ماحولیاتی تبدیلی پر گلاسگو کانفرنس ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اگر ترقی یافتہ ممالک اپنی نقصاندہ گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے کے لیے ترقی پذیر اور غریب ممالک کی مدد کرنے کے لیے گلاسگو میں کسی پرعزم نظام کو قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔عالمی پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلی سے رونما ہونے والے منفی اثرات سے کس طرح نبرد آزما ہوا جائے، اس کے بارے میں کوئی نئی حکمت عملی ترتیب دینے اور اس کے لیے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ملکوں کے نمائندوں کی تجاویز پر غور کرنے اور انھیں کوئی عملی جامہ پہنانے کے لیے اور گزشتہ اہداف کو ناپانے کے تئیں غوروغوض کرنے کے لیے تقریباً 190ملکوں کے سربراہان 31؍اکتوبر سے 12نومبر تک اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت اور برطانیہ کی زیر میزبانی برطانیہ کے گلاسگو شہر میں جمع ہوں گے۔ CoP-26 (Conference of Parties -26) نام سے جانے والے ان اجلاس کی شروعات 1995میں برلن میں ہوئی تھی، اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق کیوٹو پروٹوکول1997میں جاپان میں منعقد ہونے والے اجلاس میں عمل میں آیا تھا۔ ہندوستان نے CoP کے آٹھویں اجلاس کی میزبانی 2002میں کی تھی۔
گلاسگو اجلاس سے دنیا کے ہر ملک کی توقعات وابستہ ہیں۔ ان میں وہ ملک بھی شامل ہیں جو کہ گزشتہ کافی عرصے سے ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مضر اثرات کو کم کرنے کی کوشش اور اس کے لیے دوسرے ملکوں کی مدد کررہے ہیں اور وہ ملک بھی شامل ہیں جو کہ اس مسئلے پر صرف لفاظی کررہے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کے علاوہ، ماحولیاتی ماہرین اور صنعت کاروں اور کاروباریوں کی ایک بڑی تعداد اس کانفرنس میں موجود ہوگی۔ موجودہ سیاست دانوں اور صنعت کاروں کو معلوم ہے کہ اگر انھوں نے جلد ہی ایسے فیصلے نہیں لیے جن سے کہ عالمی حدت میں کمی کی جاسکے تو یہ سب کی تباہی کی وجہ بن سکتی ہے۔ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے اس موضوع پر اپنی حالیہ کتاب میں تحریر کیا ہے کہ اگر ہم 2050تک عالمی پیمانے پر کاربن گیسوں کے اخراج کو بالکل ختم نہیں کردیتے تو یہ تمام انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
CoP-26 سے توقعات :
ماحولیاتی تبدیلی سے ٹکر لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی تنظیمUNFCCC جس کے تحت CoP-26کام کرتی ہے، اس کے گلاسگو اجلاس سے عالمی رہ نما، چار ہدف حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔
اولین ہدف سن 2050تک نیٹ زیرو یعنی کاربن گیسوں کے اخراج کو بالکل صفر یا ختم کردینا اور عالمی حدت میں صرف 1.5سیلسیس کو یقینی بنانا۔
دوسرے متاثرہ آبادیوں کو بچانا اور قدرتی وسائل کی نگہداشت کرنا یعنی ان آبادیوں کو جو کہ سمندر کی سطح بڑھنے کی وجہ سے یا زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے بے گھر ہوسکتی ہیں، اُن کی مدد کرنا اور ایسے ماحولیاتی نظام قائم کرنا جن کے ذریعہ زراعت، چراگاہوں اور آبی وسائل کو بچایا جاسکے۔
تیسرے ترقی یافتہ ممالک سے ہر سال 100ارب ڈالر جمع کرنا جو کہ ان ملکوں کو مدد کے طور پر مہیا کرائے جاسکیں جو کہ زیادہ تر غریب ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے شکار ہیں اور اس کے علاوہ ان ٹیکنالوجی پر خرچ کرنا جو کہ کاربن گیسوں کے اخراج کو کم کرسکیں یعنی کہ بیٹری اور بجلی سے چلنے والی چیزیں۔
آخر میں گلاسگو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کچھ نئے قوانین مرتب کرے گا جن کے ذریعے ایسے تفصیلی قوانین بنائے جاسکیں اور عمل میں لائے جاسکیں جن کے ذریعے 2015کے پیرس معاہدے کو یقینی بنایا جاسکے۔
CoP-26 سے مطالبات :
اس اجلاس کے دوران جو عمل سب سے زیادہ اہم رہے گا، وہ ہے پیرس معاہدے کے لیے تمام ممالک کو پابند بنانا اور اس کی کامیابی کے لیے وعدہ کی گئی رقم کو اقوامِ متحدہ کو مہیا کرانا۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت امریکہ نے پیرس معاہدے سے اپنے کو الگ کرلیا تھا، لیکن موجودہ صدر جوبائیڈن نے صدر نام زد ہونے کے بعد اعلان کیا تھا کہ امریکہ دوبارہ پیرس معاہدے میں شامل ہوگا اور جو رقم اسے اقوامِ متحدہ کو ماحولیاتی تبدیلی سے جنگ کے لیے دینی ہے وہ دے گا۔
لیکن یہاں سب سے اہم سوال جو ہے وہ یہ کہ آپ کس طرح ترقی پذیر یا غریب ممالک سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کوئلے سے بجلی نہ پیدا کریں، کیونکہ ان کے پاس وہ وسائل نہیں ہیں کہ وہ جوہری توانائی یا آبی وسائل کے ذریعہ بجلی پیدا کرسکیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ آبی وسائل کے ذریعہ بجلی پیدا کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کے لیے بنائے جانے والے باندھ دوسرے ماحولیاتی پہلوؤں کی خلاف وزری کرتے ہیں جیسا کہ اتھوپیہ اور مصر کے درمیان دیکھنے میں آرہا ہے۔
اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کا جو سب سے تشویش ناک پہلو سامنے آرہا ہے وہ ہے اس کی وجہ سے علاقائی تنازعات میں اضافے کا۔ ان تنازعات کی بڑھنے کی وجہ مویشیوں کے لیے تازہ چراگاہ کی کمی، کھیتی کی کم ہوتی زمین اور آبی وسائل میں کمی ہیں۔ جب ان سب کے کم ہونے کی وجہ سے کاشت کار یا چرواہے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں ہجرت کرتے ہیں تو عموماً ان کی لڑائی اس جگہ بسنے والے کاشت کاروں یا زمین کے مالکان سے ہوتی ہے۔ اس نوعیت کی وارداتیں زیادہ تر افریقہ میں سامنے آرہی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق صرف مغربی اور مرکزی افریقہ کے مختلف ممالک میں اس طرح کی جھڑپوں میں 2010 سے اب تک 15,000افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی کا ایک اور پہلو بھی سامنے آرہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ تبدیلی کا منفی اثر صرف غریب یا ترقی پذیر ممالک پر ہی رونما ہوگا کیونکہ قدرت امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں کرتی، اس کی تازہ مثال اسی سال جرمنی اور کینڈا میں آنے والے سیلاب ہیں جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کی تباہی بھی دیکھنے میں آئی۔
ماہرین کی رائے ہے کہ آپ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے رونما ہونے والے منفی اثرات ایک حد تک تو اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لاکر اور گیسوں کے اخراج میں تخفیف کرکے حاصل کرسکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو تبدیلی سے موافقت رکھنے والی تدابیر بھی اختیار کرنا لازمی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اسی راستے میں چلتے رہے تو مستقبل میں ہم دیکھیں گے کہ پوری دنیا میں زیادہ گرمی کے ساتھ لمبے عرصے تک جلنے والی گرم ہواؤں اور طوفان میں اضافہ ہوگا، اور اس کے ساتھ ہی مختلف مقامات پر درجہ حرارت میں اضافہ لمبے عرصے تک قائم رہے گا۔ دوسرے گرمی کی وجہ سے سوکھے کے اثرات بھی زیادہ لمبے عرصے تک چلیں گے اور ان علاقوں میں سوکھا دیکھنے میں آئے گا جہاں اب سے پہلے اس کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کے علاوہ درجہ حرارت میں اضافہ جنگلات میں آگ لگنے کا بھی سبب بنے گا۔ اسی سال کینیڈا اور ترکی میں ان جنگلی آگ کے اثرات پوری دنیا کے سامنے دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ اور آخر میں یہی گرمی زیادہ بارش اور سیلاب کا بھی سبب بنے گی۔ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ماحول کی نمی میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ پانی کے بخارات میںاضافے کا سبب بنتا ہے جس کی وجہ سے ایک مختصر علاقے میں زیادہ بارش ہونے کے اندیشے بڑھ جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ جب تک زہریلی گیسوں کا اخراج کرنے والے ملک کوئی مؤثر حکمت عملی نہیں اپناتے تب تک گلاسگو کانفرنس سے کچھ زیادہ توقع نہیں کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے سابق جنرل سکریٹری بان کی مون نے امریکہ اور چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس موضوع پر کوئی اتفاقِ رائے اور نئی حکمت عملی قائم کریں ۔ کیونکہ ان دونوں ملکوں کی شمولیت کے بغیر ماحولیاتی تبدیلی سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی بھی مؤثر حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس سلسلے میں برطانیہ کی ملکہ الزیبتھ نے بھی اپنی خفگی کا اظہار کیا ہے کیونکہ ابھی تک زیادہ تر ملکوں کے اعلیٰ سیاسی رہنماؤں نے اس اجلاس میں اپنی شرکت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان میں چین، یو اے ای اور ہندوستان بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اتنے حساس موضوع پر بھی ساتھ بیٹھ کر کوئی اتفاق نہیں کرسکتے تو یہ ہم سب کے لیے خود کشی کے مترادف ہوگا۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com