اشرف چراغ
کپوارہ//وادی کشمیر کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ کپوارہ ضلع میں بھی دھان کی پنیری لگانے کا عمل عروج پر ہے ۔ ہر طرف ہر یالی ہی ہر یالی ہے تاہم کھیتو ں میں مقامی لوگ کم اور غیر مقامی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد پنیری لگانے میں مصروف نظر آرہے ہیں ۔ضلع کے متعدد علاقوں میں ابھی بھی ہل جوتنے کی روایت بر قرار ہے ۔ لولاب وادی میں اگرچہ مئی کے آخری ایام میں دھان کی پنیری لگانے کاکام شروع ہوتا ہے لیکن ضلع کے باقی علاقوں میں یکم جون سے با ضابطہ طور پنیری لگانے کا کام شروع ہوتا ہے ۔ضلع کے ہزارو ں خاندان بر اہ راست زرعی سر گرمیو ں سے وابستہ ہیں ۔اپریل کے مہینے میں کسان دھان کی پنیری کی بوائی کرتے ہیں اور جون سے دھان کی پنیری لگانے کا کام شروع کر دیتے ہیں ۔کپوارہ کے میدانی علاقوں میں 17ہیکٹرکے قریب اراضی پر دھان کی پنیری لگائی جاتی ہے اور دھان کی کاشت زراعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کو ہستانی ضلع میں ہر طرف ہر یالی ہی ہر یالی ہے۔
پنیری لگانے کے بعد منظر دلکش نظرآتا ہے ۔بنگال کے ایک مزدور کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیو ں کے ہمراہ کشمیر میں مزدوری کرتا ہے لیکن جو ن کے مہینے میں وہ کھیتو ں میں جاکر دھان کی پنیری لگانے کام کر دیتے ہیں اور وہ ایک کنال کے حساب سے 800روپے لیکر اپنا روز ی رو ٹی کماتے ہیں اور ہم 5لوگ ایک دن میں قریب 20کنال اراضی میں پنیری لگاتے ہیں ۔اس دوران ضلع کے دور دراز علاقوں میں ابھی بھی ہل جوتنے کی روایت بر قرار ہے ۔جدید دور میں ٹریکٹر اور ٹلر آنے کے باجود بہت سارے کسان صدیو ں پرانے طریقوں کی قدر کرتے ہیں کیونکہ یہ ہماری ثقافت کی پہچان ہے ۔ان علاقوں میں آج بھی مقامی طور دھان کی پنیری لگائی جاتی ہے اور کسان اس موقع پر روایتی موسیقی اور رقص کا اہتمام کرتے ہیں ۔ان علاقوں کے کسانو ں کا کہنا ہے ی یہا ںپر بیلو ں کا استعمال زراعت کا اہم حصہ ہے اور لوگ اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لئے روایتی طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔