آج جہاں ہمارا ملک کورونا وائرس کی دہشت میں مبتلا ہے وہیں امریکہ کے لوگوں کی زندگی اب پٹری پر لوٹنے لگی ہے۔وائٹ ہاؤس نے پابندیوں کو ہٹاتے ہوئے جو بات کہی ہے وہ موجودہ حالات میں پوری دنیا کے لیے اور خاص طور پر وطن عزیز کے لئے مایوسی میں امیدوں کے چراغ کے مانند ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ہم اپنے بدلے ہوئے حالات سے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ویکسی نیشن یعنی ٹیکہ کاری کے ساتھ گزشتہ پوزیشن میں لوٹا جا سکتا ہے۔ سخت پابندیوں کے ہٹنے سے امریکہ میں جشن کا ماحول ہے۔ وائٹ ہاؤس میں بغیر ماسک کے داخلے کی اجازت ہے۔ بروز جمعرات امریکی دورے پر آئے جنوبی کوریا کے صدر مون جے کا امریکی صدر بائی ڈین اور کملا ہیرس کے علاوہ دیگر لوگوں نے گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا، سبھی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور گلے ملتے نظر آئے۔ اسی دوران کملا ہیرس نے میڈل آف آنر حاصل کرنے والے ایک بزرگ کو خوشی سے گلے بھی لگایا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق حالات پر قابو اور اعتماد دونوں ویکسین کے سب ممکن ہوا ہے۔ اس پس منظر میں وطن عزیز کی مایوس تصویروں کو دیکھیں، یہاں کے حالات پر غور کریں تو احساس ہوتا ہے کہ ویکسین کے لیے اب بھی لوگوں کی عدم بیداری مایوسی کی داستان تحریر کر رہی ہیں۔ دیہی حلقوں میں ویکسین آج بھی ایک پہیلی بنی ہوئی ہے۔ ٹیکہ کاری سے لوگ دور بھاگ رہے ہیں۔
کووڈ- 19 کے دستک کے ساتھ ہی سب سے پہلا اور اہم سوال یہ اٹھایا گیا تھا کہ کیا اس بیماری کا علاج ممکن ہے ؟ کورونا ایک نئی وائرس کی شکل میں اس دنیا میں نمودار ہوتا ہے۔ جب لوگ اس وبا کی چپیٹ میں آنے لگے اور لوگوں کی سانسیں ٹوٹنے لگیںتوکورونا وائرس دنیا بھر میںبے شمار اموات کا سبب بنا۔ تب سے دنیا کے ماہرین اور سائنٹسٹ اس کے کامیاب علاج کا نسخہ تلاش کرنے میں لگ گئے۔ پوری دنیا میں ماہرین اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ اب تک کوئی دوا کوئی ایسی اینٹی بائیوٹک نہیں بنائی گئی جو اس وائرس کو ختم کر سکے۔ تقریبا آٹھ مہینے کی جدوجہد کے بعد ماہرین کو اس کی ویکسین ایجاد کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ میں مانتا ہوں اس دنیا میں سائنسدانوں کے ذریعے کم وقت میں حاصل کی گئی یہ ویکسین ایک بڑی اور قیمتی کامیابی ہے۔ حالانکہ یہ ویکسین وبا کا علاج تو نہیں لیکن وہ انسانی صحت کی جانب اٹھنے والا ایک ٹھوس قدم ضرور ہے۔ دنیا کے اور خاص طور پر اپنے ملک کے بے شمار لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر یہ ویکسین مکمل علاج نہیں تو اس کی ضرورت کیا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ویکسین لینے کے بعد بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ قائم رہتا ہے تو اسے لینے سے فائدہ کیا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ویکسین لوگوں کو گمراہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی خطوں میں اور خاص کر وطن عزیز میں یہ ویکسین ایک پہیلی بن کر رہ گئی ہے۔ ابھی لوگ ویکسین کی تئیں بیدار نہیں ہو سکے ہیں بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ ابھی بھی لوگ کرونا وائرس کے تئیں مکمل طور پر بیدار نہیں ہو سکے ہیں۔ ملک کے دیہی علاقوں میں لوگوں کا بے خوف رویہ بلند آہنگ میں اس کی شہادتیں پیش کر رہا ہے۔ پھر لوگوں کا ویکسین پر مکمل طور پر اعتبار کر پانا یقینا نہایت مشکل نظر آتا ہے۔
ذرا غور کریں اب تک وطن عزیز میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے ویکسین لیا۔ ویکسی نیشن کے بعد ری ایکشن اور حالات غیر ہونے کے درجنوں ویڈیو اور خبر یںہمارے سامنے ضرور آئی ہیں جس کی سوشل میڈیا پر خوب تشہیر کی گئی جس کے سبب لوگوں کے ذہن پر اس ویکسین کے لئے ایک اجنبی سا خوف بیٹھ گیا اور آج بھی بے شمار لوگ اس پر اعتبار کرنے کو آمادہ نہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ان چند ویڈیوز کے مقابلے میں ان لاکھوں کروڑں لوگوں کو فراموش کر دیا جاتا ہے جو ویکسین لے کر خود کو محفوظ محسوس کر رہیں ہیں۔ آج ہمارے ملک میں ایک بڑی تعداد میں ہر روز لوگ قطاروںمیں ویکسین لینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ جہاں ایک طرف ویکسی نیشن کے تئیں لوگوں کی عملی بیداری کا ثبوت ہے تو دوسری طرف ویکسین کی کامیابی کا اعلان بھی ہے۔
ویکسین لے کر لوگوں نے کئی طرح کے تاثرات بیان کیے ہیں۔ جہاں موافق اور غیر موافق دونوں باتیں سامنے آتی ہیں کیونکہ لوگوں نے اپنے تجربے بیان کئے ہیں۔ اگر میں اپنے تجربے کی بات کرو تو چند روز قبل میں اور میرے آدھے درجن فیملی ممبرز نے ویکسین لیا اور میں جو اپنے گھر میں دیکھا میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق ویکسین کے سائیڈ افیکٹ کی تمام باتیں بے معنی نظر آتی ہیں۔ کسی بھی فرد کے صحت میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ بہت سارے لوگوں کا یہ ماننا بھی ہے کہ اس ویکسین کے ذریعے لوگوں کے جسم میں ایک چیپ پلانٹ کی جارہی ہے جس کے سبب جسم کی حرکات و سکنات وغیرہ کے تعلق سے جانکاری حاصل کی جا سکے۔ ذرا غور کریں کہ ملک اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ زندگی کے تمام شعبے مفلوظ ہو کر رہ گئے ہیں۔ غربت ایک بڑی آبادی کی مقدر بن چکی ہے اور مزید روز بڑی تعداد میں لوگ اس فہرست میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ وبا کے زیر سایہ لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے کے سبب حکومت کی آمدنی پہلے کے مقابلے کافی کم ہوگئی ہے۔ ان دشوار حالات میں بھی ملک کے تمام شہریوں کے لیے ویکسین کا انتظام کرنا حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری اور چیلنج ہے۔
مرکزی حکومت اور متعدد ریاستوں کی حکومتیں ویکسین کو لے کر آپس میں تکرار کی حالت میں بھی ہیں۔ بعض ریاستیں ویکسین خریدنے پر غور کر رہی ہیں حتیٰ کہ چند ریاستیں خریدنے کو سامنے آگے بھی آ رہی ہیں۔ ابھی آج جہاں ملک کی حالت یہ ہے کہ ویکسین کی چند لاکھ خوراک پر تکرار کا معاملہ شباب پر ہے جب کہ اگر بچوں کو شامل کر لیا جائے تو حکومت کے پاس تقریبا ڈیڑھ ارب ویکسین لینے کا چیلنج ہے۔ ذرا غور کریں ابھی ہم ویکسین لینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ویکسین کے نام پر ایک مہنگی چیپ کے لیے بڑی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔ جہاں غریبی کی دلدل میں پھنسے عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پانا حکومت کے لیے سر درد بنا ہے وہاں عوام کے جسم میں چیپ داخل کرکے حکومت کیا حاصل کر لے گی۔
موجودہ وقت میں ویکسین کرونا وائرس کا علاج تو نہیں ہے لیکن ہمیں وائرس سے مقابلے کے لئے کم سے کم ذہنی اور جسمانی طور پر ضرور مضبوط کرتا ہے۔ ویکسین لگوانا زندگی کی ضمانت نہ سہی مگر اپنوں اور ملک سے وفاداری کا ثبوت ضرور ہے اور میرے ذاتی خیال کے مطابق ویکسی نیشن کورونا وائرس کے تئیں بہترین احتیاطی تدبیر ہے۔ اگر امریکا جیسا ترقی یافتہ ملک محض ویکسی نیشن کی بنیاد پر کورونا وائرس کے خلاف عظیم فتح کا نقارہ بجا رہا ہے تو لازم ہے کہ ہم بھی ویکسی نیشن کی اہمیت کو تسلیم کریں۔ میرے خیال سے موجودہ وقت میں ویکسین کا بڑھ کر استقبال کرنا چاہیے تاکہ اپنی زندگی کی سلامتی اور حکومت کی حوصلہ افزائی کی راہیں تلاش کی جا سکیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔ ویکسی نیشن پر ہماری بیداری صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں اور ملک کی سلامتی اور خوشحالی کا ضامن ہوگی۔ آئیں اپنا ذہن بدل کر ملک کے حالات بدلیں۔
رابطہ۔ 8340349807