یوم شہدا ٔ پر ہڑتالی خراج کیوں؟

تیرہ جولائی ریاست کی تاریخ کا وہ دن ہے جس نے تاریخ اور تقدیر دونوں کو بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔88سال بیت چکے ہیں ۔ کئی نسلیں دنیا میں آئیں اور چلی بھی گئیں ۔وقت نے کئی کروٹیں بدلیں ۔کئی طوفان آئے اور گزرگئے ۔ کئی انقلاب آئے اوراپنے نقوش چھوڑ گئے لیکن تیرہ جولائی کوسرینگر کے سنٹرل جیل کے باہر پیش آنے والے اس واقعے کو نہ وقت اپنی گردشوں میں گم کرسکا اورنہ ہی نسلیں اپنے ذہنوں سے محو کرسکیںجب نہتے کشمیریوں نے ڈوگرہ فوجوں کی گولیوں کے آگے سینہ سپر کیا ۔ اس سے پہلے کشمیر کو ستر لاکھ نانک شاہی سکوں میں خریدنے والے حکمرانوں کے خلاف احتجاج اور ان کی طرف سے قتل عام کاکوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا ۔ بے بس اور لاچار کشمیری ہر ظلم ، ہر جبر اور ہر استبداد خاموشی کے ساتھ سہتے آرہے تھے ۔ ڈوگرہ فوجی لوگوں کو گھروں سے گھسیٹ گھسیٹ کر نکالتے تھے اور بیگار پر لے جاتے تھے ۔ کوئی کوئی ہی واپس اپنے گھر آجاتا تھا ۔ اکثر جبری مزدوری کرتے کرتے دم توڑ جاتے تھے اوران کی لاشیں بھی لواحقین کو نہیں ملتی تھیں لیکن ظلم جب حد سے گزر جاتا ہے تو ظالموں کا انجام قریب آجاتا ہے یہ فطرت کا قانون ہے اوراسی قانون کے تحت تیرہ جولائی کو اس تحریک کی بنیاد پڑی جس نے ڈوگرہ دور کا خاتمہ کرکے رکھ دیا ۔اس لئے ان شہیدوں کا درجہ تاریخ میں سب سے بلند اوربرتر ہے ۔
آ ج 88سال گزر چکے ہیں ۔ آج جو نسل جوانی کی دہلیز پر کھڑی ہے، اس کے پاس تاریخ کے اس باب کو سمجھنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔ نہ نصاب کی کسی کتاب میں اس بات کا کوئی تذکرہ ہے اورنہ ہی تاریخ کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوئی چاہت باقی بچی ہے ۔آج جو قوم کے رہبر اوررہنما ہیں، وہ اس روز ہڑتال کی اپیل کرکے لوگوں کو اپنے گھروں میں مقید رہنے پر مجبور کررہے ہیں ۔ گزشتہ تیس سال سے یہ سلسلہ جاری ہے اور آج تک کوئی یہ نہیں سمجھ سکا ہے کہ قوم کے اولین شہیدوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کا یہ طریقہ کیوں رائج کیا گیا ہے ۔ اس طریقہ کار کے نتیجے میں سرکار اور قومی دھارے کی کچھ جماعتیں کڑی سکیورٹی میں مزار شہدا جاکر شہداء کی تربتوں پر پھول چڑھانے اور فاتحہ پڑھنے کی رسم ادا کرتے ہیں لیکن عوام اپنے شہیدوں کا فاتحہ بھی پڑھنے سے محروم رہتے ہیں ۔اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ شہداء اور ان کی عظیم قربانی ایک بھولی بسری یاد بن کر رہ جاتی ہے بلکہ تاریخ کا وہ باب بھی ماضی کی قبر میں دفن ہورہاہے جس کو ان شہداء نے اپنے خون سے سیراب کیا تھا ۔ کوئی اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سمجھا سکتا کہ13جولائی 1931ء کو سرینگر سنٹرل جیل میں گولی کس نے چلائی تھی اور کیوں چلائی تھی ۔ اس کا پس منظر اور پیش منظر کیا تھا ۔اور اس قتل عام نے تاریخ پر کونسے اثرات مرتب کئے تھے ۔ 
یہ اُس وقت کی بات ہے جب دنیا کے نقشے پر نہ آج کا ہندوستان تھا اورنہ ہی پاکستان تھا ۔ ایک متحدہ ہندوستان تھا جس پر انگریز راج کررہے تھے ۔جموں و کشمیر ، لداخ ، بلتستان و شمالی علاقہ جات ایک الگ ملک تھا جسے امرتسر سمجھوتے کے تحت انگریزوں نے پنجاب کے حکمراں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک جنرل گلاب سنگھ کو پچہتر لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض زمین ، پیڑ پودو ں ، جانوروں اور انسانوں کے سمیت فروخت کردیا تھا ۔ انسانوں کو فروخت کرنے کا یہ دنیا کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا اور فروخت کرنے والی قوم اُس وقت دنیا کی مہذب ترین قوم کہلاتی تھی ۔ڈوگرہ حکمرانوں نے ریاست کی سرحدوں کو لداخ اور شمالی علاقہ جات تک پھیلا کر اسے ایک بڑا ملک بنایا تھا لیکن وہ آزاد حکمراں بھی نہیں تھے۔ ان پر انگریزوں کی نگرانی تھی کہ کہیں وہ ان کے مفادات کے خلاف کام نہ کریں ۔ چونکہ ریاست ایک خریدی ہوئی جائیداد تھی، اس لئے اس کے مالک انسانوں کے ساتھ غلاموں سے زیادہ بدتر سلوک کیا کرتے تھے ۔ان کی محنت کی کمائی ٹیکسوں کے ذریعے حاصل کرکے اپنے عیش و عشرت کے لئے استعمال کی جاتی تھی اور لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوتے تھے ۔ اکثر کشمیری سرما کے مہینوں میں پنجاب جاکر مزدوری کرتے تھے اور چند روپے کماتے تھے جس سے ان کے اہل و عیال کا پیٹ بھر جاتا تھا ۔اس غلامی سے پہلے کشمیرکے باشندے مغلوں ، پٹھانوں اور سکھوں کی غلامی میں جی رہے تھے ۔ چنانچہ صدیوں کی غلامی کے طویل دور نے کشمیری کو توڑ کر رکھ دیا تھا اور اس کے اندر غلامی سے نجات کی کوشش کرنے کی ہمت بھی باقی نہیں رہی تھی ۔صدیوں کی اس لاچاری نے 13جولائی کو کروٹ بدل دی ۔ ہمت اور عزائم جاگ اٹھے جس نے ایک ہمہ گیر ، منظم اور معتبر تحریک کو جنم دیا ۔اس لئے ان شہیدوں کا احسان ہر نسل کے سر پر ایک قرض ہے لیکن افسوس کہ جب ان کو یاد کرنے کا دن آتا ہے تو ہم اپنے گھروں میں ٹی وی پر نئے زمانے کی بے ہودہ فلمیں دیکھتے ہوئے دن گزار دیتے ہیں کیونکہ ہمارے آج کے رہبر ہمیں گھروں سے باہر نکلنے سے منع کرتے ہیں ۔
 ہڑتال احتجاج کی علامت ہے ، کسی بات کو مسترد کرنے کا علامتی اظہار ہے تو کیا ہم ہڑتال کرکے اپنے شہیدوںکیخلاف احتجاج کرتے ہیں یا ان کی قربانی کو مسترد کرنے کا علامتی اظہار کرتے ہیں ۔ہم کس کے خلاف یہ ہڑتال کرتے ہیں ۔ ان شہیدوں کی قربانی کے وقت کشمیر پر ہندوستان کی حکمرانی نہیں تھی ۔انہوں نے نہ ہندوستان کے خلاف لڑا تھا نہ اس کے حق میں ۔ انہوں نے کسی نظرئیے کے لئے بھی قربانی نہیں دی تھی ۔ کسی کے کہنے پر بھی نہیں ۔ اُس وقت کوئی لیڈر نہیں تھا ۔ شیخ محمد عبداللہ بھی اس وقت ایک عام نوجوان تھا ۔ اس لئے وہ قربانی بے لوث تھی ۔ صرف اور صرف اپنے وطن کو ایک جابر حکمراں کی غلامی سے آزاد کرنے کے لئے دی گئی قربانی تھی ۔ اس قربانی سے کس کو کیا اختلاف ہوسکتا ہے پھر ہم میں سے کوئی ان کی قبروں پر انہیں سلام کرنے کیوں نہیں جاسکتا ۔ ہڑتال شہیدوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کا کونسا طریقہ ہے ۔ اس ہڑتال سے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کرنے کا حق کیسے ہوسکتا ہے ۔ اس ہڑتال سے کس کو کیا فایدہ ہوسکتا ہے ۔ شہدائے کشمیر نے اس لئے قربانی نہیں دی تھی کہ کشمیری اپنا کاروبار بلا وجہ بند رکھیں اور گھروں میں مقید ہوکر رہ جائیں ۔ اگر یہ ہڑتال ہندوستان کے خلاف ہے تو اس سے ہندوستان کو کیا نقصان ہوتا ہے ۔ 
  لیڈروں کی ہڑتال اور سرکار کی پابندیاں کسی ایک فرد کو بھی مزار شہداء پر جانے اور شہیدوں کی فاتحہ خوانی کرنے نہیںدے رہی ہے ۔ ہمارے پہلے مزار شہداء میں سوئے ہوئے وہ معصوم جوشہادت کے وقت بھو کے بھی تھے اور ادھ ننگے بھی تھے اور جن کی آنکھوں میںصرف ایک خواب تھا کہ وہ وقت آئے جب کشمیر ی کو کوئی بیگار پر نہ لے جایا جاسکے ۔ جب کشمیری کے بدن پر پورے کپڑے ہوں اور وہ دل کھول کر بغیر کسی ڈر کے رو بھی سکے اور ہنس بھی سکے، انتظار کرتے ہوں گے کہ کوئی آئے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرے ۔انہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی تھی ،کوئی جرم یا کوئی گناہ نہیں کیا تھا، پھر کیوں اس دن جس دن ان کے جسموں کا گرم گرم خون اس سرزمین پر گرا ،سناٹا چھایا رہتا ہے ۔مزار شہداء پر چند ایک ٹولیاں چوروں کی طرح گلدستے ہاتھ میں لے کر آجاتے ہیں اور چلے جاتے اور جس وقت وہ آتے ہیں ،مزار شہداء کے ہر کونے پر ، مکانوں کی چھتوں پر اور شاہراہ پر قدم قدم پر سنگینوں سے لیس پولیس ، نیم فوجی دستے اور فوجی اہلکار ہوتے ہیں۔ اس قوم کو ہڑتالوں کا چسکہ لگ چکا ہے او ر اس کی زبان بھی کٹ چکی ہے ۔ اس لئے کوئی کسی لیڈر سے نہیں پوچھتا ہے کہ وہ ہڑتال کی اپیل کیوں کرتا ہے اور کوئی سرکارسے نہیں پوچھتا کہ وہ کرفیو کا سماں کیوں پیدا کرتی ہے ۔ کیا اس ایک دن کو گروہی اور شخصیتی سیاستوں سے مبرا نہیں رکھا جاسکتا تھا ۔ نہ میرواعظ جلوس نکالنے کی اپیل کرتے اور نہ گیلانی صاحب ۔ نہ سرکا پابندیاں عاید کرتی اور نہ کوئی کسی پر قدغن لگاتا ۔ لوگ آزاد ہوکر اپنے شہید وں کی تربتوں پر جاتے ۔ ان پر پھول نچھاور کرتے اور نئی نسل کے لئے اس تاریخ کی یاد تازہ کرتے ،جو اب فراموش ہورہی ہے ۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘