فکر و ادراک
شفیع نقیب
31 مارچ کو دنیا بھر میں ٹرانسجنڈر یا کنر برادری کے مسائل، ان کے حقوق اور سماج میں اُن کے مقام کے حوالے سے خاص دن منایا گیا ۔ اس دن کا مقصد صرف ایک رسمی یاد دہانی نہیں بلکہ ایک ایسے فراموش شدہ طبقے کی طرف اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے، جسے ہم نے اپنی روزمرہ زندگی میں نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے درمیان رہتے ہیں، ہمارے بازاروں، گلیوں، چوراہوں پر دکھائی دیتے ہیں، لیکن ہمارے دلوں میں ان کے لئے جگہ بہت کم رہ گئی ہے۔اگر ہم ذرا سنجیدگی سے غور کریں تو یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کنر برادری صدیوں سے سماجی بے اعتنائی، نفرت، تضحیک اور استحصال کا شکار رہی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جسے نہ مکمل طور پر مرد تسلیم کیا جاتا ہے اورنہ عورت، گویا یہ ایک ایسے خلا میں جیتے ہیں جہاں شناخت کا بحران ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کی انسانیت بھی مشکوک ہے؟ کیا ان کے جذبات، احساسات، دکھ درد ہم سے مختلف ہیں؟ ہرگز نہیں۔یہ بھی ہماری طرح گوشت پوست سے بنے انسان ہیں۔ ان کے دل بھی دھڑکتے ہیں، آنکھیں بھی اشکبار ہوتی ہیںاور عزت و محبت کی خواہش بھی انہی شدتوں کے ساتھ ان کے اندر موجود ہے، جیسے کسی بھی عام انسان میں۔ لیکن افسوس کہ ہمارا سماج انہیں اس بنیادی حق سے بھی محروم رکھتا ہے۔ ہم انہیں دیکھ کر نظریں چرا لیتے ہیں، یا پھر تمسخر اور طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ایک کنر کی زندگی کا سب سے پہلا المیہ اس کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ وہ لمحہ جو کسی بھی گھر میں خوشی کا باعث ہوتا ہے، اس گھر میں ماتم کا رنگ اختیار کر لیتا ہے جہاں ایک ٹرانسجڈر بچہ پیدا ہوتا ہے۔والدین کی پیشانیوں پر بل پڑ جاتے ہیں اور وہ اس ’’بدنامی‘‘ کے بوجھ تلے دبنے لگتے ہیں جس کا تعلق دراصل ان کے اپنے ذہنی رویوں سے ہوتا ہے، نہ کہ اس معصوم بچے سے۔ اکثر اوقات یہ بچے اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر رہ جاتے ہیں۔
تعلیم، جو کسی بھی فرد کی ترقی کا بنیادی زینہ ہے، کنر برادری کے لئے ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اسکولوں میں اُن کا مذاق اُڑایا جاتا ہے، اَساتذہ کی بے حسی انہیں مزید تنہا کر دیتی ہے اور یوں وہ تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے پاس نہ کوئی ہنر ہوتا ہے اور نہ روزگار کے مواقع۔یہی وہ مقام ہے جہاں سماجی بے حسی انہیں اَندھی گلیوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ جب پیٹ کی آگ بھڑکتی ہے اور روزگار کا کوئی ذریعہ میسر نہیں ہوتا تو وہ گانا بجانا، شادی بیاہ میں ناچنایا سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات حالات انہیں ایسے راستوں پر بھی لے جاتے ہیں جہاں ان کا جسم اور عزت دونوں داؤ پر لگ جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت کرتے ہیں۔
ہماری نوجوان نسل کا رویہ اس حوالے سے اور بھی افسوسناک ہے۔ راہ چلتے اُن کا مذاق اڑانا، فقرے کسنا، یہاں تک کہ جسمانی تشدد کرنا، ایک عام بات بن چکی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم جس کا مذاق اُڑا رہے ہیں، وہ بھی کسی کا بیٹا یا بیٹی ہے، کسی ماں کی کوکھ سے پیدا ہوا ہے۔کنر برادری کا ایک اور دردناک پہلو ان کی بڑھاپے کی زندگی ہے۔جوانی میں تو کسی نہ کسی طرح یہ وقت گزار لیتے ہیں، لیکن جب بڑھاپا آتا ہے تو تنہائی، بیماری اور بے بسی اُن کا مقدر بن جاتی ہے۔ نہ کوئی اولاد، نہ خاندان کا سہارا اور نہ ہی سماج کی کوئی ٹھوس مدد۔ اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں عزت نصیب نہیں ہوتی۔ کئی جگہوں پر انہیں عام قبرستانوں میں دفنانے کی اجازت نہیں دی جاتی، جو ہمارے سماج کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کنر برادری میں ایسے افراد کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی محنت، قابلیت اور عزم سے ناممکن کو ممکن بنایا۔ آج وہ پولیس، تعلیم، طب اور دیگر شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کچھ نے سیاست میں بھی اپنا مقام بنایا اور اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر انہیں مواقع فراہم کئے جائیں تو یہ بھی معاشرے کے کارآمد شہری بن سکتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مثالیں عام کیوں نہیں؟ کیوں صرف چند افراد ہی اس مقام تک پہنچ پاتے ہیں؟ اس کا جواب واضح ہے۔مواقعکی کمی، سماجی رویوں کی سختی اور حکومتی اقدامات کا فقدان۔اگر واقعی ہم اس طبقے کی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں محض ہمدردی کے جذبات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کنر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور انہیں بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو ہمیں حاصل ہیں۔
حکومتی سطح پر بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوکریوں میں ان کے لئے مخصوص کوٹہ مقرر کیا جائے، تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں ان کے لئے محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کیا جائے، تاکہ وہ بلا خوف و ہراس تعلیم حاصل کر سکیں۔ صحت کی مفت سہولیات، سفر میں رعایت اور کاروبار کے لئے آسان قرضے فراہم کئے جائیں۔اس کے علاوہ ان کے لئے مخصوص رہائشی فلیٹس،اولڈ ایج ہومزاور پنشن اسکیمیں بھی متعارف کروائی جائیں تاکہ وہ بڑھاپے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔ ایک مضبوط اور فعال ادارہ یا کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان کے مسائل کو سمجھ کر ان کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں کنر برادری کو بھی اپنے دائرہ محبت میں شامل کرنا ہوگاکہ یہ صرف کنر برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی انسانیت کا امتحان ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نفرت، تضحیک اور بے حسی کا راستہ اختیار کریں گے یا محبت، احترام اور قبولیت کا۔ کیونکہ یاد رکھئے، جب ہم کسی کو اس کا حق دیتے ہیں تو دراصل ہم اپنی انسانیت کو بلند کرتے ہیں۔
رابطہ ۔:9622555263
[email protected]