فرانسیسی صدر کے ساتھ وزیر اعظم مودی کی مشترکہ پریس کانفرنس
عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی// وزیرِ اعظم نریندر مودی نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ فرانس بھارت کے قدیم ترین اسٹریٹجک شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا، آج ہم اپنے تعلقات کو ایک وسیع، عالمی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل دے رہے ہیں۔ یہ عالمی استحکام اور ترقی کی شراکت داری ہے۔صدر میکرون کے ساتھ مل کر ہم نے اس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو بے مثال گہرائی اور توانائی دی ہے۔ وزیرِ اعظم مودی نے H-125 ہیلی کاپٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “ہمیں فخر ہے کہ بھارت اور فرانس مل کر دنیا کا پہلا ایسا ہیلی کاپٹر بھارت میں تیار کریں گے جو ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی تک پرواز کر سکے گا۔ ہم اسے پوری دنیا میں برآمد کریں گے۔بھارت اور فرانس کے درمیان تعاون کی کوئی حد نہیں ہے۔ حال ہی میں ہم نے یورپی یونین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کیا ہے، جو بھارت اور فرانس کے تعلقات میں بھی نئی رفتار لائے گا۔ انہوں نے کہا، جدت تنہائی سے نہیں بلکہ تعاون سے جنم لیتی ہے۔ ہم ہر شعبے میں اپنی صنعت اور اختراعات کو یکجا کریں گے۔ ہم طلبہ اور محققین کے تبادلے کو مزید آسان بنائیں گے۔دہشت گردی کے ہر روپ کو جڑ سے ختم کرنا ہماری مشترکہ وابستگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی فرانس میں سوامی وویکانند کلچر سینٹر قائم کیا جائے گا اور آج دونوں ممالک ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ بھارت اور فرانس صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے لیے انڈو-فرینچ سینٹر، ڈیجیٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے مشترکہ مرکز، اور ایئروناٹکس میں مہارت سازی کے لیے نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے کہا،یہ مستقبل کی تعمیر کے پلیٹ فارم ہیں۔ آج جب دنیا غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں بھارت-فرانس شراکت داری عالمی استحکام کے لیے ایک مضبوط قوت ہے۔اس موقع پر فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا: میں اپنے چوتھے سرکاری دور بھارت پر آپ کی پرتپاک میزبانی کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بھارت اور فرانس کے درمیان دوطرفہ تعلقات واقعی غیر معمولی اور منفرد ہیں۔ یہ رشتہ اعتماد، کشادگی اور بلند عزائم پر مبنی ہے۔ ہم نے آج اس شراکت داری کو ’خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘ کے درجے تک بلند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس سے اسے ایک نیا اسٹیٹس حاصل ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ہمیں اس تعلق پر مکمل اعتماد ہے، اور گزشتہ آٹھ برسوں سے ہم اسی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ہر سال مختلف شعبوں میں مل کر کام کرتے ہوئے ہم نے کئی نئے راستے کھولے ہیں۔ چاہے وہ انڈو پیسیفک خطہ ہو یا ٹیکنالوجی کا میدان، جہاں کسی کی بالادستی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم قانون کی حکمرانی پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور گزشتہ چند برسوں میں ہم نے اسے عملی طور پر ثابت بھی کیا ہے۔ چاہے وہ IMEC ہو جسے ہم نے مشترکہ طور پر شروع کیا، یا مصنوعی ذہانت اور انٹرنیشنل سولر الائنس جیسے اقدامات — گزشتہ آٹھ برسوں میں ہم نے کئی اہم پہل قدمیاں مل کر کی ہیں۔
ہندوستان عالمی اختراع کا قائد
انڈیا-فرانس انوویشن فورم میں فرانسیسی صدر کا خطاب
ممبئی /یو این آئی/ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے منگل کے روز ممبئی میں منعقدہ انڈیا-فرانس انوویشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کو عالمی سطح پر اختراع کا قائد قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان صرف جدت میں حصہ نہیں لیتا بلکہ اس کی قیادت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان ہند نڑاد ہیں، جن میں الفابیٹ، مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، ایڈوبی، پالو آلٹو نیٹ ورکس اور چینل کے چیف ایگزیکٹو افسران شامل ہیں۔فرانسیسی صدر نے اس موقع پرہندوستان کے ساتھ اپنے ملک کے مضبوط تعلقات کو دہراتے ہوئے واضح کیا، ‘‘ہم یہاں ہیں، ہم آپ کے ساتھ یہاں رہنا چاہتے ہیں، اور ہم کہیں نہیں جا رہے۔’’ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراک کو باہمی اعتماد اور طویل مدتی شراکت داری کی مثال قرار دیا۔میکرون نے میک اِن انڈیا پہل کے تحت دفاعی شعبے میں فرانس کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ فرانس ایک مضبوط اور ثابت قدم شراکت دار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک اگلی نسل کے انجن، ملٹی رول ہیلی کاپٹرز، جدید جنگی طیاروں اور آبدوزوں کی تیاری میں مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ دفاعی معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے جو مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جا رہا ہے۔دو طرفہ تعلقات کو ‘‘خود مختار اتحاد’’ قرار دیتے ہوئے میکرون نے کہا کہ یہ دو عظیم قوموں کا باہمی انتخاب ہے جو زمین، سمندر اور فضا میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔