سرنکوٹ// تحصیل سرنکوٹ کے گاؤں ہاڑی محلہ عثمانی والا میںقائم کر دہ گورنمنٹ پرائمری سکول عثمانی والا کی عمارت منہدم ہونے کے 8برس بعد بھی دوبارہ سے تعمیر ہی نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے بچوں کو دیگر سرکاری سکولوں میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ 2000میں سرکاری سکول کو قائم کیا گیا تھا تاکہ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جاسکے تاہم 2006میں سکول کی عمارت کی تعمیر مکمل کی گئی تھی لیکن اس میں استعمال غیر معیاری مٹریل کی وجہ سے عمارت 2013میں منہدم ہو گئی ۔عمارت کے منہدم ہونے کے بعد بچوں کو گورنمنٹ سکول اعوانامیں جانے کو کہا گیا تاکہ عمارت کو دوبار ہ سے تعمیر کیا جاسکے لیکن گزشتہ آٹھ برسوں سے بچے دیگر سرکاری سکولوں میں کئی کلو میٹر کی پیدل مسافت طے کر کے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے پرائمری سکول کی عمارت کو دوبارہ سے تعمیر ہی نہیں کیا جاسکا ۔مکینوں نے بتایا کہ اس وقت کے زونل ایجوکیشن آفیسر نے موقعہ پر جاکر یقین دہانی کروائی تھی لیکن اس کے باوجود بھی چھوٹے چھوٹے بچے کئی کلو میٹر کی پیدل مسافت طے کرنے پر مجبور ہیں ۔والدین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ بالخصوص متعلقہ محکمہ ان کے بچوں کیساتھ کھلواڑ کررہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کئی مرتبہ اعلیٰ حکام سے رجوع کرنے کے باوجود بھی سکول جوں کا توں ہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں ڈی ڈی سی ممبر شاہنواز چوہدری کو اس سلسلہ میں ایک یادشات بھی پیش کی گئی ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری سکول کی جلدازجلد مرمت کی جائے تاکہ ان کے بچوں کی پریشانی حل ہو سکے ۔