ہائی سکول فتح پور کے اساتذہ پر اسکولوں سے غیرحاضررہنے کاالزام

پونچھ// ریاستی حکومت کی جانب سے بہتر تعلیم کے دعوے تو کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر ریاست جموں و کشمیر کے کچھ علاقوں میں تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے فتح پور کے گورنمنٹ ہائی اسکول کے اساتذہ پر وہاں کی عوام نے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹیوں سے غائب رہتے ہیں اور ان کے بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق اس اسکول میں تعینات اکثر اساتذہ اسکول سے غائب رہ کر اپنے ذاتی کاموں میں مصروف رہتے ہیں ۔انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ اساتذہ جو پونچھ کے وہاں تعینات کئے گئے ہیں وہ اسکول نہیں جاتے لیکن دوسرے اساتذہ حاضری رجسٹر ان کے گھر پر پہنچا کر ان کی حاضری لگواتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب اس سلسلہ میں سابق  چیف ایجوکیشن افسر سے شکایت کی گئی تو انہوں نے یقین دہانی توکی لیکن اساتذہ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ 25تاریخ کو اسکول میں تعینات ایک استاد اسکول سے غیر حاضر تھا جب انہوں نے اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں وہ کہا ںہیں تو پتہ چلا کہ وہ نور پور میں کرکٹ میچ کھیل رہے ہیں۔ مقامی شخص محی الدین نے نہایت ہی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام اسکولوں سے اساتذہ کو تبدیل کر کے دوسرے اسکولوں میں لگایا جاتا ہے لیکن ان کے اسکول میں پندرہ پندرہ سولہ سولہ سالوں سے اساتذہ کی تبدیلاں نہیں ہوئی ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ اساتذہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو رشوت دیکر اپنی تبدیلیاں روک دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سلسلہ میں وزیر تعلیم، ضلع ترقیاتی کمیشنر اور چیف ایجوکیشن افسر سے التماس کر چکے ہیں لیکن کسی نے کاروائی نہیں کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ سرکار کی ایمانداری کے دعوے کھوکھلے ہیںاور زمینی سطح پر کچھ نہیں کیا جا تا ۔انہوں نے پونچھ میں تعینات ہوئے نئے چیف ایجوکیشن افسر عارف ملک سے اپیل کی کہ وہ ہائی اسکول فتح پور کا دورہ کر کے وہاں کا جائزہ لیں اور وہاں عرصہ دراز سے تعینات اساتذہ کو تبدیل کر کے وہاں نئے اساتذہ تعینات کریں تاکہ ان کے بچوں کا مستقل برباد ہونے سے بچ جائے۔