ملک منظور
خوشحالی نے حال ہی ان کے گھر میں قدم رکھا تھا ۔بہار نے آنے میں بہت دیر لگائی تھی۔خزاں اور سرما کے زخم ابھی پوری طرح سے بھرے نہیں تھے ۔میاں بیوی نے زندگی کی شروعات ایک شکست ناو سے کی تھی ۔اس ناو کے ارد گرد ویرانوں کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ایسے میں تمناؤں کا باغ لگانا مشکل تھا۔ بنجر زمین میں خوشیوں کا باغ لگانا آسان نہیں تھا ۔لیکن دھیرے دھیرے ہمت اور حوصلوں نے رنگ لانا شروع کیا ۔بنجرزمین زرخیز بن گئی ۔تمناوں کا باغ کھل اٹھا۔ تارے مہربان ہونے لگے ۔خوشیوں کے جھرنے بہنے لگے ۔بچوں کی مسکراہٹ سے پورا گھر جگمگانے لگا ۔میاں بیوی دن رات ایک کر کے معصوم بچوں کی پرورش بخوبی کرنے لگے ۔باغ ثمردار بن گیا ۔مسرتوں کی رحمتیں نازل ہورہی تھیں ۔گھر کے سارے افراد خوش و خرم تھے ۔آس پاس کے حالات ٹھیک ٹھاک نہیں تھے ۔ایک بڑے طوفان نے ہزاروں باغوں کو برباد کیا تھا ۔ننھے پھولوں کی عفتیں پامال ہورہی تھیں ۔معصومگلوں کو روندا جارہا تھا ۔تارے بیزار ہوگئے تھے ۔ہاہا کاری کا عالم تھا ۔باپ نے شام ہوتے ہی اپنے بچوں کو بلایا اور سمجھایا ۔۔۔دیکھو بچو ۔۔۔طوفان نے سارے عالم کو اپنے لپیٹے میں لیا ہے ۔لوگوں کے باغات ویران ہو رہے ہیں ۔۔۔۔جتنا ممکن ہو سکے اس طوفان سے دور رہنا ۔۔۔۔اس کے اردگرد بھٹکنا مت ۔۔۔جب تک یہ طوفان تھم نہ جائے گا ۔۔۔تب تک گھر کے آس پاس ہی رہنا ۔۔۔ہم اس طوفان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔۔۔۔اس کو روکنے کے لئے مضبوط دیواریں ہونی چاہیے ۔۔۔چند مضبوط کھمبے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔۔۔۔اس لئے جیسا دیس ویسا بھیس ۔۔۔
بچے غور سے سن رہے تھے ۔۔۔اور بیچ بیچ میں دل کو دہلانے والے واقعات بھی بیان کررہے تھے ۔۔۔چھوٹا بیٹا کہیں کھوگیا تھا ۔۔۔۔وہ انجانی دنیا کی سیر کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ نااہل نہیں تھا لیکن خاموش تھا، وہ کسی سے کچھ نہیں کہتا تھا ۔۔۔اس کے چہرے پر بغاوت کے آثار نمایاں ہورہے تھے ۔۔۔۔۔
بڑے بھائی نے پوچھا۔۔۔اخلاق کیا سوچ رہے ہو۔۔۔اخلاق نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔وہ سر جھکائے کہیں کھو گیا تھا ۔۔۔باپ نے نام لے کر آواز دی ۔۔۔۔اخلاق ، اخلاق کہا ںکھو گئے ہو اور کیا سوچ رہے ہو۔۔۔۔اخلاق نے سر اٹھایا اور دیکھا سب اس کو ٹک ٹکی باندھ کر دیکھ رہے تھے ۔۔۔اس نے کہا ۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔میں خبر پڑھ رہا تھا ۔۔۔۔چمن میں دو کلیوں کو روند کر توڑ دیا گیا ہے ۔۔۔۔باغبان کے واحد سہارے کو زمین بوس کیا گیا ہے ۔۔۔یہ سب فیس بک پر آیا ہے ۔۔۔
۔۔بڑے بھائی نے غصے سےکہا ۔۔۔تجھے کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتوں کو سنجیدگی سے مت پڑھ ۔۔۔۔یہاں کسی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں ۔۔۔۔اور پھر الزام کسی تیسرے پر ڈالتے ہیں ۔۔۔یہاں لڑکوں اور لڑکیوں نے حیا اور پاکدامنی کو پاش پاش کیا ہے ۔۔۔۔۔کون کیا سوچتا ہے اور کیا کرتا ہے ۔۔۔کسی کو معلوم نہیں ۔۔۔اخلاق کے کان پر ان باتوں سے جوں تک نہیں رینگی ۔وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گیا ۔گھر کے سبھی افراد اس کی طرف دیکھتے رہے ۔لیکن کسی نے کچھ نہیں کہا ۔
ماں کہنے لگی : میرے بیٹے کو کسی کی نظر لگی ہے ۔پتہ نہیں کون اس کے کان بھر رہا ہے ۔باپ نے کہا : اس پر نظر رکھو کہیں کسی غلط سنگت میں نہ پڑے ۔لیکن دیر ہوچکی تھی۔اخلاق کو کسی نے جھانسہ دیا تھا ۔اس کی تقدیر کو کسی نے بدل دیا تھا ۔اس کی زبان پر کسی نے لگام کسی تھی۔ ۔وہ بہکاوے میں آچکا تھا ۔اسی لئے وہ خاموش رہتا تھا ۔
اگلے دن جب سب لوگ اپنے اپنے کام سے گھر واپس لوٹے تو اخلاق کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے ۔گھبراہٹ نے سب کے من میں گھر کر لیا ۔دوستوں اور رشتے داروں سے پوچھ گچھ کی ۔لیکن مایوسی کے گھنے اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ملا ۔اسی اثنا میں کسی نے کہا : وہ تو لال پاشان لے کر طوفانی لہروں کی طرف بڑھ رہا ہے ۔۔
وہ کہہ رہا تھا کہ اس طوفان کو روکنا ضروری ہے ۔۔گھر والے ہکا بکا ہوگئے ۔۔۔وہ سمجھ گئے کہ تیز طوفان کا رخ موڑنا ناممکن ہے ۔۔اس کے لئے اگر سارا گاؤں بھی جائیگا تو بھی قابو نہیں کرسکتے ۔اس طوفان کی سرد لہروں نے کافی گرم خون سرد کیا ہے۔
ماں باپ پیچھے پیچھے دوڑتے ہوئے زور زور سے آواز دے رہےتھے ۔۔۔بیٹے نہ جا ۔۔۔واپس آجا ۔۔۔تو اس طوفان کا سامنا نہیں کرسکے گا ۔۔۔۔نہ لال نہ پیلا نہ کوئی اور پاشان اس طوفان کو تھام سکے گا ۔تیری کوشش رائیگان ہوگی لیکن اس نے ایک نہ سنی اور آگے بڑھتا گیا ۔۔۔۔والدین نے روکنے کی کافی کوشش کی۔۔ لیکنفضول ! چند لمحوں کے بعد طوفانی لہروں نے اخلاق کو نگل ڈالا اور والدین ہاتھ ملتے رہے ۔
[email protected]
گرم خون سرد لہر