جموں//آل پارٹیز سکھ کارڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین جگ موہن سنگھ رینہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں مقیم سکھوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے انہیں اقلیت کا درجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران معرض وجود میں آنے والی مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے سکھوں کو دھوکہ دیا ہے۔ رینہ نے جمعرات کو یہاں متعدد سکھ تنظیموں کے سربراہان کی موجودگی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے سکھوں کو اقلیت کا درجہ دینے کا وعدہ اپنے گذشتہ انتخابی منشور میں شامل کیا، لیکن چار برس گذر جانے کے باوجود وعدے کو پورا کرنے کی سمت میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے والد مفتی محمد سعید نے سکھوں سے وعدہ کیا تھا کہ ریاست میں نیشنل مینارٹی ایکٹ لاگو کرکے سکھوں کو اقلیت کا درجہ دیا جائے گا، لیکن اس کے برعکس محبوبہ مفتی نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دائر کیا جو کہ تمام اقلیتوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا ’’ ہم اقلیتی درجے کے لئے گذشتہ پندرہ برسوں سے پرامن جدوجہد کررہے ہیں اور جس دن ہم ایجی ٹیشن شروع کریں گے تو سرکار کی مشکلیں بڑھیں گی‘‘۔