والی دنیا بھر کی یہ منافق میڈیا اس وقت بہت بغلیں بجاتی ہے جب مسلمانوں کے ماضی کی غلط ترجمانی کرتی ہوئی یا مسخ شدہ مسلم تاریخ پر کوئی فلم یا ڈرامہ بنتا ہے، جیسا کہ 2012 میں عثمانی خلیفہ سلیمان پر ایک فلم Ottoman era, Sex And City کے نام سے بنی تھی جس میں، عثمانی خلیفہ سلیمان کو شہوت پرست اور عورتوں کا رسیا انسان دکھایا گیا تھا، اور جب اردوغان نے اس کی پرزور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ’’ہم جس سلیمان کو جانتے ہیں اس کی زندگی تیس سال گھوڑے پر گزری ہے، سلیمان وہ نہیں جو تم نے سیریل میں دکھایا ہے‘‘تو اس پر مغربی میڈیا نے اردوغان کو قدامت پسند کہہ کر اپنا دامن جھاڑ لیا تھا لیکن جب ارطغرل جیسا نظریہ ساز، صالح اور حقیقی روایات و اقدار پر مبنی، نیک مقاصد کے حصول کے لیے ایک بہترین ڈرامہ بنایا گیا جس میں مسلمانوں کی شبیہ صاف ستھری دکھائی گئی تو یہی مغربی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔یہ لوگ ہمیں ہمارے ماضی سے بدظن کردینا چاہتے ہیں، ہمیں ہمارے اس ماضی کو یاد کرنے پر طعنے دیتے ہیں جس ماضی سے خود انہوں نے روشنی حاصل کی ہے۔یوروپ اور مغرب اپنے ماضی کو یاد نہ کرے تو بات سمجھ میں بھی آتی ہے،کیونکہ ان کا ماضی سیاہ ہے، وہاں ظلم ہے اور جہالت ہے لیکن ہم کیوں اپنے ماضی سے کٹ جائیں، ہمارا ماضی تو تابناک ہے، عدل و انصاف کی بہترین مثالیں ہمارے ماضی میں موجود ہیں، علم و ہنر و فکر و فن سے ہمارا ماضی روشن ہے. لہٰذا اپنے ماضی سے کٹے وہ جس کا ماضی "عہد ظلمت" کا گواہ ہے ہم مسلمان اپنا ماضی کیوں بھلائیں؟
ترکی میں بھی بعض لادین اور اسلام دشمن میڈیا ہاؤسز نے ارطغرل سیریز کو نیچا دکھانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔اسی طرح سعودی عرب میں بھی اس پر پابندی لگائی گئی ۔
ارطغرل سیریز کے مثبت نتائج:
اس ڈرامہ کا اثر عیسائیوں پر بھی پڑا ہے۔ ایک عیسائی نے میڈیم نامی بلاگ پر ارطغرل پر تبصرہ لکھا ہے جسے میں نے خود پڑھا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ارطغرل دیکھنے کے دوران ہی مجھے ان عیسائی مجرموں سے نفرت ہونے لگی جو زبردستی مسلم علاقوں میں گھس جاتے تھے اور وہاں فساد پھیلاتے تھے، اپنے مفاد کے حصول کے لیے مسلمانوں کے درمیان دشمنیاں پیدا کرتے تھے۔اسی طرح ارطغرل میں اسلامی اقدار و روایات کی ایسی بہترین ترجمانی کی گئی ہے کہ ارطغرل دیکھنے کے بعد اسلام سے متاثر ہو کر ایک میکسیکن جوڑے نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ خبر ترکی کے معتبر نیوز ویب سائٹ Yani Safak پر موجود ہے۔ ہندوستان کے بعض اردو اخباروں میں بھی یہ خبر شائع ہوئی تھی۔
اس کے مثبت اثرات پوری دنیا کے مسلمانوں پر بھی پڑے ہیں۔ہندوستان اور پاکستان کے بہت سے مسلم نوجوانوں کے ایسے تبصرے کثرت سے پڑھنے کو ملے جن میں وہ کہہ رہے ہیں کہ "ہم اب تک بیکار ہی میں شاہ رخ اور سلمان کی فلمیں دیکھ رہے تھے، ہمارے پاس تو ہمارا اپنا ہیرو بھی ہے، جو ہم میں ایمانی جذبے کو ابھارتا ہے اور حق کی راہ میں ہمیشہ جدو جہد کرنے کا جذبہ دیتا ہے۔
ارطغرل سیریز میں عورتوں کو ہندوستانی اور پاکستانی ڈراموں کی طرح روتے دھوتے نہیں دکھایا گیا ہے، بلکہ ارطغرل سیریز کی عورتوں کو طاقتور، اور جدو جہد کے جذبے اور مصیبتوں کا سامنا کرنے کی ہمت سے بھرپور دکھایا گیا ہے۔بار بار صبر کی تلقین اور برے حالات میں عورتوں کے سر نہ پیٹنے کا جو منظر دکھایا گیا ہے، اس سے ہمارے معاشرے کی عورتیں خصوصا ہماری بہنیں ضرور سبق حاصل کریں گی۔
ارطغرل میں بار بار یہ بات کہی جاتی ہے کہ جدو جہد ہماری، اور فتح اللہ کی۔ اس سے لاشعوری طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم کوشش اور محنت کے مکلف بنائے گئے ہیں، نتیجہ کی ذمہ داری ہماری نہیں بلکہ اللہ کی ہے۔آخری دم تک کوشش کرنے اور امید نہ چھوڑنے کے پیغام کو بہت خوبصورتی سے اس سیریل کے ذریعہ پہنچایا گیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ "اگر قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوجائیں اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہو اور وہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے اسے لگا سکتا ہے تو ضرور لگائے" ۔اس حدیث میں مایوس نہ ہونے اور نتیجہ کی طرف سے یکسو ہو کر محنت پر توجہ دینے کی جو ترغیب ہے اسے ارطغرل سیریز کے ذریعہ کروڑوں ذہنوں میں اتار دیا گیا ہے، جس کی زخمی امت کو شدید ضرورت ہے۔
اسی طرح اس سیریل کا بہت مؤثر اور اقدام پر ابھارنے والا ایک جملہ ارطغرل کی زبان سے ادا ہوتا ہے، جملہ ہے کہ’’گیدڑوں کی بادشاہت صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک شیر اپنے پاؤں پر واپس نہ آجائے‘‘۔ اس جملہ میں سو فیصد سچائی ہے، حق نے جس جس میدان سے اپنے قدم پیچھے ہٹا لیے ہیں، ہر اس میدان میں باطل نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے میدان کو ہی دیکھ لیجیے، ہماری موجودگی، ہماری فعالیت یہاں بالکل نہ ہونے کی وجہ سے باطل نے جس طرح چاہا ویسا ہی بناکر ہمیں دنیا کے سامنے پیش کردیا اور ہم مقابلہ تو کیا کرتے، اپنا دفاع تک نہ کر سکے۔
اس سیریل میں موت سے بے خوفی، دنیا سے بے رغبتی، شہادت کا جذبہ، بہادری و جرات مندی، حکمت و دانائی، منصوبہ بندی اختیار کرنے کی دعوت، دھوکہ بازی اور حسد و کینہ سے پرہیز، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، جذباتیت سے گریز اور خواتین اسلام کے اندر صبر و شکر کا جذبہ پیدا کرنے کی جہاں تعلیم دی گئی ہے، وہی اسلامی نقوش پر بچوں کی تربیت اور آخری دم تک ہمت نہ ہارنے کی صفت سے آراستہ ہونے کی تلقین بہت موثر انداز میں کی گئی ہے۔ اس سیریل میں آنے والے نسلوں کی پرورش اس طرز پر کرتے دکھایا گیا ہے کہ ان میں قوم کی فکر پیدا ہو اور وہ اپنی قوم اور انسانیت کے مخلص رہنما بنیں۔ یہ سیریل تعلیم دیتا ہے کہ زندگی کو با مقصد بنایا جائے، اس مقصد کے حصول کے لیے جی توڑ کوششیں کی جائیں، سخت سے سخت حالات میں قدم پیچھے نہ ہٹایا جائے اور مقصد کے حصول کے لیے زندگی گزار دی جائے۔
ان سب کے باجود جس طرح دنیا میں کوئی بھی چیز پرفیکٹ نہیں ہوتی ،اسی طرح یہ ڈرامہ بھی پرفیکٹ نہیں ہوسکتا۔ غلطیاں تو بہرحال ہوں گی لیکن اس کی برائیوں پر اس سیریز کی اچھائیاں پوری طرح غالب ہیں۔ ارطغرل دیکھئے، اچھائیوں سے سیکھئے، اور اسے منتقل کیجئے۔