جاوید اقبال
مینڈھر// سب ڈویژن مینڈھر کے گوہلد علاقے میں ایک 24 سالہ نوجوان کی مشتبہ حالت میں موت واقع ہونے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ متوفی کی شناخت محمد شاہد ولد محمد شفیق سکنہ گوہلد مینڈھر کے طور پر کی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق محمد شاہدتقریباً ایک سال تک جیل میں قید رہنے کے بعد گزشتہ روز ہی جیل سے رہا ہو کر اپنے گھر واپس آیا تھا۔ گھر واپسی کے بعد اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ دار اس کی رہائی پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے تاہم کل اچانک اس کی طبیعت بگڑ گئی اور تھوڑی ہی دیر میں اس کی موت واقع ہو گئی، جس کے بعد گھر میں کہرام مچ گیا اور علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
متوفی کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ نوجوان کے ایک ساتھی نے اسے نشے کا انجکشن لگا دیا تھا جس کے باعث اس کی حالت بگڑ گئی اور بعد ازاں اس کی موت واقع ہو گئی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہیے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی شخص اس واقعہ میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور معاملے کی ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق نوجوان کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے لاش کو قانونی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا ہے اور رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی صحیح وجہ واضح ہو سکے گی۔واقعہ کے بعد پورے علاقے میں تشویش کی فضا پائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے بھی انتظامیہ اور پولیس سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقیقت کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔