گول//سرکارکی جانب سے پنچایتی سطح پرتعمیراتی کاموں کوکروانے کے لئے ٹینڈرسکیموں کولاگوکیاگیا اور اس سلسلے میں ہر جگہ پر ڈی کلاس ٹھیکیداری کارڈ پنچایتی سطح پربنائے گئے تاکہ ہرکام کی ٹینڈرنگ ہو لیکن وہیں دوسری جانب ان چھوٹے ٹھیکیداروں نے اس بات پرسخت احتجاج کامظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ صرف ضلع رام بن میں ہی الگ قانون کیوں ہے اگر چہ ان چھوٹے پیمانے کے ٹھیکیداروں کو پندرہ لاکھ تک کام الاٹ کرنے کی حد رکھی گئی ہے لیکن ان چھوٹے کاموں پربھی یہاں اے کلاس ٹھیکیدار آگے آ رہے ہیں جس وجہ سے نئے ٹھیکیداروں اورکم درجہ کے ٹھیکیداروں کے حقوق پر شب وخون ماراجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ پنچایتی سطح پر سرکار نے بیروزگاری کوختم کرنے کیلئے یہ ٹینڈرنگ سسٹم بنایا اور اس کے لئے پڑھے لکھے نوجوانوں نے ڈی کلاس کارڈ بنائیتاکہ وہ اپناروزگار کما سکیں لیکن افسوس کامقام ہے کہ ضلع رام بن میں اے کلاس ٹھیکیداربھی پچاس ہزار اور ایک لاکھ کے پیچھے پڑے ہیں جو کافی افسوس ناک ہے۔انہوں نے گورنرمنہوج سنہا سے مطالبہ کیاکہ وہ جلداز جلد ان کے ساتھ انصاف کرے تاکہ یہ چھوٹے درجے کے ٹھیکیدار اپناروزگارکماسکیں۔