جموں //جموں یونیورسٹی کے شعبہ مائیکرو بائیولوجی کے ریسرچ سکالر گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے قائم کی گئی لیبارٹری میں رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں گے ۔میڈیکل کالج کے افسران کے مطابق ان ریسرچ سکالروں نے رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے جس سے انہیں بھی کافی بھی سہولت ملے گی ۔ ان کاکہناہے کہ لیبارٹری میں عملہ اتنا زیادہ نہیں اور ان ریسرچ سکالروں کے آنے سے عملے کو باری باری بنیاد پر کام کرنے کا موقعہ ملے گا۔ایک افسر نے بتایا’’ہم نے روزانہ 300ٹیسٹ کرنے تک کی صلاحیت بڑھادی ہے لیکن ہمارے پاس افرادی قوت اتنی زیادہ نہیں ہے‘‘۔انہوں نے بتایاکہ ان کے پاس ایک ریسرچ سکالر نے گزشتہ روز رابطہ کیا اور رضاکارانہ طور پر خدمات کی انجام دہی پر آمادگی ظاہر کی ۔جموں یونیورسٹی کے شعبہ مائیکرو بائیولوجی کی سربراہ ڈاکٹر جیوتی وکلو کاکہناہے ’’یونیورسٹی کسی بھی سکالر کو کورونا کے خلاف اقدامات میں مدد کی خاطر مجبور نہیں کرسکتی اوراگر کوئی رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیناچاہتاہے تو ہم اس کی سفارش کریں گے‘‘۔انہوں نے بتایاکہ انہوں نے پہلے ہی ایک سکالر کے نام کی سفارش کی ہے جس نے خدمات انجام دینے کی آمادگی کا اظہار کیا ۔تاہم ان کاکہناتھا’’ہمارا خدشہ صرف سکالروں کا تحفظ ہے ،چاہے ان کے پاس پی پی ایز کٹس ہوں یا وہ لیبارٹری کے کام کے ماہر ہوں یا نہ ‘‘۔انہوں نے بتایاکہ اپنی لیبارٹری میں انہوں نے وائرس سے پھیلنے والی بیماریوں پر کام نہیں کیا لیکن ٹیکنیک مشترک ہے اور یونیورسٹی سکالر تمام طریقہ کار سے واقف ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا’’ جی ایم سی کی گزارش پر ہم نے اپنی ریورس ٹرانس کرپشن پالی میریس چین ری ایکشن مشین(آر ٹی۔پی سی آر)تشخیص کیلئے انہیں منتقل کی ہے ،یہ بہت ہی اعلیٰ مشین ہے اوراس سے وائرس کی تشخیص میں مدد مل سکتی ہے‘‘۔