یادوں کے جھروکے سے منظر منظر نقش نظر میں دل میں چہرہ چہرہ ہے

رضی اختر شوقؔ کی غزل کے چند اشعار سے یادوں کے حوالے سے اس قسط کی ابتدا کررہا ہوں    ؎
خوشبو ہیں تو  ہر دور کو مہکائیں گے ہم لوگ 
مٹی ہیں تو پل بھر میں بکھر جائیں گے ہم لوگ 
کیا ہم سے بچو گے کہ جدھر جائیں گے نظریں 
اس آئینہ خانے میں جھلک جائیں گے ہم لوگ 
کہنا ہے یہ ناقدریٔ ارباب ِ جہاں سے 
اک بار جو بکھرے تو نہ ہاتھ آئیں گے ہم لوگ 
بیٹھو کہ ابھی ہے یہ گھنی چھاؤں میسر 
ڈھلتا ہوا سایا ہیں گزر جائیں گے ہم لوگ 
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان 
کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ 
آج میں دوستوں کو پھر نصف صدی پہلے کے اسی زمانے میں لئےچلتا ہوں جب میں اٹھارہ انیس سال کا لڑکا تھا اور شعر لکھا کرتا تھا۔ اس سے پہلے کہ اپنی شاعری کے سفر کے کچھ تجربات بیان کروں اور ان تجربات کو اشعار کی زبان میں سنادوں، میں پہلے آپ کو شاعروں پر ایک لطیفہ سناتا ہوں۔ یہ جوش ملیح آبادی کی کتاب ’’یادوں کی بارات‘‘ سے منتخب کردہ تراشہ ہے۔  ’’علی گڑھ کے ایک گمنام پٹھان شاعر‘‘:وہ اپنے مکان کے چبوترے پر ڈُھکّی لگائے بیٹھے رہتے تھے کہ کوئی شاعر اُدھر سے گزرے اور وہ اس کو اپنا کلام سنائیں اور جب کوئی شاعر ان کے ہتّھے چڑھ جاتا تھا وہ اس کو اپنے کمرے میں لے آتے، بڑی مدارت کرتے اور اپنا کلام سنانے لگتے تھے۔ یہاں تک تو کوئی عجیب بات نہیں تھی، ہزاروں شاعروں کو ہَوکا ہوتا ہے اپنا کلام سنانے کا مگر ان میں یہ عجیب بات تھی جب وہ کسی شاعر کو پھانس کر اپنے کمرے میں لے آتے تھے تو ان کا سُدھا ہوا ملازم تینوں تینوں دروازوں میں باہر سے زنجیر لگا دیا کرتا تھا کہ پھنسا ہوا شاعر بھاگ نہ سکے ۔باہر سے دروازے بند ہوجاتے تھے تو وہ الماری کھول کر اپنا دیوان نکال لاتے اور غزلیں سنانا شروع کر دیا کرتے تھے اور سننے والا جب ان کو داد دیتا تھا تو ہر داد پر، بڑے تحکّمانہ انداز سے وہ حکم دیتے تھےکھڑے ہو جائیے اور جب وہ حیرت زدہ ہو کر کھڑا ہوجاتا تھا تو اس کو اس طرح بھینچ کر گلے لگاتے تھے کہ ان کی پسلیاں بولنے لگتی تھیں۔ ذرا تصوّر کی آنکھوں سے یہ سماں دیکھیں کہ گمنام پٹھان شاعر صاحب، اپنا کلام سنا رہے ہیں اور سننے والا واہ، واہ، سبحان اللہ کہہ رہا ہے اور اس بےچارے داد دینے والے کو بار بار یہ حکم دیا جارہا ہے ’’کھڑے ہو جائیے، کھڑے ہوجائیے‘‘ اور جب وہ تھکا ماندہ کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کو بڑے زور سے گلے لگایا جارہا ہ۔ العظمۃُ للّٰہ، کوئی حد بھی اس عذابِ مسلسل کی اور ایک صاحب نے تو یہاں تک بیان کیا تھا کہ جب بار بار کڑھے ہونے اور ہر بار گلے ملنے سے تھک کر انھوں نے یہ کہا کہ اب مجھ میں بار بار کھڑے ہونے کا دَم باقی نہیں رہا ہے ،تو ان پٹھان شاعر صاحب نے اپنے تنبیہ الغافلین ڈنڈے کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا: اُٹھئے، نہیں تو اس سے آپ کا سر توڑ دوں گا۔‘‘
چلئے آگے بڑھتے ہیں۔ میری ایک کشمیری غزل کے کچھ شعر    ؎
نرین  منزول بناوتھ  پاوہ ہے نیندر بو شری سندی پآٹھی
کتھو چانیو گوتن کورہس مے کری تھم بڑی ستم ویسئے
غمچ    محفل   یتین    آسی   تتین    بیہناوتم     ویسئے
چوان   آسن   یتین   جامیے   سو   جایا   ہاوتم   ویسئے 
یعنی، چاہتا تو یہ ہوں کہ تمہیں اپنے بازوں میں لے کر جھولے کی طرح جھلاوں۔
تمہاری باتوں نے مجھے عجیب خیالوں میں ڈبودیا ہے، تم نے مجھ پہ بڑے ستم ڈھادئے۔
اے میرے محبوب، جہاں کہیں غم کی داستان چل رہی ہو مجھے اسی محفل میں لے جا۔
جہاں شراب معرفت کے جام لنڈھائے جارہے ہوں، مجھے اسی راستے کی رہنمائی فرما۔
میری ایک کشمیری نظم کے کچھ بند    ؎
ووڈو بلبلن ہیوند
قمیر کوکلہ نغما
تھرین گرایہ
تھرن آویزان شبنم
ہوا گرایہ پوشن
لگان پھیور چھ وتھرن
ورق زن کتابن گژھان اورہ یورن
گژھان کئتہ کئتچ کیفیت بونہ وتھرن
یمو واوہ گرایو اسن نیلہ سی سی
پلن پیتھ یہ آبک تلے لونگ تلے لونگ
چھجا کیاہ چھ وہرتھ یہ دچھہ رآنٹ اندی اندی
پریون لوگمت چھن زژن تاپہ چن از
مونین ہنز پھولیے وچھ
کولس پیٹھ چھے کتہہ کنی 
!ھیا باغوانا خدا ہا چھ خوش از
یعنی، یہ دیکھ بلبلوں کی اڑانیں
یہ کوئلوں کے نغمے 
ان پھولوں کی شاخوں کا جھومنا
پتیوں پر لرزتے شبنم کے قطرے۔
ہواوں کے چھونے سے
پھولوں کی پتیاں ایسے الٹ رہی ہیں
جیسے کوئی معطر کتاب کی ورق گردانی کررہا ہے
ہواوں کی دھیمی رفتار سے
لگتا ہے کہ چنار کے پتوں کی گدگدی ہورہی ہے
اسی لئے تو ان سے سی سی سی کی آواز آرہی ہے
ان گول مٹول پتھروں پہ
پانی کا اتی بتی کھیل بھی تو ذرا دیکھ!۔
انگور کی بیل ہر طرف پھیل گئی ہے
اس سے روشنی کچھ ایسی گزررہی ہے
جیسے چھلنی نے چھانیاں ہوں کرنیں!۔
انگور کے بیل سے انگوروں کے گچھے دیکھ کر
لگتا ہے شاخوں سے بوسے آویزاں ہیں۔
اے مالی، ایسا لگ رہا ہے کہ خدا آج ہم سے خوش ہے۔
میری ایک اور کشمیری غزل کے کچھ شعر   ؎
مژر   سریک یہوے   گو
پلو   اوبرکی  ژٹتھ  گو
آویزان    زلفہ    بونین
حسن کوتنس کٹتھ گو؟
سہ ما تارکھ  دوبن منز
شبس   اندر  پٹتھ   گو
جسم   از  کیازہ   ارزاں
پلو  ونی ونی وٹتھ گو
لتن  تل کس سنا  کونڈ
یسا  دامن   رٹتھ   گو؟
یعنی، سورج کی دیوانگی یہی ہے
کہ وہ بادلوں کی پوشاکیں لپیٹ کے لے گیا
زلفیں چناروں سے لٹک رہی ہیں
حسن کہاں مخفی ہوگیا؟
کہیں وہ ستاروں کے گڑھوں میں
رات کے دوران ڈوب تو نہ گیا؟
جسم آج سستے کیوں ہیں؟
ابھی ابھی وہ اپنا لباس اٹھا کے چل دیا
یہ میرے پاوں کے نیچے کیسا کانٹا آگیا؟
کہیں یہ وہ تو نہیں جس نے پہلے میرا دامن پکڑا تھا۔
آج موڈ کچھ شاعری کا ہی ہے تو کیوں نہ آپ کو اپنی ایک اردو غزل سنادوں! نہ جانے یہ اردو غزل میں نے کب لکھی تھی، صحیح یاد نہیں۔ بہرحال، غزل یہ ہے؎
دل   سے   اٹھے اور آنکھ  سے   جذبات  بہہ  گئے
یونہی گھروندے خواب کے قطروں سے ڈھہ گئے
سب   ہی تو   انہماک    سے   سنتے   رہے    ہمیں
ہم  کو  ہی  خود  پتہ  نہیں   جو  بات  کہہ  گئے
ہم  بھی  گئے  وہاں  کہ  کچھ  آنسو   بہا  سکیں
غیرت میں یوں ہوا  کہ وہ آنکھوں  میں  رہ گئے
برگ  زرد  کو  یوں نہ  تو  قدموں  سے  روند  لے
لخت شجر ہیں  وقت  کی چوٹوں  کو  سہہ گئے
کندھے پہ  ڈال کے  انہیں  باہر    کو  لے  لیا
جلتے ہوئے  مکان  میں  اب  خود   ہی  رہ  گئے
بات سے بات بنتی ہے اور پھر موضوع بھی بدلتا ہے۔ چلئے آپ کو ایک کہاوت سناتا ہوں۔ اب آپ کی مرضی ہے جہاں یہ آپ کو لگے کہ کس صورت حال پہ فٹ آتی ہے وہاں فٹ کرلیں۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے ملفوظات میں یہ کہاوت درج ہے جو انہوں نے ایک مجلس میں حاضرین کو سنائی۔ فرمایا: افغانستان سے ایک آدمی ایک دن ہندوستان آیا۔ اس نے یہاں کسی شہر میں ایک حلوائی سے حلوہ اٹھایا اور پھر لے کر بھاگا، اور اسے کھالیا۔ لوگوں نے اس شخص کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ داروغہ نے دیکھا کہ ایک نووارد شخص ہے اور اب معمولی چیز پر کیا چالان کیا جائے، اس نے حکم دیا کہ اس شخص کو گدھے پر سوار کرکے شہر میں گھماؤ، بچوں کو جمع کرو اور ان کے ہاتھ میں کوئی بجانے والی چیز د ے دو، اور ان بچوں کو اس شخص کے پیچھے لگاؤ، اس شخص کے لئے یہی سزا کافی ہے۔ چنانچہ ایساہی کیا گیا۔ جب یہ شخص واپس اپنا وطن پہنچ گیا تو لوگوں نے وہاں اس سے دریافت کیا: آغا ہندوستان رفتہ بودی آں چگونہ ملک است؟ یعنی میاں تم ہندوستان گئے تھے، ہندوستان کیسا ملک ہے؟‘‘ جس پر اس شخص نے کہا:’’ہندوستان خوب ملک است۔ حلوہ خوردن مفت است، سواری خر مفت است، فوج طفلان مفت است، ڈم ڈم مفت است۔‘‘ یعنی ہندوستان اچھا ملک ہے، کھانے کو حلوہ مفت، سواری کو گدھا مفت، بچوں کی فوج مفت اور باجا گاجا مفت، اس لئے ہندوستان بڑا اچھا ملک ہے۔‘‘ 
یادوں کے حوالے سے جب بھی اس مضمون کی کوئی قسط لکھنے بیٹھ گیا تو بچپن یاد آیا۔ میں اپنے بچپن میں اُترنا چاہتا ہوں اور اپنے دوستوں کو بھی اسی زمانے میں اُتارنا چاہتا ہوں، اگرچہ جانتا ہوں کہ ایسی چاہتوں کی حیثیت چاہتوں سے آگے نہیں بڑھ پاتی اور ایسی چاہتیں ایک شاعرانہ تصور سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوتیں، پھر بھی میں ایسی چاہتوں کو اسی طرح چاہتا ہوں جیسے بچپن میں یہ چاہت تھی کہ کاش میں چاند کو ایک بلے کی مانند اپنے بازو پر ٹانک دوں یا تتلی کے پروں کی اپنے لئے قبا بنادوں!
دھوپ آج بھی نکلتی ہے مگر اس میں اب وہ مزا نہیں آتا جو بچپن میں آتا تھا۔ جاڑا آج بھی اپنے ساتھ برف لاتا ہے مگر اس میں وہ لطف کہاں جو بچپن میں ہوتا تھا۔ پھول میرے بچپن میں بھی کھلتے تھے مگر مسکراتے ہوئے لگتے تھے، پھول آج بھی کھلتے ہیں تو بس کھلتے ہیں، مجھے اب ان پہ مسکراہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ چاند آج بھی چودھویں کی رات کو چمکتا ہے مگر اب اس کی چاندنی مجھ سے عشق کے مکالمے نہیں کرتی۔ سب کچھ وہی تو ہے جو بچپن میں ہوتا تھا مگر مجھے پھر بھی وہ سب کچھ وہی کچھ نہیں لگتا جو بچپن میں لگتا تھا۔ آج جو کچھ دیکھتا ہوں تو وہی دیکھتا ہوں جو اس کی حقیقت ہے اور کسی کومینٹری کی طرح بیان کرتا ہوں مگر ایک دور وہ بھی تھا جب مجھے ہر چیز احساس اور جذبات کو چھو کر لفظوں میں ڈھلتی ہوئی زبان پر آتی تھی یا ذہن سے ظاہر ہوجاتی تھی۔
میں 5 اکتوبر 1972 کو سرکاری ملازم بنا۔ سوپور میں میری تقرری ہوئی۔ 75 روپے تنخواہ تھی اور 71 روپے الاؤنس مل جاتا تھا۔ اس طرح تنخواہ کی کل رقم ایک سو چھیالیس روپے تھی۔ میں سوپور میں ہی ایک کمرے میں رہتا تھا۔ دسمبر کا مہینہ تھا۔ سخت سردی تھی۔ مجھے ملازمت میں صرف دو یا اڈھائی مہینے ہوگئے تھے۔ مجھے سخت سردی لگی۔ میں نے ایک کانگڑی خریدی۔ میں ہوٹلوں اور دیگر کئی جگہوں پہ گیا کہ کوئی اس میں کچھ انگارے بھردے تاکہ مجھے گرمی ملے مگر کسی نے نہیں دئے۔ میں سردی سے ٹھٹھرتا رہا۔ آخر میں ایک قلعی گر ( تانبے کے برتنوں پر رانگ ) کا ملمع کرنے والا، کے پاس گیا اور اس سے کوئلے خریدے اور کانگڑی تیار کی اور پھر ان انگاروں سے تھوڑی سی راحت ملی مگر کوئلے نہایت کمزور قسم کی لکڑی کے تھے، اس لئے جلد بجھ جاتے تھے اور پھر بار بار مجھے پھونکوں سے انہیں دوبارہ جوش دینا پڑتا تھا۔ یوں پھر رات کاٹ دی۔ آج کا سرکاری ملازم ’’مغل اعظم‘‘ ہے۔ جیب بھر کر ہی نہیں بلکہ جی بھر کر تنخواہ لیتا ہے اور اس کے آرام کے بھی آج ڈھیر سارے انتظامات ہیں۔ جن دنوں میرا فیس بک پر اکاونٹ ہوا کرتا تھا ،ان دنوں میں اکثر اس قسم کے پوسٹ شائع کرتا تھا کہ یہ صرف سرکاری ملازم نہیں ہے جو قوم کی تعمیر وترقی میں ہاتھ بٹاتا ہے بلکہ سماج کا ہر نفس اس میں اپنا رول ادا کرتا ہے، چاہے وہ ترکھان ہو، مستری ہو، مزدور ہو، تاجر ہو یا زندگی کے کسی بھی شعبہ سے منسلک ہو، وہ ریاست اور قوم کی تعمیر وترقی میں اپنا رول نبھاتا ہے اور اس تعمیر وترقی میں اس کا کردار ایک سرکاری ملازم سے کسی بھی طور کم نہیں۔ اس لئے سرکار پر یہ لازم تھا کہ وہ ساٹھ سال کے ہر شہری کے لئے ان کے رُتبے کے حساب سے پانچ سے بیس ہزار روپے کا پشن لازمی قرار دینے کا فیصلہ لیتی تاکہ ہر شہری کو یہ فکر لاحق نہ رہتی کہ اس کا بڑھاپا معاش کی تنگی کے سبب پریشان کن اور مصائب سے بھرپور ہوگا۔ ایسے ہی خدشات ہر پیشہ میں بددیانتی لاتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری سرکاریں اپنی میعاد لوگوں کی فلاح وبہبود پر سوچنے کے بجائے اپنی سوچ کو نئے نئے اور جذباتی نعرے ایجاد کرنے میں مصروف رکھتی ہیں اور پھر عوام کو اپنے زرخرید کارندوں کے ذریعے ان ہی نعروں میں اُلجھاکر خود عیاشیاں کرتے ہیں، اور عوام کی اکثریت ایسی کہ اصل مسائل بھول کر سیاسی مباحثوں پر زندگی کا سرمایہ لگالیتی ہے۔ کون ہے جو ایسا مسئلہ اٹھاتا ہے جو میں نے آگے بیان کردیا؟ کون ہے جو یہاں کے ہیلتھ کئیر میں بدنظمی کے خلاف مہم چلاتا ہے؟ کون ہے جو ہسپتالوں کے سسٹم کو بہتر اور جدید طریقوں پر استوار کرنے کے لئے آواز اٹھاتا ہے؟ کون ہے جو یہاں احتساب کے مطالبے کے حق میں احتجاج کرتا ہے؟ 
خیر  یادوں کے سفر پرآگے بڑھتے ہیں۔ میرے بچپن میں لوگوں کو دین کا علم زیادہ نہیں تھا مگر لوگوں میں خدمت خلق کا جذبہ بہت تھا اور لوگ بلا لحاظ ومذہب وملت ایک دوسرے کے کام آتے تھے اور ایک دوسرے سے ہمدردی تھی۔ زبان پر دین کا علم کم تھا مگر دل اس کی روشنی سے منور تھے۔ اب دین کا علم تو بہت ہے مگر زبانوں پر ہے، دل اس کے نور سے خالی ہی دکھائی دے رہےہیں۔ اب خدمت خلق کا جذبہ نہیں، ایک دوسرے سے ہمدردی نہیں مگر دین پر بڑے بڑے مباحثے جاری ہیں۔ ایسے خطیب صاحبان اور علما کم ہی نظر آرہے ہیں جو اپنے مواعظ میں خدمت خلق کو موضوع بناتے ہوں، اکثر وہ ہیں جو وقت کے تقاضوں سے ہی بے خبر ہیں۔ لوگوں کو جذباتی بنانا اور انہیں رُلانا کمال نہیں ہے، کئی لوگ تو ’’اَکہ نندن‘‘ کا قصہ اور لیلیٰ مجنون کا قصہ سنتے وقت بھی دھاڑیں مارکر رونے لگتے ہیں۔ کمال رُلانا اور واہ واہی بٹورنا نہیں ہے ،بلکہ کمال یہ ہے کہ انسان کو اخلاقی اور دینی اعتبار سے ایسا بنایا جائے کہ وہ چلتا پھرتا قرآن بنے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ ؓ کو  فرداًفرداً و اجتماعاًرول ماڈل بنا دیا اور پھر آنے والی اُمت سے فر مایا کہ یہ ستاروں کے مانند ہیں جو جس کے پیچھے چلا اس نے ہدایت پائی۔ یہاں تو ایسے مقُرر صاحبان بھی میدان میں نظر آرہے ہیں جو اتحاد کے ہی منکر ہیں اور ان تمام لوگوں کو کافر اور جہنمی قرار دیتے ہیں جو ان کے مسلک سے جڑے نہیں ہیں، گویا یہ خشک مزاج حضرات جارج بش والی منفی ذہنیت رکھتے ہیں کیونکہ اس نوعیت کے ہم ہستی فلسفے کا موجد وہی ہے اور اسی نے امریکہ کے دوہرے ٹاور پر حملے کے وقت دنیا کے تمام ممالک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا:یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے مخالف ہو!‘‘ یعنی تھرڈ آپشن ندارد!!!