جموں// سنجواں ملٹری سٹیشن پر ہوئے فدائین حملہ کے بعد فوج کی طرف سے شروع کردہ اوپریشن فلش آئوٹ پیر کی صبح ختم کر دیا گیاتاہم ارد گرد کے علاقوں میں ابھی بھی تلاشی مہم جاری ہے ۔پاکستان کو اس حملہ کیلئے براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتھارمن نے کہا کہ پڑوسی ملک کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔یہاں منعقدہ پریس کانفرنس میں تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حملہ آئوروں کا تعلق جیش محمد کے ساتھ تھا جنہیں پاکستان مقیم سرغنہ اظہر مسعود سپانسر کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ حملہ آئوروں کی تعداد 4بتائی گئی تھی لیکن ملٹری سٹیشن میں غالباً 3ملی ٹینٹ ہی داخل ہوئے تھے اور چوتھا صرف ان کے گائیڈ کے طور پر کام کر رہا تھا ، وہ گیٹ کے اندر نہیں آیا تھا۔ملی ٹینٹوں کو مقامی سپورٹ کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ملٹری سٹیشن جموں کے مضافاتی علاقہ میں سرحد سے قریب 30کلو میٹر کے فاصلہ پر قائم ہے ، نیم شہری گنجان آبادمتصل علاقہ اور ان کالونیوں کے آبادیاتی تناسب سے ملی ٹینٹوں کے مقامی اعانت کار ہونے کا امکان ہے ‘ ۔وزیر دفاع نے کہا کہ ممکن ہے جیش محمد کے فدائین نے کچھ عرصہ قبل دراندازی کی ہو اور حملہ سے قبل وہ اپنے مقامی اعانت کاروں کے پاس رہے ہوں۔ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ملی ٹینٹوں کو سرحد پار سے کنٹرول کیا جا رہا ہے ،ثبوتوں کو این آئی اے مشاہدہ کر رہی ہے اور عنقریب ہی مفصل رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں نے ایک ایسے سٹیشن کو حملہ کیلئے منتخب کیا جہاں فوجی اور ان کے کنبے بھی رہائش پذیر تھے۔فدائین حملوں کے خدشات کے پیش نظر الرٹ جاری کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں سریع الحرکت ٹیمیں فوری طور پر ایکشن میں آگئیں جس کے نتیجہ میں زیادہ نقصان نہ ہوسکا۔