خراج عقیدت
شوکت سرور
یہ خبر وہیں سے اْڑی ہوگی جہاں سے اکثر خبریں اْڑائی جاتی ہیں ۔۔۔ چونکہ میری سماعت بھی سْن گْن لینے، حسب عادت بٹھک ہی رہی تھی کہ اتفاقاً آمنا سامنا ہوا اور علیک سلیک کے بعد چْغلیوں کے تبادلے کے دوران معلوم ہوا کہ کلچرل اکادمی “مسعود چودھری نمبر” چھپوا رہی ہے۔ ایک لمحے کیلئے میرا حافظہ، یادِ ماضی کے اوبڑ کھابڑ راستے پھلانگتا ہوا بائیس سال پیچھے جست لگا کر ماضی میں ٹھیک اْس جگہ رْکا جہاں مجھ میں نو تعینات شْدہ پولیس والے نے میرے اندر کے اْبھرتے ادیب کو ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کرادیا تھا۔ دفعتاً یادوں کی چرمراہٹ (برسوں کی خوابیدہ یادیں توبہ شِکن انگڑائیاں لے کر بیدار نہیں ہوتیں ) کے بیچ میرے اندر سبھی قماش کے سوئے ہوئے ادیب اچانک سے کْلبلا کے بیدار ہونے لگے اور جذبات و احساسات کے نفسا نفسی ارتعاش پر لفظوں کے تانے بانے رینگنے کی سعی کرنے لگے۔ سب سے پہلے شاعر ادیب نے فاعلاتن اور فاعلاتی انداز میں وزن، قافیہ ملائے اور غنائیت بھرا لہجہ لئے چھوٹی بحر میں یہ مَطّلعی مشورہ گْنگْنایا کہ چودھری صاحب کیلئے ایک مدحیہ غزل یا نظم لکھی جائے جس میں سبھی میرانہ، غالبانہ و فیضانہ ریختائیں ، نظیرانہ تراکیب اور انیسانہ و دبیرانہ مدحیہ اسالیب استعمال کرتے ہوئے اْنکی تعریفوں کے ایسے پْختہ پْل باندھے جا ئیں کہ ایک تو حقِ شاگردی ادا ہوجائے۔ساتھ میں منافعے کے طور اْردو ادب کو ترقی کی چوٹی پر پہنچانے کی اپنی “ناکردہ” کاوش کا اندراج بھی کیا جائے مگر ہنوز یہ منظوم سفر، حْسنِ مطلع کے پڑاؤ پر ہی اپنے پْر سوز جذبات و احساسات کی آراستگی میں مگن تھا کہ ایک غیر نظمی ہجویانہ انتباہ ارسال ہوئی جس میں اِن بے بِحر و وَزن انکشافات کا بے ترنمانہ اظہار کیا گیا کہ کچھ لوگ، بالخصوص اپنے محکمہ کے “داروغہ ہائے شک وشبہات” قانونی و غیر قانونی موشگافیاں کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ افسری ماتحتی کے دھونس میں مدح ، حْکماً لکھوائی گئی ہے۔
اْنکی اِس کبیدہ خاطر سوچ سے دِل رنجیدہ ہوا جس سے نظم و غزل کی رْوح مجروح ہوئی۔ حالانکہ میں نے وقت آنے پر منفی سوچوں کی پْھدکان پر ایک مرثیہ لکھنے کی ٹھان لی۔مگر فی الحال یہ مدحیہ شہ پارہ اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل سے گزرتے ہی کدورتوں اور شْبہات کی ضربِ کاری سے مانع حمل کا شکار ہوگیا۔
اسکے بعد افسانہ نگار ادیب اپنے کندھوں پر کئی عدد لمبے چوڑے، مربع و مستطیل، مغموم وخوش کْن، موزوں اور غیر موزوں پلاٹ اْٹھائے اور پیچھے پیچھے اچھے بْرے کرداروں کی پلٹن لئے وارد ہوئے۔ ایک عدد کشیدہ کاری کیا ہوا پلاٹ زمین پر بچھایا اور اس پر گاو تکیہ لگاتے ہوئے کہنے لگے کہ چودھری صاحب کی”شخصیتِ مسعود بمقابلہ اْنکی خدماتِ موجود” کا ہر کوئی قائل ہے مگر اْنکی شخصیت کا ڈیل ڈول ایک پلاٹ میں سمانے والا نہیں۔اس لئے بہ نیتِ افسانہ، پلاٹ کو چاروں طرف وسعت دینے کی ضرورت کے پیش نظر جیومیٹری،میونسپلٹی اور افسانوی اصولوں کی خلاف ورزی اشد ضروری ہے۔ ساتھ میں یہ مشورہ بھی دیا کہ اْنہیں ایک اساطیری کردار میں ڈھالا جائے تاکہ ایک پنتھ دو کاج کے مصداق ایک تو خراجِ تحسین پیش کیا جائے اور ساتھ میں اِس شہ پارے کو ادب کے بہترین افسانوں کی فہرست میں شمار کرانے کی بھی سفارش لکھوائی جائے۔ مگر شومئی قسمت، افسانے کے انجام تک لانے سے پہلے ہی ایک موڑ پر یہ فنی سرزنش ارسال ہوئی کہ ایسے جیتے جاگتے اور متحرک و منفعل کردار کو اساطیری انداز میں پیش کرنے سے لوگ یہ سمجھیں گے کہ یونہی افسانہ گھڑ لیا ہے۔ یہ سرزنشِ ستم ظریفانہ بہ نیتِ مجرمانہ سہی پر فنی طور معتبرانہ تھی اسلئے افسانے لکھنے کے خیال کو اْسی خوبصورت موڑ پر الوداع کہنا پڑا۔
آخر پر نقاد اور مزاح نگار حضرت اپنے ہونٹوں پر برسوں کی کڑوی کسیلی طنزیہ سی مسکراہٹ کی سوکھی اور جمی ہوئی پرت سجائے وارد ہوئے اور بیک وقت مزاحیانہ اور ناقدانہ نظروں و فِقروں سے میرے اندر کی مزاحیہ سوچوں کی کھچڑی پہ نمک و مرچ چھڑکتے ہوئے مجھ پر فقرے کسنے لگے کہ ہماری ادب سے وفاداری اور گہری مطابقت سے نہ صرف انہیں بخوبی واقفیت ہے بلکہ اْنہیں ہمارا اْن سبھی بے مثال نادید تحریروں کے لئے دردِ قلمبندی میں مبتلا ہونے اور اْنکا تولد نہ ہونے کا درد سہنے کا بے حد احساس اور افسوس ہے جو کہ پچھلے کئی برسوں سے صفحہ قرطاس پر جنم لینے کو مچل رہی ہیں۔ مگر فی الحال شرافتِ با دلِ ناخواستہ کا تقاضا یہی ہے کہ مجھے اپنی اِبتدائی قلم آزمائی پر “ادب کے نوبل انعام ” سے تھوڑے کم پر ہی اکتفا کرنا ہوگا اور برسوں سے استعمال کے متلاشی طنزومزاح کے بوسیدہ تیر وں پر تکیہ کرنے سے پہلے اْنکا ڈنک اور کاٹ آزمانا ہوگا۔ اگر طنز کا پْرانا، سن رسید زہر، زمانے کے گردشِ لیل ونہار کی تپش میں تپتے ہوئے اْبل کر اپنا اثر نہ کھو چکا ہو تو ایک خاکہ لکھنے کی سعی کرنا ہوگی جو چودھری صاحب کی شخصیت کا احاطہ کرنے کے نام پر اْنکا گھیراؤ کرے اور اْن پر ضابطہ فوجداری کے سبھی سازشانہ دفعات کا لِحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے۔ ان پر سبکدوش اعلیٰ سرکاری افسر ، نیم خودمختار ادارے کے سربراہ اور دانشورانہ شخصیت کے حامل ہونے کی پاداش میں سبھی مزاحیانہ اور ناقدانہ حربے و حملے آزماتے ہوئے اْن پر کڑوے کسیلے، نوکیلے، کٹیلے و زہریلے طنزوں کے وار کرے۔ مزید یہ کہ اْنہیں مدافعت کا بالکل موقع نہ دیتے ہوئے اْنکی شخصیتی سحر کے حصار کو توڑنے کی کوشش کرنے کے بعد اْنہیں ناقدانہ کسوٹی پر پرکھیں۔
واضح رہے کہ اس بار اتفاقاً بھی کسی قسم کا ناقدانہ و ناصحانہ مشورہ اور تنبیہ و سرزنش ارسال نہیں ہوئی بلکہ قدردانوں کے بھیس میں، تاک میں بیٹھے ناقدین حضرات نے کئی بار نون قاف کے لئے منہ کھولا مگر فقط پھیپھڑوں میں آکسیجن بھرتے رہ گئے۔ آخر یہی طے پایا کہ چودھری صاحب کی شخصیت کے ظریفانہ پہلوؤں کو ظرافت کی گْدگْدیوں سے ہی چھیڑ کر کریدا جائے اور صفحہ قرطاس کی زینت بنایا جائے۔ ؎چودھری صاحب کو میں ا س قدر نزدیک سے جانتا ہوں کہ جب بھی انکی شخصیت کا تصور کرتا ہوں تو آج بھی اپنے وجود کو کرخت آوازوں کے ارتعاش میں قدموں کی تھاپ پر پسینے میں شرابور دوڑتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔محکمہ پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد مجھے انکی نگرانی میں اپنی بنیادی تربیت کا ایک سال بْھگتنے کا موقع نصیب ہوا۔ بْھگتنا اسلئے کہ اْن کے کثیر نکاتی فِٹنس کے پیمانے پر پورا اْترنے کیلئے پورے سال پہلے پسینہ پسینہ اور پھر پانی پانی ہونا پڑا۔ پانی پانی اسلئے کہ پورا سال سرپٹ دوڑنے کے بعد یہ عقدکھلا کہ اْنہیں عقل و دانش سے مطمئن کرنا زیادہ آسان تھا اور ہم نے فِٹنس کے معیار پر اْنکے آگے کھڑا ہونے کے لئے مفت میں اپنے انجر پنجر ڈھیلے کئے۔
میری اْن سے کئی بار ادبی نوعیت کی گفتگو ہوئی جس میں اْنکے طرف کی باتیں خالص ادبی ہوا کرتیں جبکہ میر ی ادبی گفتگو کا الف اکثر حزف ہی رہا کرتا۔اْنکا اندازِ تخاطب بیک وقت شاعرانہ ، فلسفیانہ اور پولسیانہ تھا۔۔۔ جب وہ بات کرتے تو یوں لگتا کہ اْنکا نپا تلا لہجہ کسی ماہر ادیب کی قلمی تراش خراش کا ثمرہ لگتا۔ مگر ساتھ ہی تکلم کے اْلجھائو ایسے کہ وہ جب گویا ہوتے تو مخاطب مخمصے میں پڑ جاتا کہ وہ اْسے خود سے ہم کلام ہونے کا موقع بخش رہے ہیں یا اْسے سْننے کے اعزاز سے نواز رہے ہیں۔
اْن سے قربت کا سب سے کارآمد نسخہ قابلیت اور ادب سے لگاؤ تھا ۔ اْنکی نظر میں قابلیت اور صلاحیت ٹٹولنے کی بْری عادت تھی ۔ کسی میں یہ گْن نہ پاتے تو اْس کے ساتھ اپنے تکلم کو جان بوجھ کر اتنا وزنی بناتے کہ آدمی اْنکے ثقیل الفاظ کا بوجھ اپنی گردن پر محسوس کرتا اور معذرت طلب کرتا ہوا رفوچکر ہو جاتا۔اْنکا وسیع مطالعہ اْن کے تکلم سے عیاں تھا۔اکثر اْن سے بات کرتے ہوئے علمی کم مائیگی کا احساس ہونے لگتا۔ساتھ میں یہ سوچ کر غصہ بھی آتا کہ کاش طالب علمی کے زمانے میں نصابی مغز ماریوں اور غیر نصابی کِلکاریوں کے علاوہ ادبی حلقوں کی سنگت بھی بْھگتی ہوتی۔ وہ صبح گھر سے علم و دانش کھا کر نکلتے اور دن کو دفتر میں پولیس پہنتے۔ وہ پولیس کے بھیس میں دانشور اور دانشور کے قالب میں پولیس آفیسر تھے۔
جو چودھری صاحب کے قریب تھے اْنکے لئے اْنکی طرف سے سب تکلفات ادبی حد تک برطرف تھے مگر جنکے ساتھ تکلف کی گانٹھ لگی ہوئی تھی اْنہیں مسکراہٹ کا قحط الرجال برداشت کرنا پڑتا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی شخص کو برجستہ اور برمحل موقعوں پر بھی واجب مقدار میں مْسکراتے ہوئے دیکھا ہے، کہا جاتا ہے کہ عام حالات میں وہ مسکراہٹ اپنے بٹوے میں رکھا کرتے ہیں۔ حا لانکہ بات چیت کے دوران اْنکے ادبی شگوفے اور اْنکا مزاح سامع کے پیٹ میں ارتعاش پیدا کرتا۔ یہاں تک کہ اْنکی ڈانٹ میں فصاحت اور بلاغت کا اسقدر غلبہ ہوا کرتا کہ ڈانٹ کھانے والا اس کا اثر سہنے کے بجائے ذو معنی الفاظ کا مطلب ڈھونڈنے لگ جاتا۔ محکمے میں اْنکے دفتر کی خوبصورت سی چائے کی پیالی بہت مشہور تھی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بِن بلائے اور بے من بھائے مہمان کے لئے لازماً خوبصورت سی چائے کی پیالی لانے کا کہتے مگر یہ الگ بات کہ وہ چائے کی پیالی خوبصورت بننے اور سنورنے میں اِتنا وقت صرف کرتی کہ مہمان کے جانے تک بھی اْسکا بناؤ سِنگھار مکمل نہ ہوپاتا۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اْن کا مہمان خانہ تنگ اور آرام دہ دونوں قسم کی کرسیوں سے آراستہ تھا۔ اْنہیں جب شائبہ ہو جاتا کہ آنے والا مہمان محض وقت گزاری کے لئے آیا ہے تو اْسے مخصوص کْرسی پیش کرتے جس پر وہ چند منٹ پہلو بدلنے کی ناکام مشق کرتا پھر اچانک اْٹھ کھڑا ہوتا اور جانے کی اجازت طلب کرتا۔ مسعود چودھری کو پہلی نظر سے دیکھنے میں ایسے شخص کی شبیہ نظر آتی جس نے کْھردراہٹ کا سنگھار کر کے اپنی شخصیت کو سنگلاخیت بخشی ہو۔ مگر اْنکا قْرب پاتے ہی آہستہ آہستہ اْن کھردری پرتوں کے بیچ ایک دبیز اور مہربان شخصیت کے آثار نمایاں ہونے لگتے۔ چودھری صاحب ہونے کے طفیل وہ درجہ فہرستی میں اتفاقاً شمار تھے مگر عملی میدان کی میں اْن کی شخصیتی چودھراہٹ زندگی کے ہر گام پر درجہ فہرست رہی۔
تربیت کے دوران پہلی ملاقات میں اْنہوں نے ہمارا شجرہ نسب اور کارگزاری سنا کے ہمیں حیران کر دیا۔ پھر پوری تربیت کے دوران اْنکے کراماً کاتبین ہماری ٹوہ میں لگے رہے اور ہمارے سونے جاگنے سے لیکر ہمارے دوڑنے بھاگنے، یہاں تک کہ چھینکنے کا بھی اندراج کرتے رہے۔اْنکے ٹوہ لینے کا نظام اتنا مستند تھا کہ ہمارے ارادوں پر اکثر پانی پِھر جاتا کیونکہ اْنکی آنکھیں دن بھر ہمیں پیچھا کرتی نظر آتیں۔ تربیت کے دوران پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے اْنکا وہ تزک و احتشام سے خراماں خراماں ہمارے سامنے سے ہمیں گھورتے ہوئے گزرنا، جانے بوجھے ہماری مین میخ نکالنا اور ہماری کٹھنائیوں کے مزید سامان پیدا کرنا، آج بھی درد کی ٹیسیں جگاتا ہے۔
حیرانگی کی بات ہے کہ ہم نے آپس میں ایک دوسرے کو چِڑانے کیلئے اْنکا نام نپولین بوناپارٹ رکھا۔ “چِڑ … اور … نپولین۔۔۔۔!!! ” دراصل کوئی اور نام جچا ہی نہیں اور سوجھا بھی نہیں۔ کئی برس بعد پتہ چلا کہ جمّوں ڈویژن میں پولیس حلقے اْنہیں احتراماً “پِداما” کے نام سے پْکارتے ہیں۔
تربیتی کورس ختم ہونے کے بعد میری تعیناتی ہوئی تو ایک دن اْن سے ملنے اْنکے دفتر گیا۔ خوش قسمتی سے اْنہوں نے خوبصورت سی چائے کی پیالی کے بجائے صرف چائے لانے کو کہا جو کہ جلد وارد ہوئی۔ وہاں بیٹھے ایک سینئر پولیس آفیسر نے میرے ایک ساتھی کی بے لگام تعریف شروع کر دی۔ چودھری صاحب نے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے اْنکی لگام کھینچی اور اْن سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اْنکی لایقی فایقی کے اتنے قائل تھے کہ اْنکی تربیتی معیاد بڑھانی پڑی تاکہ خوبیوں کی مزید اصلاح ہو سکے۔ سینئر آفیسر طنز کی کاٹ محسوس کرتے ہوئے ایک دم خاموش ہو گئے۔
کچھ عرصہ پہلے اْنکی ناساز طبیعت کا سْنا تو خیریت پوچھنے کے لئے فون کیا۔ اْنھوں نے اپنی بیماری کا ذِکر جس بے اعتنائی و بے پروا ہ انداز میں کیا، مجھے لگا کہ بیماری ہتک محسوس کر کے خود ہی شرمندہ ہو کر منہ چْھپا کر چلی جائے گی۔
مسعود چودھری کی شخصیت پہلو در پہلو بکھری ہوئی ہے۔پولیس میں اْنکی کڑک اور بھڑک ، ذہانت و فطانت سے آراستہ ہے۔ وہ ایک نامور ، پیشہ ور اور زیرک اْستاد ہیں جنہوں نے نہ صرف مجھے بلکہ ہزاروں دیگر ساتھیوں کو سپہ گری کے اسرار اور رموز سکھائے۔ پولیس سے باہر کی دنیا میں وہ ایک قابل ایڈمنسٹریٹر اور “دانشور کوہ کْن” ہیں۔ اْنہوں نے دیومالائی کہانیوں کے کردار کی طرح پہاڑوں، بیابانوں اور چٹانوں کو جیومیٹری کی تراش خراش دِلوا کر “کوہِ دانش” تعمیر کروایاجہاں سے علم و ادب کے سوتے رواں ہوکر نہ صرف علمی دْنیا کو نہ صرف سیراب کررہے ہیں۔ بلکہ ارض کے کونے کونے سے علم ودانش کے فرہاد اپنے حصے کی نہر بہانے انکے بسائے کوہ میں کوہکْنی کر رہے ہیں۔