سال ۲۰۰۵ء ’’ادارۂ فلاح الدارین ‘‘بارہمولہ کشمیرکی ایک اہم نشست درسگاہ تعلیم القرآن محلہ میرصاحب بارہمولہ میںمنعقدہوئی۔ اس میںکئی امورات کے علاوہ خواتین میں دینی کام کرنے کی تجویز بھی زیر غورآئی۔ اس بابت فیصلہ لیاگیا کہ خواتین میںاسلامی بیداری اور ذہنی وفکری تربیت کے لئے طالبات کے’’ ادارۂ بنات الزہرہ ‘‘بارہمولہ کشمیرسے تعاون طلب کیاجائے گا تاکہ مسلم بچیاں اسلامی اقدار واصاف کی تعلیم وتدریس سے مستفیض ہوں۔ مسلم معاشرے کو اس کی ضرورت ہمیشہ رہی ۔ سیرت پاکؐ کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ دور ِ نبوی ؐمیںمسلمان خواتین اپنے مخصوص دائرہ کار میں بہر طور فاعل و عامل رہتیں۔ حدیث کے مشہور عالم امام زہریؒ نے جب قرآن کے ایک بڑے عالم قاسم بن محمدسے حصول علم کی خواہش ظاہرکی تو انہوںنے کہا کہ عمرہ بنت عبدالرحمن کے حلقہ میںشامل ہوجائیں ۔عمرہؒ اس وقت کی ایک مشہورفقیہ تھیں،امام زہری کے حلقہ میں شامل ہوئیں۔ انہوںنے عمرہ کو’’علم کاایک لامحدود خزانہ‘‘کہا۔یونانی اوررومن تہذیبوںمیںکوئی ایک بھی مشہور خاتون فلسفی یاقانون دان نہیںگزری۔ اسی طرح ۱۷۰۰ء تک یورپ ایک بھی خاتون سوشل ورکر، سیاسی رہنما یاقانون دان پیداکرنے میںناکام رہا۔ اس کے برعکس اسلام نے خواتین کی صنفی خصائص کو مدنظر رکھ کر انہیں اپنی فطری وطبعی میلان کے ہرمیدان میںآگے کیا۔ حضرت عمرؓ نے شفابنت عبداللہ کومدینہ مارکیٹ کاانسپکٹر مقررکیاتھا۔ابن حزم توراۃ کے ماہرتھے۔ان کامطالعہ بتاتاہے کہ عربوں،غیرعربوں سب میںخواتین زندگی کے معاملات میںمتحرک تھیںاوران کی زندگیاںبھی مردوں کی طرح تذکرہ میںمحفوظ ہیں۔ ابن ہشام کی سیرت النبیؐ میں بین السطور نظر آتا ہے کہ صحابیاتؓ دعوتی مہمات میں،غزوات وسرایا میں، بحوث و مباحثوں میںپوری طرح شریک رہتی تھیں۔ خواتین مسجد میںحاضر ہوتیںاورحدیثوں کی روایات میںشریک تھیں۔ابن سعدؒ نے ۷۰۰؍خواتین کے بارے میںذکرکیاہے،جنہوںنے روایت حدیث کے اہم کام میںشرکت کی۔حنبلی فقیہہ علامہ ابن تیمیہؒ اپنے اساتذہ میںدوخواتین کانام لیتے ہیں جن میں ایک خاندانِ رسول ؐ کی زینب اوردوسری نفیسہ ہیں۔ابن اثیرکاکہناہے کہ قرون وسطیٰ کی مسلم دنیامیں خواتین کی تعلیم کے بہت سے مواقع تھے۔ وہ بتاتے ہیںکہ خواتین پڑھ سکتی،کوالیفائی کرتی اور استادوں وعلماء کی طرح ہی ڈگری حاصل کرسکتی تھیں۔ جب تعلیم کارسمی آغاز ہوا،تو خواتین رسمی کلاسوں میںداخلہ لینے لگیں،اس کے علاوہ غیررسمی طورپربھی وہ لیکچروں میںمسجدوں ،مدرسوں، اورپبلک مقامات پرشریک ہوتیں۔ بارہویںصدی میںخواتین کی تعلیم میںاضافہ ہوا۔پندرہویںصدی میں السخاویؔ نے عالمات کے حالات پرایک کتاب تحریرکی،جس میںانہوںنے ۱۰۷۵خواتین کاذکرکیاہے۔ بہرحال اسی پاکیزہ فضا کو اپنے یہاں ترویج دینے کے لئے ادارہ نے اس جانب بروقت توجہ کی اور’’بنات الزّہرا‘‘ سے تعاون طلب کرلیا۔یہ ادارہ ’’ادارہ فلاح الدارین‘‘ سے نوسال پہلے یکم اپریل ۱۹۹۱ء محلہ ککرحمام( شہرخاص) بارہمولہ میں معرض وجود میں آیا۔امت کی زبوںحالی پرفکر منددرد منددل رکھنے والی چندخواتین اکھٹی ہوئیںاورمعاشرتی انتشاراورفکری یلغار سے نبردآزما ہونے کے لئے سرجوڑ کر تدارک کی راہیںتلاشنا شروع کیا۔نو ّے کی دہائی اہالیانِ کشمیر کے لئے ایک سیاہ رات ثابت ہوئی جس کی تاحال کوئی صبح نہیں،خوف ودہشت ،ماردھاڈ،لوٹ مار،قتل و غارت گری،بے چینی وبے اطمینانی اس دورکے تاحال عناصربنے رہے۔ ایسے حوصلہ شکن حالات میںامت کی ان غیور وبہادر بیٹیوں نے عزم وہمت توکل علی اللہ سے کام کاآغازکیا۔’’ادارہ بنات الزہرا‘‘کامقصدصنف نازک کوقرآن وسنت کے پیغام سے آگاہ کرانا،اسلامی بنیادوں پرقوم کے مستقبل کی تعلیم وتربیت اورغیراسلامی نظریات و باطل افکارکی جارحیت سے ان کومحفوظ ومامون رکھناہے۔ ان اعلیٰ وارفع مقاصد کے لئے ادارہ نے روزاول سے مختلف اجتماعات منعقدکرتارہتاہے۔عوامی ،علاقائی ،اجتماعات کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوںپر صباحی ومسائی درسگاہوں کاایک جامع نظام بھی نظم وضبط اور باقاعدگی سے چل رہاہے۔ان درسگاہوں میںجہاں ایک طرف ناظرہ قرآن وتجوید سکھلایاجاتاہے،وہیں احادیث نبویؐ،سیرت رسول ؐ،سیرت صحابیاتؓ ،سیرت اولیاءؒ اسلامی فقہ وغیرہ کی تدریس کابھی عمدہ انتظام ہے۔قصبہ بارہمولہ میں’’بنات الزہرا‘‘کے ۶۸درسگاہ کام کررہے ہیںجن میں۴۰درسگاہوں میںقرآن ناظرہ مع تجوید پڑھایاجاتاہے۔۱۵تفسیرکلاسز‘جن میںنوآموز وبالغ اسکول،کالج اوریونیورسٹی میںزیرتعلیم لڑکیاں قرآن کے مفاہیم ومطالب سے آگاہ ہورہی ہیں۔علاوہ ازیں پختہ عمر کی خواتین کی تعلیم وتربیت کے لئے بھی ۱۳؍خواتین کلاسز کام کررہی ہیں۔مزیدبراں ادارہ قصبہ بارہمولہ سے باہر، مضافات میںبھی اپنی سرگرمی جاری رکھے ہوئے ہے ،اس سلسلے میںسوپور،خواجہ باغ،چکلو،لڈورہ،نادی ہل اورجانبازپورہ قابل ذکرہیں۔ادارہ سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں واقعتا قابل رشک ہیں کہ مادیت کے اس دور میں اپنے قیمتی اوقات وقف کر کے اللہ کی یہ بندیاں ہردم متفکراورہرآن تیز گام ہوکر امت کی بیٹیوں کی ذہنی ودینی تربیت پر کمربستہ ہیں،بستی بستی ،گاؤں گاؤں میں محض اللہ کے لئے سرگرم عمل ہونے پر اللہ کے فرشتے ان پر رحمتیں برساتے ہوں گے۔احساسِ ذمہ داری رکھنے والی ان ہی بے لوث لڑکیوں کے شاید حوالے سے شاعرنے کہاہے ؎
کارِدین بعضے زنان شاید بہ ازمرداں کنند
دردلیری شیرِ مادہ بہترازشیرِ نَراست
(دین کاکام بعض خواتین شایدمردوںسے زیادہ بہترطریقے سے انجام دیتی ہیں۔مادہ شیر،نرشیرسے زیادہ بہادرہوتی ہیں)۔
’’ادارہ بنات ازلزہرا ‘‘علامہ اقبال ؔ کی اس فریادکی صدائے بازگشت ہے۔دین کے تئیں ان کی مساعی جمیلہ دیدکے قابل ہیں اوراہلیانِ قصبہ بارہمولہ کوان کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنے نونہالوں کوتربیت کے لئے ادارہ سے وابستہ کرلیناچاہیے۔۲۹؍اپریل ۲۰۰۵ ء کوادارہ فلاح الدارین کی طرف سے شہرخاص بارہمولہ کی تاریخی جامع مسجدمیں خواتین کے لئے سیرتی اجتماع کاانعقادکیاگیا۔ خواتین میںاصلاحی وتربیتی پروگرام کی یہ شروعات تھی۔ادارہ بنات الزہرا نے اس میں اپنابھرپورتعاون پیش کیا۔ تجربہ نیا تھا جسے اللہ کے فضل سے کامیابی ملی۔بنات الزہرا کی رپورٹ ڈائری کے مطابق اس پروگرام میںپانچ،چھ سوخواتین نے شرکت کی تھی۔ادارے کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ بنات الزہراکی فعال کارکنان فلاح الدارین کی دعوت پر دعوتی کاموں میں پہلے دن سے تعاون کرتی چلی آرہی ہیں۔ ہرماہ علاقائی پروگرامات میںخواتین کے لئے الگ سے پروگرام منعقدکیاجاتاہے اور بنات الزہرا اس میں اپنا بھرپورتعاون دے رہی ہے۔ عزم،ہمت،استقلال،ایثار اورہمدردی ان بیٹیوں کے اوصاف حمیدہ ہیں۔ ملت کی یہ بے لوث خدمت ایک د ن صبح ِنو کی نویدسنائے گی انشاء ا للہ،ظلمت ،چھٹ جائے گی اورفضا نورِ لاالٰہ سے جگمگائے گی ۔
رابطہ :ریسرچ اسکالرکشمیریونیورسٹی،سرینگر