سرینگر// ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ کووِڈ – 19مریضوں میں ’’کالی پھپھوند‘‘(بلیک فنگس)ا نفکشن کا خطرہ رہتا ہے جس کا اگر بروقت علاج نہیں کیا گیا تو یہ مریض کیلئے پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کووِڈ مریض یا صحتیاب ہونے والے افراد میں بھی یہ انفیکشین ہوسکتا ہے جبکہ زیادہ تر خطرہ ذیابطیس یعنی شوگر کے مریضوں کو رہتا ہے جن کی بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافت کافی کمزور ہوتی ہے ۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارلحسن نے کہا ہے کہ کووڈ 19کے مریضوں میں ’بلیک فنگس ‘ کی ایک اور بیماری نمودار ہورہی ہے، اگرچہ یہ عام قسم کی پھوڑے کی بیماری ہے تاہم کووڈ مریض اگر اس کا وقت پر علاج نہیں کرائیں گے تواس سے ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے ۔ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں یہ انفکیشن کووڈ مریضوں میں نمودار ہورہا ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ بیماری وادی کشمیر میں بھی کووڈ مریضوں میں نمودار ہو۔ انہوںنے کہا کہ فنگل انفکشن سے زیادہ پریشانی ذیابطیس کے مریضوں کو ہوگی اور یہ ان کیلئے جلتی پر تیل کا کام کرے گا کیوں کہ شوگر مریضوں کی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت کم ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آکسیجن تھراپی کے دوران عام پانی کا استعمال بھی کالی پھپھوند کا موجب ہوسکتا ہے ۔ ڈاک صدر نے کہا کہ کوڈ مریضوں میں اس جان لیوا بیماری سے بچنے کے لئے ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ اسٹرائڈائڈز کا استعمال مناسب طریقے سے کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی غلط استعمال نہ ہو۔ جو لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں ان کو شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنا چاہئے اور آکسیجن تھراپی کے دوران ہیومڈیفائیرس کے لئے جراثیم سے پاک پانی کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پھپھوند ہر جگہ ہے اور یہ مٹی ، ہوا اور بوسیدہ کھانے میں پایا جاتا ہے۔ماحول میں عام ہونے کے باوجود بھی یہ صحت مند انسانوں میں انفیکشین پیدا نہیں کرسکتا تاہم جب جسم کا دفاعی نظام کمزور ہوتا ہے تو فنگس کو تباہی مچانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ اس سے پھیپھڑوں پر بھی منفی اثر پڑسکتا ہے یہاں تک کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس کی علامات میں درد اور آنکھوں یا چہرے میں سوجن ، سر میں درد ، ناک میں سیاہ پھوڑا شامل ہیں۔ ’’میوکورمائکوسس کے علاج میں سرجری کے ذریعے تمام متاثرہ ٹشووں کو ختم کرنا اور اینٹی فنگل امفوتیرسن بی کی پیروی کرنا شامل ہے۔ انہوںنے کہا کہ لوگوں کو اس مرض کے بارے میں آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ کووڈ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو اس بات کے شبہات بہت حد تک ہونے چاہئے اور جلد، ناک اور چہرے کی شکایات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کیوںکہ اس بیماری کا جلد پتہ لگانے اور بروقت علاج سے مریض صحتیاب ہوسکتے ہیں۔