عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریبات کے پیشِ نظر سرینگر میں سکیورٹی کو ایک بار پھر انتہائی سخت کر دیا گیا ہے، اور اتوار کے روز شہر کے کئی علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف نے بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ ان کارروائیوں نے پورے علاقے کو ایک بار پھر مکمل سکیورٹی حصار میں لے لیا، جہاں زمینی گشت کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی کے لیے ڈرون کیمروں کا استعمال بھی تیز کر دیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سرچ آپریشنزمشترکہ نگرانی میں انجام دیے گئے جن میں سی آر پی ایف کے دستوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ تلاشیوں کا مقصد ممکنہ خطرات کا پہلے سے سدِّباب کرنا اور شہر میں 26 جنوری کے موقع پر تقریب کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانا تھا۔
سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے رہائشی علاقوں میں گھر گھر دستک دی، مکینوں کی شناخت کی تصدیق کی، اور متعدد گھروں، گلیوں اور رابطہ راستوں کی باریک بینی سے تلاشی لی۔ ساتھ ہی اہم چوراہوں اور تنگ گلیوں پر چیک پوائنٹس قائم کیے گئے، جہاں گاڑیوں اور راہگیروں کی سخت جانچ پڑتال کی گئی۔ دستاویزات کی تصدیق، تلاشی اور عمومی پوچھ گچھ اس آپریشن کا اہم حصہ رہی۔
اس بار سیکورٹی ایجنسیوں نے پائین شہر کے ان علاقوں میں ڈرونز بھی تعینات کیے جنہیں روایتی طور پر حساس اور انتہائی گنجان آباد سمجھا جاتا ہے۔ ڈرونز کی مدد سے اوپر سے نگرانی کی گئی تاکہ کسی بھی غیر معمولی نقل و حرکت یا مشتبہ سرگرمی کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔ اہلکاروں کے مطابق فضائی نگرانی زمینی ٹیموں کے لیے “ریئل ٹائم سپورٹ” کا کردار ادا کرتی ہے اور آپریشن کی افادیت کو دوگنا کر دیتی ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ تمام کارروائیاں سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے تحت اور اعلیٰ افسران کی نگرانی میں انجام دی گئیں، جبکہ یہ بھی کوشش کی گئی کہ شہریوں کو کم سے کم زحمت پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں بڑے قومی ایام سے قبل عام طور پر کی جاتی ہیں اور یہ محض احتیاطی تدابیر کا حصہ ہیں۔