عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر/ /کشمیر میں اس سال گیلاس کی اچھی پیداوار نے باغبانوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ بہتر فصل اور گزشتہ برس کے مقابلے میں قدرے بہتر قیمتوں کے باعث کسان پْرامید نظر آ رہے ہیں، تاہم کولڈ اسٹوریج اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی اب بھی ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔وادی کے مختلف علاقوں میں چیری کی برداشت کا سلسلہ جاری ہے۔ باغبانوں کے مطابق اس سال موسم سے متعلق بعض خدشات کے باوجود چیری کی پیداوار تسلی بخش رہی ہے اور فصل کا معیار بھی بہتر ہے۔خبر رساں ایجنسی ٹی ای این کے مطابق کسانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں بعض اوقات پیداوار زیادہ ہونے کے باوجود قیمتیں کم ملتی تھیں، لیکن اس سال پیداوار مناسب ہے اور مارکیٹ میں نرخ بھی نسبتاً بہتر ہیں، جس سے انہیں بہتر آمدنی کی امید ہے۔باغبان مختلف اقسام کی چیری کاشت کرتے ہیں جو مختلف اوقات میں پک کر تیار ہوتی ہیں، جس کے باعث کئی ہفتوں تک برداشت کا عمل جاری رہتا ہے۔ یہ چیریاں جموں و کشمیر کے علاوہ ملک کی دیگر منڈیوں میں بھی فروخت کی جاتی ہیں۔اگرچہ فصل اچھی ہوئی ہے، لیکن باغبانوں کا کہنا ہے کہ کولڈ اسٹوریج کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں چیری فوری طور فروخت کرنا پڑتی ہے۔ چونکہ چیری ایک جلد خراب ہونے والا پھل ہے، اس لیے اسے زیادہ عرصے تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔کسانوں کے مطابق باغات کی دیکھ بھال، ادویات کے استعمال، مزدوری اور نقل و حمل پر کافی خرچ آتا ہے، لیکن مناسب ذخیرہ گاہوں کی عدم موجودگی کے باعث انہیں اکثر کم قیمت پر ہی اپنی پیداوار فروخت کرنی پڑتی ہے۔باغبانوں کا کہنا ہے کہ اگر جدید کولڈ اسٹوریج مراکز قائم کیے جائیں اور بعد از برداشت سہولیات کو بہتر بنایا جائے تو انہیں بہتر قیمتیں حاصل ہو سکتی ہیں اور نقصان میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔متعلقہ حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چیری صنعت کی ترقی کے لیے ذخیرہ گاہوں، تکنیکی معاونت اور مارکیٹنگ سہولیات کو فروغ دیا جائے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور اس اہم باغبانی شعبے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔