گاندربل//گاندربل ضلع کے لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن نے ضلع میں کسی کو بھی ایک فٹ عمارتی لکڑی بھی فراہم نہیں کی ہے،جس کی وجہ سے وہ نہ ہی اپنے پرانے مکانوں کی مرمت وتجدیدکاکام کرسکے اور نہ ہی نئے مکانات کی تعمیرمکمل کرسکے۔ضلع کے متعدد علاقوں جن میں کنگن، مامر،وسن،بونہ زل،پرنگ،لار،منیگام ،ہاری پورہ،بنہ ہامہ،بارسو ،کرہامہ ،بٹہ وینہ ،واکورہ ،لارسن ،تولہ مولہ ،نونر،سہپورہ،کورگ ،شالہ بگ سمیت دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے متعدد افراد نے بتایا کہ گزشتہ دو سال سے اُن کو رہائشی مکانوں کی تعمیر یا تجدید کے لئے عمارتی لکڑی فراہم نہیں کی جارہی ہے،جبکہ گزشتہ برس آتشزدگی کی واردات میں جو درجنوں رہائشی مکانات خاکستر ہوگئے تھے ،ان کو بھی ابھی تک تعمیرات کے لئے عمارتی لکڑی فراہم نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ یا تو مہنگے داموں لکڑی حاصل کرنے پر مجبور ہیں یا پھر اسمگلروں سے حاصل کررہے ہیں،جبکہ ہر سال محکمہ جنگلات، ضلع کے صارفین کیلئے سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کو ہزاروں مکعب فٹ لکڑی فراہم کررہا ہے مگر پراسرار طور پر وہ غائب ہوجاتی ہے جبکہ ضرورت مند صارفین کولکڑی فراہم کرنے میں کارپوریشن ناکام ہورہی ہے۔کشمیر عظمی کو باباصالح کے مقامی شہریوں علی محمد خان اور عبدل رحیم ریشی نے بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں آتشزدگی کی واردات میں ان کے دو رہائشی مکان راکھ کا ڈھیر بن گئے تاہم ابھی تک سٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کی جانب سے انہیںعمارتی لکڑی فراہم نہ کرنے کی وجہ سے وہ ٹین کے عارضی ڈھانچے میں رہنے پر مجبور ہیںجبکہ پولیس اور سول انتظامیہ کی باضابطہ کاغذی کاروائی مکمل کرنے کے بعد بھی لکڑی فراہم نہیں کی گئی۔اس بارے میں جب کشمیر عظمی نے سٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ضلع گاندربل کے سلسلے میں مکمل تفصیل طلب کرکے ہی کچھ کہہ سکیں گے اور اگر عمارتی لکڑی فراہم نہیں کی گئی ہے تو انکوائری کریں گے۔