وزیر داخلہ کیساتھ بیٹھیں گے اور سبھی ضروری مسائل پر آمنے سامنے گفتگو کرینگے:وزیراعلیٰ
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ 2026میں بھی انکاؤنٹرز ہو رہے ہیں، جو دفعہ 370کی منسوخی کے بعدملی ٹینسی کے خاتمے سے متعلق بی جے پی کے 2019 کے دعوؤں پر ایک بالواسطہ طنز ہے۔جی ایم سی جموں میںایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہ سلسلہ چلتا ہی جا رہا ہے۔ملی ٹینٹ مارے گئے، ٹھیک ہے، لیکن وہ آئے کہاں سے؟ اُدھم پور تک کیسے پہنچے؟ وہ وہاں کب سے موجود تھے؟ اور یہ سب کب تک چلے گا؟ ہمیں بتایا گیا تھا کہ 2019 کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا، لیکن اب 2026میں بھی یہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہا‘‘۔وہ اُدھم پور ضلع کے رام نگر جنگلات میں دو روزہ آپریشن کے دوران دو جیشِ محمدملی ٹینٹوں کی ہلاکت سے متعلق سوال کا جواب دے رہے تھے۔عمر عبداللہ نے مزید کہا، ’’اس کے برعکس، وہ علاقے جو 2014-15ے پہلے مکمل طور پرملی ٹینسی سے پاک تھے، اب وہاں ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔
تو پھر یہ ملی ٹینٹ اُدھم پور تک کیسے پہنچے؟ وہ وہاں کب سے موجود تھے؟ ہمیں کہیں نہ کہیں ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے ہوں گے‘‘۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مجوزہ تین روزہ دورۂ جموں و کشمیر سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس پر میڈیا میں بات نہیں کرنا چاہتے۔ ’’ہم آمنے سامنے بیٹھ کر بات کریں گے۔ کئی مسائل ایسے ہیں جن پر براہِ راست گفتگو ضروری ہے، اور ہم وہ کریں گے‘‘۔یونین ٹیریٹری میں کینسر کے بڑھتے ہوئے معاملات سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کینسر کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کی وجوہات کا تعین طبی ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری کے تحت تین اہم نکات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ’’پہلا، تحقیق و ترقی کے لیے فنڈنگ میں اضافہ اور مناسب انفراسٹرکچر کی تیاری۔ دوسرا، صحت کے نظام کو مضبوط بنانا تاکہ ریاستی کینسر ادارے مؤثر طریقے سے کام کر سکیں اور ڈاکٹروں کو بہتر سہولیات میسر ہوں‘‘۔انہوں نے کہا کہ تیسری ترجیح مالی طور پر کمزور طبقے کی مدد ہے، جن کے لیے مہنگی ادویات کے باعث کینسر کا علاج نہایت مشکل ہو چکا ہے۔انکاکہناتھا ’’حکومت ایسے مریضوں کے لیے ایک خصوصی پیکیج پر کام کر رہی ہے، جس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا‘‘۔