سرینگر // سینئر سیاسی رہنما اور سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی اُس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے افسروں سے تاکید کی ہے کہ وہ ایسے مثبت قدم اٹھائیں جو کشمیری پنڈتوں کی کشمیر واپسی کیلئے ضروری ہوں۔ اپنے ایک بیان میں سوز نے کہا ’’میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی اس تجویز کا دل سے خیر مقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے افسروں سے تاکید کی ہے کہ وہ مثبت اقدامات اٹھائیں تاکہ کشمیری پنڈت کشمیر واپس آجائیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی مایوسی کا اظہار بھی کرتا ہوں کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے یہ بات افسروں کو بتائی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج کو یہ بات کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی قیادت کو کہنی چاہئے تھی۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سے کہا کہ وہ کشمیر کی مین اسٹریم قیادت کے ساتھ موشہ کرنے کیلئے ایک میٹنگ بلائیں تاکہ وہ ضروری اقدامات اٹھائے جائیں جس سے کشمیری پنڈتوں کی واپسی ممکن ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایل جی کی کشمیر ی پنڈتوں کے سلسلے میں دی گئی توجہ کیلئے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔مجھے امید ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر اس تجویز پر عمل درآمد کے سلسلے میں مزید اقدامات کریںگے تاکہ اس سلسلے میں کشمیری سماج مکمل طور حرکت میں آجائے اور نفسیاتی اور جذباتی ماحول مستحکم ہو جائے۔ ‘‘