ملک بھر میں اس وقت سیاسی ماحول چل رہا ہے،کیونکہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں۔اگرچہ ان پانچوں ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کافی دلچسپ معلوم پڑتے ہیں۔ لیکن پورے ملک کے نگاہیں اس وقت ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے اسمبلی انتخابات پر ہیں۔ اترپردیش کی چار سو تین اسمبلی سیٹوں میں سے اب تک مظفر نگر، باغپت، شاملی، ہاپوڑ، بلند شہر، میرٹھ، گوتم بدھ نگر، غازی آباد، امروہہ، سہارنپور، بجنور، رامپور، سنبھل، مراد آباد، بریلی، بدایوں، شاہجہانپور سمیت کل ایک سو تیراہ اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ ہو چکی ہے۔ لگ بھگ ایک ہزار دو سو نو لوگوں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہو چکی ہے، جس کا فیصلہ دس مارچ کو منظر عام ہوگا۔ یہ علاقے خاص طور پر جاٹ اور مسلم آبادی پر مشتمل تھے۔ جہاںمسلمان ریاست کی موجودہ برسراقتدار پارٹی کے منفی رول کےخلاف ہیںوہاں جاٹ بھی کسان قوانین کے سبب مخالف نظر آ رہے ہیں۔ کسان قوانین کے مظاہرہ کے دوران جب 3 اکتوبر 2021کو لکھیم پور کے تکونیا میں 8 لوگوں کو مارا گیا تھا،جس میں 5 کسان تھے۔ اُن پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے آشیش مشرا نے اپنے کچھ حمایتوں کے ساتھ جیپ چڑھا دی اور گولیاں بھی چلادیںتھیں۔ ایسا میرا نہیں بلکہ ملک کی ایس آئی ٹی ٹیم کا کہنا ہے، جو اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی پانچ سو صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں آشیش مشرا کو اہم ملزم قرار دیا ۔ ایس آئی ٹی کی پورٹ کے مطابق آشیش مشرا جائے وقوعہ پر ہی موجود تھا اور آشیش مشرا کے ہی ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ ویسے بھی اس معاملے کی ویڈیو منظر عام ہوئی اور پورے ملک نے اسے دیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ مرکزی وزیر ہونے کے باوجود اجے مشرا (ٹینی) کے بیٹے آشیش مشرا کو گرفتار کیا گیا اور انہیں جیل میں قید کیا گیا۔بہر حال دس فروری 2022 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے آشیش مشرا کو یہ کہتے ہوئے ضمانت دے دی کہ کئی لوگوں نے آشیش مشرا کو گولی چلاتے ہوئے تو دیکھا لیکن آشیش مشرا کی گولی کیسی فرد کو نہیں جا لگی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ سامنے لگی ہوئی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے گاڑی کے ڈرائیور نے اپنی گاڑی کی رفتار تیز کر دی، جس کے سبب یہ سانحہ پیش آیا۔لہٰذا 15 فروری 2022 کوآشیش مشرا ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔
جیسا کہ سب کو معلوم ہے اور تمام سروے میں بھی یہی دکھایا جارہا ہے کہ اُترپردیش کا مقابل ون ٹو ون ہے۔ یعنی یہ مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماجوادی پارٹی میں ہے۔ اور دیگر جماعتیں ووٹ کاٹنے کا کردار ادا کررہی ہیں۔ اگر ہم ماضی کے کچھ انتخابات کی بات کریں تو ہمیں یہ واضح طور پر معلوم پڑے گا کہ جب جب بی جے پی کا مقابلہ ون ٹو ون ہوا ہے، بی جے پی کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خواہ وہ ملک کی دارالحکومت دہلی ہو ،جہاں بی جے پی کا مقابلہ عام آدمی پارٹی سے تھا، یا پھر بنگال ہو ،جہاں بی جے پی کا مقابلہ ٹی ایم سی سے تھا۔ یا پھر مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ کی ہی بات کر لیں جہاں بی جے پی کا مقابلہ کانگریس سے تھا۔ اسی طرح جہارکھنڈ اور کیرالہ جیسے دیگر علاقوں کو بات کریں،وہاں بھی ون ٹو ون مقابلہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو خمیازہ بھگتنا پڑا۔ کیوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ووٹوں کو بانٹ کر ہی آگے بڑھ پاتی ہے۔شاید اسی وجہ سے ملک بھر میں اسکول و کالجز کیلئے ڈریس کوڈ کی تشکیل کی بات چل رہی ہےاور حجاب جیسے ہندوستانی روایتوں کو غزوہ ہند قرار دیا جارہا ہے۔
یو پی کی سیاست میں سب جانتےہیںکہ ریاست کے برہمن ناراض تھے اور ان کی ناراضگی کی ایک وجہ آشیش مشرا کی گرفتاری بھی تھی۔ اسی لئے اجے مشرا کو مودی کابینہ سے نہیں نکالا گیا۔ ریاست کے دو مراحل کے پولنگ کے بعد آشیش مشرا کو رہائی ملنے کی خاص وجہ برہمن کو خوش کرنا ہی بتائی جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ جو اجے مشرا ریاستی انتخابات کے تشہیر ی مہم میں نظر نہیں آ رہے تھے، وہ بیٹے کی ضمانت کے فیصلے کے بعد پارٹی کی تشہیر کرتے نظر آئیں۔ چونکہ دونوں مراحل میں زیادہ تر سیٹیں کسان اکثریت کی ہیں، اس وجہ سے بی جے پی کی مجبوری تھی آشیش مشرا کو جیل میں رکھنا تاکہ کسان خوش ہو جائے اور بی جے پی کو ووٹ دے اور جیسے ہی کسان اکثریتی علاقوں کی ووٹنگ کا دور ختم ہواتو آشیش مشرا جیل سے رہا ہوئے۔موجودہ وزیر اعلیٰ سمیت یوپی کی پوری کابینہ اور وزیر اعظم سمیت مرکزی کی پوری کابینہ یہ کہتے نہیں تھک رہے ہیں کہ ریاست میں جرائم کم ہو گئے ہیں۔سماجوادی پارٹی کے دور میں ریاست میں جرائم کا بول بالا تھا، جنگل راج تھا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن خود ان کی پارٹی کے لیڈران اگرجرائم میں ملوث ہوتے ہیں توکوئی فرق نہیںپڑتا ہے۔ جس کی سیدھی مثال ہمیں گزشتہ ماہ ملی ۔سوامی پرساد موریہ جب تک بی جے پی میں تھے تب تک وہ محفوظ تھے اور جیسے ہی وہ سماجوادی پارٹی میں شامل ہوئے، ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا گیا، ان کا کیس بھی پرانا تھا ۔گویا جرائم کی داستاں ہمیں برسرِ اقتدار پارٹی میں بھی ملتی ہے۔ اگر ہم ریاست کے باہر مہاراشٹر کی بات کریں تو ہمیں یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ کیسے دیویندر فڑنویس نے اجیت پوار کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور اجیت پوار کو پاک دامن بنا دیا۔ وہ بات الگ ہی ہے کہ اجیت پوار پاک دامن ہونے کے بعد دویندر فڑنویس کا ساتھ چھوڑ کر ادھو ٹھاکرے کے ساتھ حکومت بنا لی۔ یہی نہیں ہمیں بنگال انتخابات کچھ ایسا ہی دیکھنے کو ملا تھا جہاں ممتا اینڈ ٹیم کو قانونی کارروائی میں کافی پریشان کیا گیا تھا۔ لیکن ممتا کا ساتھ چھوڑ کر آئے شوبھیندر ادھیکاری کو کافی راحت ملی تھی۔ وہیں اگر ہم بات کرے بی جے پی مخالف لوگوں کی تو اعظم خان اور ان کا کنبہ ریاست میں سب سے اوپر ملے گا۔ جو کہ جیل کی ہوا کھانے پر مجبور ہے۔ وہ بات الگ ہے کہ ان دنوں اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم ضمانت پر ہیں،لیکن اعظم خان اور ان کی اہلیہ ابھی بھی جیل کی سلاخوںکے پیچھے پڑے ہیں۔ جبکہ اعظم خان یہ اُن کے کنبے کے کسی فرد کا جرم آشیش مشرا جیساصاف اور بڑا نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ آشیش مشرا کی حرکت تو سرگرم لوگوں نے دیکھی ہے۔ جسے جھٹلانا احمقانہ حرکت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اعظم خان کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ ان کی کوئی ویڈیو نہیں بازار میں آئی ہے جسےدیکھ کر ریاست کی عوام انہیں مجرم قرار دے دے۔ وہ بات الگ ہے کہ ریاست کی حکومت نے انہیں کئی کیسز میں ملزم بنا رکھا ہے اور جیسا ٹریٹمنٹ ان کے ساتھ چل رہا ہے ،جلد ہی وہ ملزم سے مجرم بن جائیں گے۔آج تک مرکزی سرکار نے ملک کی کئی ریاستوں کے اپنی تنظیم کے وزرا اعلیٰ ٰ کو تبدیل کیا، لیکن اُترپردیش کے وزیر اعلیٰ کو تبدیلی نہیں کیاگیا کیوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یہ بخوبی جانتی ہے کہ اس نے ریاست میں کوئی خاص کام نہیں کیا بلکہ کورونا اور کسان قوانین کے خلاف مظاہرہ کے وقت ریاست کو مزید پیچھے دھکیل دیا۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کے بعد کوئی اور ایسے مسلم مخالف چہرہ نہیں ملے گا جو ہندوؤں کو اپنے طرح کھینچ سکے۔
بہرحال ریاست میں ابھی دو ہی مراحل کے ووٹنگ ہوئی ہے۔ اور ابھی مزید پانچ مراحل کی ووٹنگ باقی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ معلوم ہوگا کہ آشیش مشرا کی ضمانت سے کتنا فرق پڑے گا۔ کیا براہمن اس سے خوش ہو کر بی جے پی کو ووٹ کرے گا یا پھر اس کے ناراضگی برقرار رہے گی۔ یا پھراکثریتی لوگوں کو خوش کرنے کیلئے حجاب جیسے مسائل کو اُجاگر کیا جائے گا، اور مسلم مخالف اقوال کو زور دے کر ہندوؤں کو اپنی جانب راغب کیا جائے گا۔ بہرحال ان سوالوں کے جواب میں زیادہ وقت نہیں بچا ہے کیوں کہ ریاست میں آخری مرحلہ سات مارچ کو ہے اور دس مارچ کو کھلی کتاب کی طرح ان سوالات کے جوابات اُجاگر ہوں گے۔
(لکھنؤ، اترپردیش،موبائل نمبر: +919125147115)