سرینگر //کشمیر یونیوسٹی میںسوموار کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ پر3 روزہ ورکشاپ کا آغاز ہوا ہے جس دوران ماہرین نے معاشرے کی تشکیل کیلئے زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنے پر زور دیا۔کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلت احمد نے ورکشاپ کے دوران کہاکہ معاشرے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے پیغام کو عام کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کو آگے آنا ہو گا ۔اس ورکشاپ کا اہتمام محکمہ جغرافیہ اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ نے کیا تھا جس میں وائس چانسلر مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ مجھے لگتا ہے کہ طلبا ء اس پیغام کو بہترین طریقے سے سب کے سامنے لا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمالیائی خطے میں آنے والا جموں وکشمیر میںقدرتی آفات کا بہت خطرہ ہے اور سب کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر ، ہماری منصوبہ بندی اور ہماری ترقی کو اس انداز میں انجام دینے کی ضرورت ہے جس سے فطرت کو کوئی نقصان نہ ہو ۔انہوں نے ڈی جی ڈی ایم پر زور دیا کہ وہ کالج سطح پر بھی اس طرح کی صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کریں۔اپنے کلیدی خطاب میں ڈین آف ریسرچ پروفیسر شکیل اے رومشو نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے آباواجداد تباہی سے نمٹنے کے انتظام کے ضمن میں بہت ہوشیار اور زیادہ سمجھدار تھے اور ہمیں بھی اس طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔پروفیسر رومشو نے کہا کہ لوگ اپنی حفاظت صرف سرکاری ایجنسیوںسے نہیں کراسکتے بلکہ انہیںسیلاب اور دیگر آفات سماوی سے بچنے کیلئے پرانے تعمیراتی طریقوں کو اپناتے ہوئے ایسی ہر قسم کی تعمیرات کو ترک کرنا ہو گا تاکہ ہم اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں ۔