جموں// کثیر اللسانی ادبی تنظیم ادبی کُنج جے اینڈ کے جموں کے زیر اہتمام اِس کے ادبی مرکزکڈذی سکول تالاب تِلّوجموں میں گذشتہ روز ایک خاص ادبی نِشست کا اہتمام ہوا۔ جِس کی صدارت کے فرا ئض پنجابی زبان کے نامور شاعر سردار ہرجیت سنگھ اُپل نے انجام دئے ۔ جبکہ ٹیلنٹیڈ رائٹرز فورم جے اینڈ کے کے صدر و جواں سال شاعر سٹار جی سنگھ مہمانِ خصوصی تھے۔ نِشست کی نِظامت کے فرائض اُردوُوگوجری کے جانے پہچانے شاعرمحمّد سرور چوہان حبیٖب ؔ نے انجام دِئے۔ اِس موقعہ پرنِشست کے نثری دور میں تنظیم کے صدر شام طالب ؔنے اپنا ایک آرٹیکل ’ ا ٓزادی و مہاتما گاندھی ‘ اور پنجابی زبان میں طنز و مزاح میں اپنی ایک تخلیق ’غلط فہمی‘ پیش کی۔ تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ نے ایک مضمون ’سنگھرش‘ اور ایک ڈو گری کہانی ’شرادھ‘ کے عنوان سے پیش کی۔ شعری دورکے شعراء اور اُن کے کلام کے کُچھ نقوش اِس طرح ہیں۔سرور چوہان حبیٖبؔ کی گوجری نظم تھی، ’کھا گے بھانڈا بھّن گیا وے، کھا گے منو من گیا وے۔چرنجیت سنگھ چنّ کی نظم تھی، آجکل ہر شے کے مہنگے دام ہیں، ہم نہیں کہتے یہ چرچے عام ہیں۔بِشن داس خاکؔ کی غزل تھی، سرحدیں کِس لئے، فاصلے کِس لئے ، زہر نفرت کادِل میں پلے کِس لئے۔راج کمل کی پنجابی غزل تھی۔ اِنج کیٖتا بھری محفل چ تیرے پیار دا چرچا،کوئی مالی جیویں کردا گُل و گُلزار دا چرچا۔ آرش ؔدلموترہ کی غزل تھی دِل میں پالیّ حسد ونفرت کو صُبح شام ، اُس کو کیا ہے ادب و ثقافت سے بھلا کام۔شام طالبؔ کی غزل تھی آئیٖنوں میں دھوُل بہُت ہے،چہرہ چہرہ بھوُل بہُت ہے ۔ایک پنجابی نظم ’ادبی کُنج بنام شام طالبؔ ‘ چئیرمین آرشؔ دلموترہ نے سُنائی۔ یہ نظم ادبی کُنج جموں کے ہر دِل عزیزدیرینہ ساتھی پنجابی و اُردو شاعر اوتار سنگھ چندنؔ مرحوم (سرینگر) کی تحریر کردہ ہے ، جِسے اُنھوں نے ادبی کُنج جموں کے یومِ تاسیٖس (1997ء) کی تقریب میں پیش کیا تھا اورجسے اُس وقت بھی بے حد سراہا گیا تھا۔ِنشست کے اِستقبالیہ خُطبے میں آرشؔ دلموترہ اورشام طالب ؔ اور دیگر ان نے راشٹر پِتا مہاتما گاندھی ، مُلک کے دوُسرے وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور جموں کی ایک سماجی سوچ و فِکر رکھنے والی شخصیّت لالہ ہنسراج کے یوُمِ ولادت پر اُن کی زندگی کے اہم پہلوؤں اور نُمایاں کردارکی اہمیّت پر خاص چرچا کِیا ۔ نِشست کا اِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔