ایجنسیز
دبئی// حوثی تحریک نے اسرائیل پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جو یمن سے جنگ کے آغاز کے بعد پہلا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتہ کی صبح داغا گیا میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی اسرائیل میں ’’حساس فوجی اہداف‘‘ کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق بئر سبع اور دیگر علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے، جبکہ جوہری تحقیقاتی مرکز کے قریب علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب حوثی باغی 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قابض ہیں اور ماضی میں سعودی عرب کے ساتھ جنگ میں بھی شامل رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق حوثیوں کی اس جنگ میں شمولیت بحیرہ احمر کے اہم تجارتی راستے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جہاں سے ہر سال کھربوں ڈالر کی تجارت گزرتی ہے۔ اس سے قبل بھی اسرائیل-حماس جنگ کے دوران حوثیوں نے جہازوں پر حملے کیے تھے، جس سے عالمی شپنگ متاثر ہوئی تھی۔دریں اثنا، اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے سخت ردعمل کی دھمکی دی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی جرائم کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق اراک اور یزد میں واقع تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر لانے پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں امن کے بعد یہ ممکن ہو سکے گا۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ اہم آبی گزرگاہ دنیا کی تیل کی بڑی ترسیل کا مرکز ہے۔ اقوام متحدہ کی اپیل پر ایران نے انسانی امداد اور زرعی سامان کی ترسیل کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ زمینی افواج بھیجے بغیر اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔جنگ کے باعث انسانی بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق ایران میں ہزاروں عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ایران اور لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اسرائیل، عراق اور دیگر علاقوں میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔