رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
کسی معاشرے کو مفلوج کرنا ہو تو آسان اور آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ قوم کے معمار کے ساتھ ایسا برتاؤ روا رکھا جائے جس سے وہ اس پیشے سے نفرت کرنے لگ جائے اور اسے خیر آباد کہنے پر مجبور ہو جائے ۔وہ معاشرہ ہی نہیں بلکہ پوری قوم تباہ و برباد ہو جاتی ہے جو اپنے معلمین کو وہ وقار،مقام اور مرتبہ نہ دے سکے جس کے وہ حقدار ہیں۔اساتذہ کو جائز مقام نہ دینا اور ان کے ساتھ وہ رویہ روا رکھنا جس کے وہ مستحق نہیں بیمار ذہانت کی نشانی ہے۔یہی بیمار ذہانت ہمارے یہاں پائی جاتی ہے۔ یہاں اساتذہ کو خانوں میں بانٹا جاتا ہے۔اگر ایک استاد عارضی طور اپنی خدمات انجام دے رہا ہے تو وہ استاد نہیں بلکہ مزدور ہے اگر مستقل ہے تو پھر ہی وہ عزت کا مستحق ہے۔بد قسمتی کا مقام ہے کہ یہاں ہائر ایجوکیشن میں کام کرنے والے عارضی اساتذہ کے ساتھ غلاموں سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔پچھلے دو تین سالوں سے اس بدسلوکی میں مزید تیزی آئی ہے۔کئی سالوں سے یہ کم نصیب سراپا احتجاج ہیں اور اعلی اقتدار سے اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے کوشاں ہیں لیکن اعلی حکام نے کبھی ان کی پرواہ ہی نہیں کی۔ان کے حال پر توجہ دینا تو درکنار انہیں پچھلے دو تین سالوں سے جان بوجھ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہراساں اور تنگ کیا جاتا رہا ہے۔اتنا ہی نہیں ان کو جان بوجھ کر کالجوں سے دور رکھا گیا۔جس سے نئی نسل تعلیم سے ہی محروم نہ ہوئی بلکہ ان اساتذہ کے گھریلو حالات پر بھی بہت برے اثرات پڑے۔جتنے بھی سرکاری محمکے ہیں ان میں عارضی طور کام کرنے والے افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان محکموں میں انہیں مستقل طور بھرتی کیوں نہیں کیا جاتا وجہ سرکاری مالیات کی کمی ہے یا کوئی اور،اس کی جانکاری اور وجوہات کو صرف اعلی اقتدار میں بیٹھے اشخاص ہی بہتر جانتے ہیں۔ ان محکموں کو چلانے کے لیے عارضی طور بھرتیاں کی جاتی ہیں تاکہ جو کام ان محکموں کے ذمے ہیں وہ بحسن خوبی انجام پذیر ہوں۔بعض محکموں میں عارضی ملازمین کے تجربے ، مہارت اور ان کی محکمے میں ضرورت کے پیش نظر ان کو سرکار نے ضم کر دیا سوائے ہائر ایجوکیشن میں کام کرنے والے اساتذہ صاحبان کے جو لگاتار نظر انداز کر دے جاتے ہیں۔ ان کی طرف نہ حکومت اور ان کا اپنا ادارہ توجہ دے رہا ہے۔ان کی جائز مانگوں کو عرصہ دراز سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔صحت کے بعد تعلیم کی اہمیت ہے۔صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے عارضی ملازمین کی مانگیں اور مشکلات کو تو کسی حد تک دور کیا گیا لیکن تعلیم جیسے اہم محمکے میں کام کرنے والے افراد کے مطالبات کو لگاتار التوا اور سرد خانے میں پڑا رہنے دیا گیا۔
ہائر ایجوکیشن میں کام کرنے والے کنٹریکچول اساتذہ درس و تدریس کے کام کو جاری رکھنے کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کے بغیر چارہ بھی نہیں اور ان کی جگہیں بھی خالی ہیں۔ پھر جانے کیوں اعلی حکام کا دھیان ان کی طرف نہیں جاتا۔ کالجوں میں اساتذہ کی قلت کے باوجود ان اسامیوں کی بھرتی کے لیے پیش رفت نہیں ہوتی بلکہ سرکاری خزانے پر دباؤ پڑ جائے گا کی سوچ کو لے کر ان کی جگہ کم تنخواہوں پر کام کرنے والے تین دہائیوں سے اس امید پر کام کر رہے ہیں کہ ان کے مطالبات کا ازالہ ہوگا اور وہ بھی مستحکم کئے جائیں گے لیکن تاحال ایسا نہیں ہوا۔ستم ظریفی یہ ہے کرونا جیسی عالم وبا میں جب ہر فرد مالی مشکلات سے دوچار ہے اور ہر فرد چار دیواری کا قیدی بن کر اپنی بنیادی ضرورت کو حاصل کرنے کی تگ ودو سے بھی محروم ہے ، ان سے کالجوں میں کام کرنے کا حق فقط اس لیے چھین لیا گیا کہ یہ اپنے مطالبات کو لے کر عدالت گئے تھے۔عدالت نے احکامات جاری کئے کہ جب تک حتمی فیصلہ نہ سنایا جائے تب تک ان کو کام کرنے دیا جائے لیکن ڈائرکٹر کالجز نے پرنسپل صاحبان کے کانوں میں جانے کیا ڈائرکشن دی کہ وہ کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں۔جس کی وجہ سے ہزاروں گھرانے مالی اور ذہنی مشکلات کے شکار ہیں۔
ہائر ایجوکیشن میں کام کرنے والے کنٹریکچول استاتذہ اور ہائر ایجوکیشن کے درمیان تنازعہ کی وجہ سے نہ صرف طلباء کا مستقبل اور وادی کا تعلیمی نظام درہم برہم ہے بلکہ کنڑیکچول اساتذہ بھی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ایک دو سال سے انہیں جان بوجھ کر لگاتار ہراساں اور اذیت سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ عدالت نے انہیں تب تک کالج میں کام کرنے کا اجازت نامہ دیا ہے جب تک کہ کیس کا فیصلہ نہ ہو لیکن ہائر ایجوکیشن کے عہدےداراں اور کالج پرنسپلوں کی ہٹ دھرمی نے نہ صرف ان کے مستقبل کو تاریک کر رکھا ہے بلکہ ان کو اتنا مجبور کر کے رکھ دیا ہے کہ یہ کوئی بھی سنگین اقدام اٹھانے کے لیے مجبور ہیں۔انہیں اس کالج میں اندر آنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی جس کو انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال معمولی تنخواہوں کے عوض دئیے۔ان کی بات سننے کو کوئی تیار نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پرسان حال ہے۔ یہ پچھلے سال سے گھروں میں پریشان حال بیٹھے ہیں اور پرنسپل صاحبان نے ان کے بدلے من پسند بندوں کو مختلف کالجز میں خود تعینات کرکے سیاہ تاریخ رقم کردی ہے۔
ان کو ذہنی ہراساں اور جذباتی طور مجروح کرنے کے ان گنت حربے آزمائے گئے۔جن کالجوں میں یہ اسٹیٹس کو ( status quo) پر کام کرتے تھے وہاں کے پرنسپل صاحبان نے ان کو بطور گیسٹ فیکلٹی( guest faculty) کام کرنے کے احکامات صادر کئے۔ان کو گھنٹے کے حساب سے اجرت دینا شروع کی،جو نہ صرف ان کا استحصال ہے بلکہ ان کو حقیر دکھانے اور بے عزت کرنے کے مترادف ہے۔جبکہ پورے کنبے کا انحصار ان پر ہی ہے ایسے میں ان کو مالی مشکلات اور ذہنی پریشانیوں میں مبتلا کرنا کسی طور جائز نہیں۔اس مہنگائی کے دور میں جبکہ کرونا وائرس نے بھی تنگ کر رکھا ہے اور ان کے لیے سوائے پڑھانے کے کوئی اور کام نہیں ان کو آن لائن تعلیم دینے اور اپنا گھر چلانے کی بھی اجازت نہیں۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں لیکن کئی بار ان کی نوٹس میں اپنے مسائل کو لانے کے باوجود ان کی طرف کوئی توجہ نہ ہوئی۔پچھلے کئی سالوں سے یہ لگاتار کوشش کر رہے تھے کہ سرکاری ان کی طرف توجہ کرے گی تاکہ ان کے ان زخموں کا کچھ علاج ہو جو ان کو لگاتار نظر انداز کرنے، ہراسان کرنے، ان کو ستانے اور بے وقر کرنے سے ناسور بن گئے ہیں۔لگاتار رسوائی، بار بار شرمندگی سے تنگ یہ دیوانے عدالت انصاف تلاش کرنے پہنچے اور ان قرض کی مے پینے والوں کو یقین تھا کہ ان کی فاقہ مستی ایک دن ضرور رنگ لائے گی۔دو سال ہونے کو آئے ابھی ان کے سرخ خون کو سفید ہی کہا گیا۔یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا وہ دن آئے گا یا نہیں جب کنٹریکچول ہونے کا دھبا جو گالی کا روپ اختیار کر چکا ہے، سفید کپڑے پر لگے داغ کی طرح نازیبہ لگتا ہے اور جو ان کے ماتھے پر موٹے حروف میں لکھا گیا ہے صاف ہوگا یا نہیں۔اپنی تدریس سے پھتر کو تراش کر مورت بنانے والے، جاہل کو صاحب علم اور ناخواندہ کو تہذیب اور علم کے زیور سے سجانے والوں کی ویران اور خزاں رسیدہ زندگیوں میں خوشیوں کی بہار خدا جانے کب آئے گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو وہ حق دیا جائے جس کے یہ مستحق ہیں۔اگر ان کے مسائل کو جلد از جلد حل نہ کیا گیا اور ان کے جائز مطالبات کو نہ مانا گیا تو یہ مزید دھندلکے میں گر جائیں گے۔ان کی معاشی ساکھ خراب ہو چکی ہے۔ان کا وقار اور مرتبہ ملیا میٹ ہوگیا ہے اگر ان کو یوں ہی ہراساں کیا گیا اور ان کے مسئلے کی طرف توجہ نہ کی گئی تو یہ مزید ذہنی انتشار کے شکار ہوجائیں گے جس سے معاشرے پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔
رابطہ:-8493981240 کولگام کشمیر