گمشدہ ستارہ

تحریک کشمیرکے آغاز سے ہی یہاں کے صحافیوں نے اپنے پیشے کی عظیم روایات کو بر قرار رکھتے ہوئے بے شمار قربانیاں دیں۔ صحافی غلام محمد کشفی کو شیخ محمد عبداللہ نے سرعام پیٹا اور حد متارکہ پار کرنے پر مجبور کیا۔ پریم ناتھ بزاز اور جگر ناتھ ستھو کو جلاء وطن کیا گیا ،’’الصفا‘‘ کے مدیرمحمد شعبان وکیل اور’’ایشین ایج ‘‘ کے مشتاق علی کوگولیاں مارکرموت کی نیند سلادیا گیا، ’’وادی کی آواز‘‘ کے مدیر غلام نبی شیداؔ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا ، ش م احمد پر بے تحاشہ گولیاں چلائی گئیں، وغیرہ وغیرہ۔ رواں مسلح جدوجہد کے دوران صحافیوں کا قتل بھی ہوا ، جب کہ ان کا اغواء، مار پٹائی اور دھمکیاں تو روز کا معمول تھیں ، اس سب کے باوجود ان کاقلم بھی چلتا رہا اور حق نوائی کی راہ میں قربا نیوں کا سلسلہ بھی جاری ر ہا۔
 کنگن کے غلام محمد لون اس چھوٹے سے قصبے میں نیوز ایجنسی چلاتے تھے اور سرینگر کے اخبارات کے لئے رپوٹنگ بھی کرتے تھے ۔ 1994 کا پُر آشوب دور تھا۔ صحافیوں پر کافی دباؤ تھا لیکن لون صاحب نے ہمیشہ سچ کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی۔ اگست میں 197پنجاب سے وابستہ فوجی اہل کاروں نے ان کو ایک غلط خبر شائع کرانے پر دباؤ ڈالا۔ لون صاحب نے صاف انکار کیا تو یہ وردی پوشوں کو گراں گزرا۔لون صاحب نے ان کی دھمکیاں نظر انداز کیں۔ اس کے بعد ان کاکئی بار کیمپ میں شدید ٹار چرکیا گیا لیکن لون صاحب نہ جھکے۔ چناںچہ 29 اور 30 اگست کی درمیانی شب کو تقریباً  11.20 منٹ پر کئی فوجی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند گولیاں چلادیں۔ لون صاحب اور ان کے 8؍سالہ بیٹے شکیل احمد لون نے موقع پر ہی جام شہادت نوش کیا۔ لوگوں نے اس قتل عمدکی زبردست مذمت کی ۔ 4ستمبر کو سرینگر میں صحافیوں نے احتجاج کیا ۔ انہوں نے لون صاحب کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا اور ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہ کرنے کا عہد کیا۔ حقوق انسانی کے کارکنا ن نے کافی جدوجہد کی لیکن آج تک ان کے لواحقین جن میں لون صاحب کے دو بیٹے بھی شامل ہیں، کو قطعی کوئی انصاف نہیں ملا۔ لون صاحب کے جنازے میں کافی لوگوں نے شرکت کی۔ ان کو آبائی گاؤں کنگن میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی شہادت نے اقوام عالم کو دکھا دیا کہ کشمیر میں جمہوریت کے چوتھے ستون پر کتنی قدغنیں لگی ہیں۔ غلام محمد لون کنگن میں ہی محمد منور لون کے ہاں 1957  ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کنگن میں پائی اور صرف مڈل کلاس تک ہی پڑھ پائے۔تحریک سے والہانہ وابستگی رکھنے والے لون صاحب جماعت اسلامی کے قریبی ہمدردوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ جماعت سے وابستگی کی بنا پر ہی ان کو بار بار عذاب و عتاب کا شکار ہونا پڑا لیکن وہ برابر اپنے موقف پر قائم رہے ۔ 
  نوٹ : کالم نگار ’’گریٹر کشمیر‘‘ کے  سینئر ایڈ یٹر ہیں 
فون نمبر9419009648