راجوری//ایک اندازے کے مطابق راجوری میں ابھی بھی 30فیصدی لوگوں کے آدھار کارڈ نہیں بنے ہیں جس پر مقامی آبادی برہم ہے ۔مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر راجوری سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی اور ریاستی سرکار نے سرکاری مراعات حاصل کرنے کے لئے آدھار کارڈ کو ضروری دستاویز کے طور پر تولازم قرار دے دیا ہے جس کی ضرورت زندگی کے اکثر شعبہ جات میں پڑنے لگی ہے لیکن راجوری ضلع بھر میں ابھی تک صرف 70فیصدی لوگوں کے آدھار کارڈ بنے ہیں اور مزید تیس فیصد افراد ایسے ہیں جو اس اہم دستاویز سے محروم ہیں۔ راجوری کے مختلف مقامات سے آئے ہوئے لوگوں نے ڈی آفس پہنچ کر شکایت کی کہ ان کے آدھار کارڈ نہیں بن رہے اس لئے مختلف بلاکوں میں آدھار کارڈ مراکز قائم کئے جائیں تاکہ باقی ماندہ لوگوں کی مشکلات کا ازالہ ممکن ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ آدھار کارڈ سرکاری اور نجی اداروں میں بھی اب لازم ہوچکا ہے جس کی عدم دستیابی کی وجہ سے عام لوگوں سخت پریشان ہیں ۔ محمد سلطان ، جمال الدین اور محمد لطیف نے کہا کہ آدھار کارڈ کے جو مرکز قائم کئے تھے ،میں سے متعدد بند کردیئے گئے ہیں اور لوگ عملے کو تلاش کرتے پھرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ مزید مراکز کا قیام عمل میںلایاجائے ۔