یادوں کے جھروکے سے

  گزرے  دنوں  کی  یاد   برستی  گھٹا  لگے
گزروں جو اس گلی سے تو ٹھنڈی ہوا لگے
قتیلؔ شفائی
مسلسل پانی کا قطرہ ٹپکنے سے تو پتھر میں بھی گڑھا بن جاتا ہے، گوشت وپوست کا انسان صدمات کی یلغار سے کیسے نہ ٹوٹے؟ بہرحال وقت گزرجاتا ہے کیونکہ وقت گزرنے کا ہی نام ہے اور عمر بھی گزر جاتی ہے کیونکہ عمر بھی گزرنے کا ہی عنوان ہے۔ خیر آگے بڑھتے ہیں۔ میں جب دسویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ہمارے اسلامیہ ہائی سکول راجویری کدل چ شہر خاص سری نگر میں ڈبیٹ سیکریٹری کے لئے چناؤ ہوا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ زمین کے اس خطے پر چناؤ وہی جیت لیتا ہے جو اس کے اہل نہیں ہوتا یا کسی کام کا ہوتا ہی نہیں۔ چنانچہ اس چناؤ میں بھی یہی ہوا، مجھے ووٹ زیادہ ملے اور میں جیت گیا اور ڈبیٹ سیکریٹری بنا۔ مجھے سکول والے اکثر صبح کی دعا (Prayer) کے بعد سٹیج پر بلاتے اور میں وہاں جمع طلبا میں مختلف موضوعات پر مختصر تقریر کرتا تھا۔ ایک دن مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مجھے ڈاکٹر بننے کی تمنا ہے۔ پھر زندگی میں آگے چل کر میں ڈاکٹر تو نہ بنا مگر ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھتا رہا۔ ڈاکٹروں کے خلاف میں کچھ زیادہ لکھ نہیں سکتا کیونکہ سب ڈاکٹر ایک جیسے نہیں ۔خیر وقت کے تھپیڑوں نے جب میرے انجر بنجر ڈھیلے کردئے اور میں ان کو ٹھیک کرنے ڈاکٹروں کے پاس جاتا رہا تو انہوں نے ان حصوں کو بھی سلامت نہیں چھوڑا جو درست تھے۔ یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آیا۔ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کی ٹانگ نیلی پڑگئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے کہا اس ٹانگ میں زہر پھیلا ہے، یہ کاٹنی پڑے گی، چنانچہ کاٹ دی گئی۔ کچھ وقت کے بعد اس شخص کی دوسری ٹانگ بھی نیلی پڑگئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے کہا اب اس میں بھی زہر پھیل گیا ہے، کاٹنی پڑے گی، چنانچہ کاٹ دی گئی اور اس کی جگہ پلاسٹک کی ٹانگ لگادی گئی۔ کچھ وقت کے بعد اس شخص کی وہ پلاسٹک والی ٹانگ بھی نیلی پڑگئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے غور سے دیکھا تو کہا اب سمجھ میں آیا اصل معاملہ کیا ہے، تمہاری دھوتی نیلی ہے اور اس کا رنگ کچا ہے اور یہی رنگ تمہاری ٹانگ پر لگ جاتا ہے۔میں نے ایک بزرگ سے سنا ہے کہ 1947ء سے پہلے رعناواری سرینگر کے ہسپتال، جسے اب نہرو میموریل ہسپتال کہا جاتا ہے، میں ایک انگریز ڈاکٹر ہوا کرتا تھا۔ اس کی خدمت خلق کے قصے آج بھی کسی کسی بزرگ کو یاد ہوں گے۔ اس بزرگ سے میں نے سنا ہے کہ ایک دفعہ اس شفاخانے میں ایک عورت داخل تھی جس کی چھاتی میں دودھ جم گیا تھا( کشمیری میں اسے’’وٹھ گژھن‘‘ کہتے ہیں) دودھ نہ نکلنے پر چھاتی تن جاتی ہے، عورت کے حلمے اندر کو دھنس جاتے ہیں۔ ایسا تناؤ بڑھ جانے پر چھاتی کی سوزش، شدید درد، بخار اور ورم وغیرہ جیسی علامات پید اہوجاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس انگریز ڈاکٹر نے اس عورت کے خاوند اور بھائی کو بلاکر اس عورت کی چھاتی چوسنے کو کہا مگر دونوں میں سے کوئی تیار نہ ہوا۔ پھر اس انگریز ڈاکٹر نے یہ کام خود کیا تھا اور وہ عورت ٹھیک ہوگئی تھی۔
میرے بچپن میں درگجن سرینگر میں ایک پنجابی ڈاکٹر ہوا کرتا تھا۔ اس کا نام ڈاکٹر مرزا تھا۔ وہ صبح سویرے ڈلگیٹ میں اپنی رہائش گاہ پر مریضوں کا مفت علاج کیا کرتا تھا۔ وہاں اس کا بہت رَش لگا رہتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے اپنی ماں نے کہا تھا کہ میں نے اللہ کی رضا کے لئے تمہیں لوگوں کے لئے وقف کردیا ہے۔ اب یہ بیٹا بھی ایسا لائق اور فرمان بردار تھا کہ اپنی ماں کی بات کی لاج رکھ دی تھی۔ تنخواہ کا اکثر حصہ غریبوں پر خرچ کیاکرتا تھا۔ شادی بھی نہیں کی تھی کہ شاید رات کو کوئی مریض آجائے اور بیوی کی موجودگی میں مجھے اٹھنے میں سستی ہو۔ پھر بہت بعد میں شادی کی تھی۔ مجھے بھی میرے والدین نے میرے بچپن میں ایک دن علاج کی غرض سے اس کے پاس لیا تھا۔
چلئے اب دنیائےادب کی طرف چلیں۔ جہاں تک مجھے معلوم ہےکشمیر کے معروف ادیبوں میں یہ مرزا عارفؔ بیگ صاحب تھے جو دینی مزاج کے آدمی تھے یا مرغوبؔ بانہالی صاحب ہیں جو ایسا مزاج رکھتے ہیں۔ باقی اس وقت کوئی میری نظر میں نہیں آرہا ہے یا یاد نہیں پڑرہا ہے جو ادیب ہو اور دینی مزاج کا ہو۔ ایک دن رحمان راہیؔ صاحب کا ایک انٹرویو ریڈیو کشمیر سے سنا جس میں وہ خود کہتے ہیں کہ جوانی کے ایام میں جب وہ کسی گاؤں میں بحیثیت استاد تعینات تھے تو پانچ وقت نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ دعا مانگتے رہتے تھے کہ اے خدا! مجھے بڑا شاعر بنادے۔ وہ بڑے شاعر تو بن گئے مگر خدا ہی جانے بڑے بندۂ خدا رہے کہ نہ رہے، کیونکہ جب خود انہوں نے انٹرویو میں اپنی نمازی ہونے کی جان کاری سامعین کو دی تو واقعہ کو ماضی سے جوڑ دیا تھا۔ بہرحال کن فیکون والے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں کہ ہر انسان کو توبہ وانابت کی توفیق عطا فرمائے اور راہ راست پر لائے ۔ دعا کرتا ہوں کہ احقر کو بھی توابین میں شامل رکھے۔ 
بہت پہلے کی بات ہے کہ کلچرل اکادمی والے معروف ادیبوں کی ’’شامیں‘‘ منایا کرتے تھے یا یوں کہیں کہ ایسی ’’شاموں‘‘ کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ براڈوے ہوٹل میں امین کاملؔ کی شام اور رحمان راہیؔ کی شام منائی گئی۔ ان ’’شاموں‘‘ میں ان ادیبوں سے سوال پوچھے جاتے تھے۔ جب رحمان راہیؔ صاحب کی شام تھی تو امین کاملؔ صاحب نے راہی ؔصاحب سے پوچھا کہ خدا پر ان کا یقین کیسا ہے؟ جہاں تک مجھے یاد ہے، راہیؔ صاحب نے کوئی واضح جواب دینے کے بجائے گول مول سا جواب دیا تھا۔ میں نے راہیؔ صاحب سے مائک پر آکر سوال کیا تھا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ادب کی کیا افادیت اور معنویت ہے،کیا یہ محض ذہنی عیاشی نہیں؟ اس کا بھی جہاں تک مجھے یاد ہے راہیؔصاحب نے گول مول ہی جواب دیا تھا۔
ٹینگ صاحب کے دور میں ٹیگور ہال میں رائیٹرس میٹ کا اہتمام کیا گیا۔ چائے وغیرہ کا اچھا خاصا انتظام تھا۔ ادیبوں میں خوب صورت اور اچھے قسم کے فائل کور تقسیم کئے گئے۔ کشمیر کے تقریبا سارے ادبا اُس میں شریک ہوئے،میں بھی شریک مجلس تھا۔ بڑا لطف آیا۔ ایک دوسرے سے ملنے کا خوب موقع ملا۔ اس کے بعد اکادمی کا کوئی سربراہ اس طرح کی ’’رائیٹرس کانفرنس ‘‘کا اہتمام نہیں کراسکا۔ کچھ حد تک اسی نوعیت کے ’’رائیٹرس کانفرنس ‘‘کا انتظام رفیق مسعودی صاحب کے دور میں بھی ہوا تھا مگر اس دعوت میں کم سے کم مجھے نہیں بلایا گیا تھا۔ ٹینگ صاحب میں صرف ادبی صلاحیتیں ہی نہیں ہیں بلکہ انتظامی اہلیتیں بھی ان میں بہت ہیں اور سماجی شعور بھی بڑھیا ہے۔کئی دہائی پہلے کی بات ہے جب معروف شاعر دینا ناتھ نادمؔ کو ریڈیو کشمیر کے ایک پروگرام میں تین لوگوں نے ان سے ان کے ادبی سفر اور باقی موضوعات پر سوالات پوچھے، ان میں رفیق راز ؔصاحب بھی شامل تھے۔ ان دنوں رفیق رازؔ نوجوان تھے اور ریڈیو میں ابھی ان کی نوکری نہیں لگی تھی۔ راز ؔصاحب نے نادم ؔصاحب سے سوال کیا: کیا مجھے آپ کو ایتھیسٹ کہنے کی اجازت ہے؟ نادم صاحب نے جواب دیا تھا، آپ مجھے Agnostic کہہ سکتے ہیں۔
یادیں اگرچہ ایک ہی ذہن سے متعلق ہیں مگر موضوعات مختلف ہونے کے سبب ان میں تسلسل نہیں ہوسکتا کیونکہ یادیں وقت کے الگ الگ معاملات سے ہیں۔ بہرحال بات سے بات نکلتی ہے اور پھر سلسلۂ کلام یونہی دراز ہوتا ہے۔غالباً بیس بائیس برس پہلے کی بات ہے، یہاں ساؤتھ افریقہ سے ایک بزرگ ڈاکٹر ہنزہ آئے تھے۔ وہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مسیح اللہ خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔ حضرت مسیح اللہ خان صاحب کے بارے میں سنا ہے کہ وہ روحانی اعتبار سے صدیقیت کے درجہ پر تھے۔ میں نے کئی بزرگوں سے سنا ہے کہ انہیں کشف بہت ہوتا تھا۔ ڈاکٹر ہنزہ دامت برکاتہم کی ایک مجلس میں احقر بھی شریک تھا اور ان کا بیان سننے کی سعادت حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مرشد حضرت مسیح اللہ خان صاحبؒ کی صحبت میں ایک طویل وقت گزارا تھا۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم حضرت کی مجلس میں بیٹھے تھے اور اسی دوران دو کم سن بچیاں آئیں۔ (یہ مجھے یاد نہیں کہ آیا ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ کم سن بچیاں حضرت سے تعویذ لینے آئی تھیں یا پانی پہ دَم کرانے)۔ اب جب کہ وہ حضرت کی جانب بڑھ رہی تھیں تو شرما رہی تھیں، کبھی ایک بچی دوسری بچی کے پیچھے جاتی اور کبھی دوسری بچی پہلی والی بچی کے پیچھے چھپ جاتی، اور اسی طرح وہ شرما شرما کے آگے بڑھ رہی تھیں ،یہاں تک کہ حضرت کے قریب پہنچ گئیں اور مدعا بیان کیا۔ جب وہ بچیاں چلی گئیں تو حضرت نے ہم سے پوچھا: آپ لوگوں نے ان بچیوں میں کچھ نوٹ کیا؟ ہم نے کچھ خاص بات نوٹ نہیں کی تھی، اس لئے سب نے حضرت سے کہا: نہیں حضرت۔ حضرت نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جب یہ بچیاں میری طرف آرہی تھیں تو کس طرح شرما رہی تھیں اور ایک دوسرے کی آڑ لے رہی تھیں۔ پھر آگے فرمایا کہ قدرت لڑکیوں کی فطرت میں خود شرم وحیا بھر دیتی ہے مگر پھر یہ ہم ہیں جو ان سے یہ شرم اٹھاتے ہیں اور انہیں بے حیا بنادیتے ہیں۔ 
یہ گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی کی بات ہے جب عورتوں میں سیلیکس پاجامے پہننے کا فیشن عام ہوا۔ یہ نائیلون کا ایک لچک دار پاجامہ ہوا کرتا تھا جو ٹانگوں سے بالکل چپک جاتا تھا اور شرم وحیا کے تقاضوں کے خلاف معلوم پڑتا تھا۔ اسی دہائی کے آخری برسوں میں شہر خاص کے ایک درویش بزرگ لال چوک اور ریڈکراس روڈ پر ظاہر ہوجاتا تھا اور کالج جاتی طالبات اور دوسری عورتوں کو اپنا سر ڈھانپنے کی تلقین کیاکرتا تھا۔ یہ درویش بزرگ پگڑی پہنے ہوتا تھا، ہاتھ میں ٹیکنے کے لئے لاٹھی ہوتی تھی اور اُس کی داڑھی بھی لمبی تھی۔ اب جب کہ زنانہ کالج سے چٹھی کے وقت لڑکیوں کا ہجوم نکلتا تھا اور وہ تین تین چار چار لڑکیاں ایک ساتھ چل رہی ہوتی تھیں تو یہ عمر رسیدہ بزرگ اپنی لاٹھی سے ان کے کھلے سر کی طرف اشارہ کرکے انہیں سر ڈھانپنے کے لئے کہتا۔ اس غیر متوقع تنبیہ سے عام طور عورتیں گھبرا جاتی تھیں۔ پھر اس بزرگ کا نام ہی ’’سلیکس مولوی‘‘ پڑگیا اور وہ اسی نام سے جانا جانے لگا۔ کئی بار اسے حوالات میں بھی اصلاح ِ معاشرہ کے’’گناہ ‘‘ میں بند رکھا گیا۔ اس مولوی صاحب کو مولوی خاندان سے بڑی عقیدت تھی اور مولوی عمر فاروق کے خاندان والے بھی اس کی عزت کرتے تھے اور وہ غالباً کھانا بھی اکثر راجویری کدل میں میرواعظ خانوادے کے یہاں کھاتا تھا۔ میں نے سنا ہے وہ شخص ذکر اللہ بہت کیا کرتا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ا سے اپنی رحمت سے نوازے، فنا فی اللہ جیسی شخصیت تھی۔ ہم نے اب مغرب کے معیار پر اپنی تہذیب کی میزان بنائی ہے، جو جتنا بے حیا ہو وہ اتنا ہی ذہین اورماڈرن مانا جاتا ہے اور جو جتنا نیک ہو وہ اتنا ہی پاگل یا نیم پاگل اورغبی خیال کیا جاتا ہے۔ آج کسی سے کہیں کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو تو بغیر کسی شرم کے کہتا ہے، ’’اَزی کس وقتس منز حض چھنہ امہ بغیر چاریے‘‘۔ یعنی آج کے وقت میں جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔ میں ایک لڑکی کو جانتا ہوں وہ بڑے پردے میں رہتی تھی۔ گزشتہ دنوں اسے دیکھا تو سارا پردہ وردہ ختم اور آج کے ماڈرن ٹائپ کی لڑکی کی طرح نظر آئی۔ میں حیران ہوا اور اس سے پوچھا: یہ تم نے اپنی کیا حالت بنادی ہے؟ تم تو باپردہ رہا کرتی تھی؟ وہ بولی: ’’ممی دوپنم ژے کیاہ آپہ چھویہ بنن‘‘۔ یعنی میری ماں نے مجھے کہا کیا تمہیں آپا اماں بننا ہے۔ انا لللہ وانا الیہ راجعون۔
میرے دادا مرحوم پیرزادہ حسن شاہ قریشی اپنے ماموں کا ایک واقعہ بیان کرتے تھے، کہتے کہ وہ رفو کا کام کرتے تھے۔ ایک روپے اور ایک سوئی ساتھ لے کر حج کو چلے گئے تھے۔ پھر ہندوستان کے کسی شہر تک پہنچتے پہنچتے وہ ایک روپیہ خرچ ہوا تھا۔ پیسے ختم ہوگئے تھے تو کسی جگہ بیٹھ گئے، جہاں سے لوگوں کا آنا جانا تھا۔ اسی دوران ایک شخص پر نظر پڑی جس نے کوئی کوٹ پہنا تھا اور وہ کسی جگہ کٹ گیا تھا۔ بزرگوار نے اس شخص کو اپنی سوئی دکھاتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے اپنا یہ کوٹ نکال کے دو ،میں اس کٹی ہوئی جگہ کی مرمت کروں گا۔ اس نے کوٹ نکال کے دیا۔ جب ماموں صاحب نے اس کا رفو کیا اور اس کا کوٹ وا پس کیا تو وہ شخص بہت حیران ہوا کیونکہ کوٹ ایسا ہوا تھا جیسا یہ کٹا ہی نہ تھا۔ وہ شخص سمجھا کہ یہ کچھ جادو سا ہے۔ اس نے ماموں صاحب کو کچھ پیسے دئے۔ اس طرح کچھ دنوں تک اس جگہ یہی کام کیا اور کچھ رقم جمع ہوگئی اور پھر آگے بڑھ گئے۔ اب جہاں پر پیسے ختم ہوجاتے ،وہاں ٹھہر کر یہی رفو کا کام کرتے تھے اور پھر کچھ رقم جمع کرکے آگے بڑھ جاتے تھے۔ اسی طرح خدا خدا کرکے وہ مرحلہ آیا جب حج کے لئے سمندری جہاز میں سوار ہوئے۔ ان دنوں آج کی طرح سمندری جہاز نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ یہ ایک طرح کی بڑی کشتیاں ہوا کرتی تھیں اور جن پر مضبوط کپڑوں کے بادبان لگے ہوتے تھے اور انہیں ہواؤں کے دباؤ اور رُخ پر چلایا جاتا تھا۔ جب چلتے چلتے اس جہاز کو کچھ دن ہوئے تو ایک دن جہاز کے ملاح کو ایک جزیرہ دکھائی دیا۔ اس نے اسی جگہ لنگر ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ جہاز کو اسی جگہ روک دیا گیا اور مسافروں سے کہا گیا کہ اسی جزیرے پر اُترجائیں اور کھانا وغیرہ اسی جگہ تیار کریں۔ مسافر اسی جزیرے پر اُتر گئے۔ اس جزیرے پر تھوڑی گھاس بھی نظر آئی۔ جب مختلف گروپوں میں بٹ کر لوگوں نے کھانا پکانے کی خاطر مختلف چولہے جلائے تو یہ جزیرہ ہلنے لگا۔ یہ دیکھ کر ملاح چیخ اٹھا اور مسافروں سے کہا کہ فوراً سب چیزیں وہیں چھوڑ کے جہاز میں سوار ہوجاؤ۔ چنانچہ کھلبلی مچ گئی اور سارے مسافر جہاز میں جلدی جلدی کودنے لگے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جسے ہم جزیرہ سمجھے تھے وہ کوئی بڑی مچھلی تھی، اب جب کہ کئی چولہے جلانے سے اس کو گرمی لگی تو وہ ہلنے لگی تھی۔ پھر جب وہ تیز چلی تو اس کے چلنے سے سمندر میں اتنی اونچی اور تیز طرار لہریں اٹھنے لگیں کہ ماموں صاحب کے مطابق ان کا جہاز نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور راستہ بٹھک گیا۔ پھر کئی دن ایسے ہی گزرگئے۔ آخر خداخدا کرکے وہ جہاز جب عرب کی ساحل پر پہنچا تو مسافروں کی حالت ابتر تھی۔ بہرحال اس جگہ پہنچ کر وہ کچھ سنبھلے اور آخرکار مکہ معظمہ پہنچ گئے۔ ماموں صاحب کا بیان تھا کہ ان کا وہاں جو کمرہ تھا، اس میں ان کے ساتھ ایک اور آدمی تھا یعنی کمرہ دو آدمیوں کو ملا تھا۔ اس کمرے کا جو تالا تھا وہ کھلتا تو چابی سے ہی تھا مگر بند چابی کے بغیر ہوتا تھا، یعنی اس میں تھوڑا سا پریس کیا جاتا اور تالا بند ہوجاتا تھا۔ ایک دن کسی شخص نے حاجیوں کی وہاں دعوت کی۔ ان دونوں کو بھی بلایا گیا، چنانچہ یہ دونوں دعوت پر گئے۔ اب جب کہ یہ ابھی بیٹھے ہی تھے تو انہیں یاد آیا کہ ہم نے کمرے کا تالا تو بند کیا ہے مگر چابی اندر کمرے میں ہی رہ گئی ہے۔ یہ لوگ بہت مضطرب اور پریشان ہوگئے۔ ان کے اضطراب کو محسوس کرتے ہوئے ان کے ساتھ میں بیٹھے بزرگ نے ان سے پوچھا: تم اتنے بے چین کیوں ہو؟ انہوں نے اسے سارا واقعہ سنایا۔ اس بزرگ نے کہا: آپ لوگ آرام سے بیٹھو، کوئی بات نہیں وہ مسئلہ حل ہوگا۔ اس بزرگ کی تسلی سے ان لوگوں کو کچھ قرار ملا۔ دعوت سے فارغ ہونے کے بعد اس بزرگ نے ماموں صاحب سے کہا:میں تمہیں ایک بار تالا کھولنے کی خاطر بسم اللہ کی اجازت دیتا ہوں، آپ لوگ جاؤ، تالے پر بسم اللہ پڑھو وہ کھل جائے گا۔ ماموں صاحب کا کہنا تھا کہ جب ہم واپس ڈیرے پر آگئے اور ہم نے تالے کو ہاتھ میں لے کر بسم اللہ پڑھی تو وہ ایک دم کھل گیا۔ میرے دادا کہا کرتے تھے کہ حج سے جب ماموں صاحب واپس آگئے تو بارہ سال گزر گئے تھے۔ یہ تھے پرانے زمانے کے پرانے لوگ جنہوں نے اپنی زندگی کا بس ایک مقصد بنالیا تھا کہ کسی نہ کسی طرح خدا کو راضی کرلیں۔ 
