گزشتہ کالم میں ایک لمبی تمہید ڈالنے سے میرا مقصد یہ تھا کہ آپ کے ساتھ اس طرح کی دو باتیں شیئر (Share) کریں کہ ہم نے دیکھا تو نہیں ہے البتہ اس بارے میں پڑھا ضرور ہے کہ بھارت ورش کی شاندار روایات رہی ہیں اور ایک فخریہ ماضی رہا ہے ۔اس ملک میں بڑی بڑی قد آور شخصیات مصلح،رہنما اور ریفارمر ، سیاست دان ،علماء و فضلا ء ،ادباء و شعراء ،مذہبی شخصیات ،دیوتائوں کے سروپ بادشاہ ،فاتح اور شکتی وان،حتیٰ کہ روحانی کمالات و کرامات سے متصف سادھو سنت اور مہاتما پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ملک میں شیر اور بکری نے ایک ہی گھاٹ پر پانی پیا ہے اور انسانوں نے وحوش کو وَش میں کرکے شیروں کے مونچھوں پر بھی بوسے دئے ہیں ۔ہمیں ملک کے ان تمام خصوصیات اور گن گان سے اختلاف کرنے کی منشاء ہے اور نہ ضرورت ۔یہ سب باتیں تو ہم من و عن مان لیتے ہیں مگر موجودہ حالات کی نیرنگیاں اور مشاہدے میں آرہے عجیب و غریب واقعات ،استحصال اور ناانصافیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ملک اپنی جمہوری روایات ،سادگی ،خوشگوار و موافق ماحول اور سازگار حالات ،امن و آشتی کو چھوڑ کر چند لوگوں کی وِپریت بُدھی (اُلٹی کھوپڑی) کی وِپریت سوچ سے اپنے ماضی کو داغ دار کرنے کے ساتھ انحطاط کی جانب جارہا ہے ۔اصل میں ہندوستان میں ہندوئوں کے علاوہ یہاں بودھؔ،جینؔ،مسلمانؔ،سکھؔ،ہریجنؔ،آدھی واسیؔ،پارسیؔ،عیسائیؔ،یہودؔ،نارتھ یسٹ ؔکے مختلف مذہبی رسوم و روایات والے قبائلؔ،ٹھگؔ ،بنجارےؔ، نٹؔ، سپیرےؔ، دہریئےؔاور نہ جانے کون کون ،بیسیوں قسم کے اعتقاد ،خیال ،فکر اور آستھا کے لوگ رہتے آئے ہیں بلکہ رہتے ہیں ۔
اب اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستان کے ہندوؔبھی اصل میں ہندو ستانی نہیں ہیں تو آریہ پُتروں کو بُرا لگے گا۔ہندوستان کے اصلی باشندے وہ ہندوؔ ہیں جو جنوبی ہندوستان میں رہتے ہیں ۔یہ لوگ اصل میں سندھؔ میں رہتے تھے پھر وہاں سے یہ جنوبی ہندوستان میں آباد ہوئے اور اپنے پیچھے اجنتاؔ،ایلوراؔاور موہنجوداروؔچھوڑ آئے۔یہ لوگ رنگوں کی بوقلمونی سے واقف تھے اور سونے چاندی کے زیورات کا استعمال کرتے تھے جو آج تک جاری و ساری ہے ۔ساؤتھ ؔ کے مردوزن سونے کے زیورات سے لدے پھندے ہوتے تھے ۔انہی میں سے کچھ لوگ عراقؔ ہجرت کرکے گئے تھے جو وہاں یزدانیؔنام سے صدیوں بود باش کرتے رہے بلکہ اس وقت بھی ہزاروں لوگ اپنے ایک مخصوص مذہب و مسلک کے ساتھ رہتے ہیں۔انہی لوگوں کو بعد میں یزیدیؔکہا جانے لگا ،داعش نے اُن لوگوں کا قتل عام کیا ،اُن کے کئی آداب و رسومات (Rituals)اس وقت بھی جنوبی ہند کی مذہبی رسومات سے مماثلت رکھتے ہیں۔
اب بات چلی ہے تو لازماً بات میں سے بات نکلتی ہے ۔ساوتھ ؔ کے ہندوئوںکے تعلقات بحری راستوں سے مشرق وسطیٰ خاص کر مصرؔ کے ساتھ بہت پہلے سے تھے۔ان لوگوں کا نہ صرف سیاحت اور آنا جانا ہی تھا بلکہ یہ آپس میں تجارت بھی کرتے تھے۔بات تفصیل طلب ہے مگر اس وقت یہاں مختصراً عرض کروں گا کہ ساؤتھ کے لوگ رامؔ کے نام سے شمالی ہندوستان کے لوگوں سے پہلے واقف تھے،ساؤتھ کے ہی پجاری ہَون کے موقع پر ’’کُنٹپ سُوکت‘‘کے منتر پڑھتے ہیں ،جو انہوں نے اَزبر کئے ہوئے ہیں اور مرنے سے پہلے اپنے ایک بچے کو سکھاتے جو اتفاق سے ایک ہی جنا ہوتا ہے۔یہ منتر ناب کے معنی سے نابھ ِپرتھوِیا یعنی دنیا کے ناب یعنی دنیا کے سنٹر کے بارے میں ہیں۔باتفاق رائے نہیں بلکہ باتفاق مذہبی صحائف دنیا کا سنٹر مکہ معظمہؔ ہے ۔میرے خیال سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ منتر کیا ہوسکتے ہیں ؟رہے آریہ پُتر———-وہ تو کہیں اور سے ہندوستان میں آئے ہیں اور یہ پنڈت نہروؔ کی لکھی ہوئی کتاب ہی بتاتی ہے کہ وہ ساؤتھ میں رہنے والوں پر اکثر حملہ آور ہوکر اجناس کے ساتھ مال مویشی بھی ہتھیا کر لے جاتے تھے۔معلوم نہیں یہ مسلمانوںؔکو بدیشی حملہ آور کیسے کہتے ہیں؟
مسلمانوں نے اپنی نو سو سالہ شاندار حکومت کے دوران نہ صرف انس و اُلفت اور عزت ِنفس ،بھائی چارہ ،امن و آشتی اور ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا سبق دیا بلکہ چھوٹی چھوٹی چند ہزار نفوس پر مشتمل حکومتوں کی بجائے ایک متحدہ ہندوستان کی تشکیل دی ۔ اَدھ ننگا کیلے کے پتے پر کھانا کھانے کی بجائے تہذیب و شائستگی کے ساتھ غذا تناول کرنا اور پورے جسم پر کپڑا پہننا سکھایا ۔ زرعی اصلاحات ،مالیہ،ڈاک سسٹم ،ریونیو ،ناپ تول ،آبپاشی اور نہ جانے کن کن اصلاحات سے ملک کو مستفید کیا ۔بہر حال وہ ہمارا موضوع نہیں ہے ۔ان باتوں سے صرف نظر کرکے میں وسیع القلب اور رحم دل ہندو بھائی بہن کو نہیں بلکہ اقلیتوں کے ساتھ دھرم یُدھ چھیڑنے والوں سے سوال کرنا چاہوں گا کہ موجودہ وقتوں میں مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مارنے ، مسلمانوں کے ناموں والی موجود جگہوں اور پرانتوں کا نیا نام کرنے ،مسلمانوں کی تاریخ بلکہ اُن کا نام ،کام ،اصلاحات تک سکول کے نصاب سے حذب کرنے ، ہزاروں سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں معصوم بچوں کے صاف شفاف ذہنوں کومسلمان کے لئے نفرت و حقارت کا مشروب پلانے اور مسلمانوں کے دینی بزرگوں کی اِہانت کرنے ،مسلمانوں کے قبرستانوں پر قبضہ جمانے ،نماز پڑھنے میں بادا ڈالنے ،اذان پر روک لگانے اور مسلمان مستورات کی بے حرمتی کرنے والوں سے کیا ہوگا ؟ آپ مسلمانوں کے اصلاحات ،یوگ دان (Contributions)کو ایک طرف چھوڑ کر کیا یہ بھی یاد نہیں رکھتے کہ انگریز وں کے ساتھ آزادی کی لڑائی لڑنے کے دوران صرف ایک ریاست ——ریاست اُتر پردیش میں لگ بھگ چالیس علمائے دین کو پھانسی پر لٹکایا گیا ۔علی گڑھؔ یونیورسٹی اور شبلیؔ کالج کے طلبا ء اور اساتذہ نے ہزاروں کی تعداد میں جان کی قربانیاںپیش کیں۔سابقہ برطانوی فیلڈ مارشل رابرٹؔ کی کتاب ’’چالیس برس ہندوستان میں ‘‘کے مطابق سن 1857ء کی ناکام جنگ آزادی میں کتنے مسلمان قتل کئے گئے، اُس کا کوئی شمار وحساب ہی نہیں ہے ۔فقط ستائیس ہزار مسلمانوں کو جن میں راجے ،نواب ،زمیندار اور دیگر باوقار شخصیات شامل تھے کو پھانسی پر لٹکایا گیا ۔ انگریزوں کے خلاف کسی نے آزاد فوج میں شمولیت نہ بھی کی ہو،کسی نے ہتھیار اُٹھائے ہوں یا نہیں ،عام آدمی ،پُر امن شہری بھی اگر انگریز فوجی افسروں کو صحت مند اور اچھے قد کا ٹھ کا دکھائی دیا تو اُسے جنگجو گردان کر موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا۔
……………………..
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر -190001،کشمیر
موبائل نمبر:-9419475995