محتشم احتشام
پونچھ//کرشی وگیان کیندرپونچھ، جو شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں (SKUAST-J) کے زیرِ نگرانی کام کر رہا ہے، میں13ویں سائنسی مشاورتی کمیٹی (SAC) کی ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اجلاس کے وی کے پونچھ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا جس کی صدارت سکاسٹ جموں کے وائس چانسلر ڈاکٹر بی۔ این۔ ترپاٹھی نے ہائبرڈ موڈ میں کی۔میٹنگ میں جامعہ کے اعلیٰ عہدیداران اور ماہرین نے شرکت کی، جن میں ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ایس۔ کے۔ گپتا، ڈائریکٹر ایکسٹینشن ڈاکٹر امرِش وید، اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسٹینشن ڈاکٹر وجے شرما شامل تھے۔
اس کے علاوہ ضلع پونچھ کے مختلف محکموں کے افسران، لائن ڈپارٹمنٹس کے نمائندگان، ترقی پسند کسانوں اور خواتین کسانوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سکاسٹ جموں کے مختلف فیکلٹیز بشمول زراعت، ویٹرنری سائنس، ڈیری ٹیکنالوجی، باغبانی و جنگلات کے ڈینز اور پروفیسرز نے آن لائن طریقے سے میٹنگ میں شمولیت اختیار کی۔اجلاس کے دوران ضلع پونچھ میں زرعی ترقی، جدید زرعی تکنیکوں کے فروغ، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں پائیدار زراعت کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کو سائنسی بنیادوں پر جدید معلومات اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ بدلتے موسمی حالات کے مطابق اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔وائس چانسلر ڈاکٹر بی۔ این۔ ترپاٹھی نے اپنے خطاب میں کے وی کے پونچھ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ کسانوں اور سائنسدانوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ تحقیق اور توسیعی سرگرمیوں کو کسانوں کی عملی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ زمینی سطح پر مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں۔میٹنگ کے اختتام پر آئندہ کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا گیا اور ضلع میں زرعی شعبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کو ضلع پونچھ میں زرعی ترقی کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔