جموں / /جموں کے سدھرا علاقے میں کورونا سے متاثرہوکر فوت ہونے والے شخص کی آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران اس کے دورشتہ داروں کی بھی موت ہوگئی جس پر مجسٹریل تحقیقات کا حکم جاری کیاگیاہے ۔اس واقعہ کے حوالے سے ایس ڈی پی او نگروٹہ موہن شرما نے بتایا’’تالاب تلو سے تعلق رکھنے والے کورونا متاثرہ شخص کی آخری رسومات کی ادائیگی میں اس کے 4رشتہ داروں نے شرکت کی جن میں سے 2کی موت ہوگئی اور ایسا لگتاہے کہ ان کی موت گرمی کی وجہ سے دم گھٹنے سے ہوئی ہوگی‘‘۔شرما نے بتایاکہ متوفی کا بیٹا بچ گیاہے اوراس کا علاج جی ایم سی میں کیاجارہاہے جبکہ اس کے دو بھتیجے وفات پاگئے ۔اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ جموں سشما چوہان نے تحقیقات کا حکم جاری کیاہے۔ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ جموں کو تفصیلی جانچ کرکے رپورٹ پیش کرنے کاکہاگیاہے ۔ جی ایم سی ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک رشتہ دار نے بتایا’’ہمیں سدھرا پل کے دوسری طرف دریائے توی کے کنارے لیجایاگیا ،تمام چاروں رشتہ داروں نے حفاظتی لباس پہناہواتھا تاہم ایمبولینس ریت میں ہی پھنس کررہ گئی اورنعش کو کاندھوں پر اٹھاکر لیجاناپڑا،ہمارے لڑکوں کو پانی کی کمی ہوگئی کیونکہ انہوں نے پی پی ای کٹس پہن رکھیں تھیں جس سے ان کے جسم کوشدید گرمی میں کھینچ لگ گئی ،ان میں سے 3بے ہوش ہوگئے ‘‘۔انہوں نے بتایاکہ انہوں نے چیخ و پکار کی اور مدد چاہی مگر مبینہ طور پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور بارہا مطالبے پر پانی بھی نہیں فراہم کیاگیا۔انہوں نے بتایاکہ ایک لڑکے کو پرائیویٹ کار کے ذریعہ ہسپتال پہنچایاگیاجس کی جان بچ گئی۔جی ایم سی ہسپتال کے ایمبولینس ڈرائیور نے بتایاکہ تینوں گاڑیاں ایمبولینسز اور ایک ٹریکٹر ریت میں پھنس کر رہ گئے ۔