تھنہ منڈی// تھنہ منڈی کے تیس سال قدیم پرائمری ہیلتھ سینٹر کا درجہ بڑھانے میں سرکار تاحال ناکام ہے۔تحصیل تھنہ منڈی کی آبادی ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جسکے قرب میں ایک معروف زیارت حضرت بابا غلام شاہ ؒ کی زیار ت موجود ہے۔ اسکے علاوہ تھنہ منڈی کے بیچوں بیچ تاریخی مغل شاہراہ گزرتی ہے جسکی وجہ سے تھنہ منڈی کو مرکز کا درجہ حاصل ہے۔لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے 1990 میں پرائمری ہیلتھ سنٹر قائم کیاگیا جسکا درجہ تیس سال گزرنے کے باوجود نہ بڑھایا گیا۔تھنہ منڈی کے گردو نواح میں 5 پرائمری ہیلتھ سنٹرہیں جن میں سٹاف کی عدم موجودگی کی وجہ سے تمام مریضوں کا رخ تھنہ منڈی PHC کی طرف رہتا ہے۔ یہاں پر روزانہ مریضوں کی تعداد لگ بھگ 200 ہوتی ہے۔ پرائمری ہیلتھ سنٹر تھنہ منڈی کو 24/7 چلانے کے لئے ڈاکٹر اورنیم طبی عملہ درکار ہے۔ اس ہسپتال میں حاملہ خواتین کی زچگی عملانے کے لئے کوئی سہولت فراہم نہیںاور لیڈی ڈاکٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے حاملہ خواتین کو 20 کلو میٹر دور ضلع شفا خانہ راجوری منتقل کیا جاتا ہے۔تحصیلدار تھنہ منڈی نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری، ڈائریکٹر ہیلتھ جموں اور کمشنر سکریٹری ہیلتھ جموں کشمیر کو پرائمری ہیلتھ سنٹر کا درجہ بڑھانے کی سفارش کی تھی جس پر تا حال کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ تحصیلدار تھنہ منڈی کے مطابق تھنہ منڈی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور مغل روڑ پر واقع ہے۔۔پرائمری ہیلتھ سنٹر تھنہ منڈی کا درجہ بڑھانے کے لئے ایک حکم نامہ جاری ہوا ہے جس پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ تھنہ منڈی کی سماجی تنظیموں، سول سو سائٹی نے گورنر انتظامیہ جموں کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ PHC تھنہ منڈی کا درجہ بڑھا کر اس میں ڈاکٹروں کی اسامیاں اورنیم طبی عملہ فراہم کیا جائے تاکہ جدید دور میں بہتر طبی سہولیات فراہم ہو سکیں۔