حال و احوال
ندیم خان ،بارہمولہ
بے شک جب رمضان المبارک کا مہینہ وادیٔ کشمیر میں آتا ہے تو فضا بدل جاتی ہے۔ برف پوش پہاڑوں اور ٹھنڈی ہواؤں کے درمیان عبادت، روحانیت اور اخوت کا ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ سحر و افطار کے اوقات میں گھروں سے لے کر مساجد اور بازاروں تک ایک خاص نورانیت محسوس کی جاتی ہے۔رمضان کا مبارک مہینہ وادیٔ کشمیر میں روحانیت، عبادت اور سماجی ہم آہنگی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ جیسے ہی رمضان کا چاند نظر آتا ہے، گھروں اور مساجد میں ایک خاص تیاری اور جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ہے۔ مساجد آباد ہو جاتی ہیں، لوگ باجماعت نمازوں اور تراویح کا اہتمام کرتے ہیں، لوگ اس بابرکت مہینے کو خوش دلی اور عقیدت کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں۔ کشمیر میں ’’استقبالِ رمضان‘‘ کے پروگرام خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ مختلف مقامات پر مذہبی و سماجی تنظیمیں اجتماعات منعقد کرتی ہیں جہاں قرآنِ مجید کی تلاوت، نعت خوانی اور تقاریر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ تقاریب لوگوں کے دلوں میں رمضان کی عظمت کو مزید اجاگر کرتی ہیں اور انہیں نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہیں۔ یوں رمضان المبارک کشمیر میں عبادت، محبت، رواداری اور روحانی تربیت کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ مہینہ لوگوں کو نہ صرف اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے بلکہ سماج میں اتحاد، ہمدردی اور بھائی چارے کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر کی تاریخی عبادت گاہوں جیسے جامع مسجد سرینگر اور خانقاہِ معلیٰ میں خصوصی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جہاں علمائے کرام رمضان کی فضیلت، صبر، تقویٰ اور بھائی چارے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان محافل میں بزرگوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی شرکت خاص طور پر قابلِ ذکر ہوتی ہے، جو دین سے وابستگی اور اصلاحِ نفس کے جذبے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ وادی کشمیر کے بازاروں میں بھی ایک منفرد رونق دیکھنے کو ملتی ہے۔ افطار کے اوقات قریب آتے ہی مختلف قسم کے پکوان، پھل، کھجوریں اور روایتی کشمیری اشیاء کی خریداری عروج پر ہوتی ہے۔ افطاری کے وقت بھی کشمیر کی اپنی الگ پہچان ہے۔ یہاں افطار میں روایتی پکوان، مقامی بیکری کی اشیاء اور خاص کشمیری مشروبات شامل ہوتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں افطار کی دعوتیں دیتے ہیں، جس سے محبت اور یگانگت کا پیغام عام ہوتا ہے۔ مستحق افراد کی مدد کے لیے زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا سلسلہ بھی تیز ہو جاتا ہے، جو رمضان کی اصل روح یعنی ہمدردی اور ایثار کی عکاسی کرتا ہے۔ سحری اور افطاری کی تیاری بھی ایک اہم روایت ہے۔ کشمیری گھروں میں سحری کے وقت سادہ مگر مقوی کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ افطار میں روایتی پکوان، پھل، کھجور اور خاص کشمیری چائے پیش کی جاتی ہے۔ افطار کے وقت خاندان کے تمام افراد ایک دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں جو خاندانی اتحاد کی خوبصورت مثال ہے۔
کشمیر میں رمضان المبارک کے دوران ایک خوبصورت اور قدیم روایت یہ بھی رہی ہے کہ سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کے لیے ڈھول بجایا جاتا ہے۔ ماضی میں جب گھروں میں الارم گھڑیاں یا موبائل فون عام نہیں تھے، تو محلّے کے کچھ افراد سحری سے پہلے گلیوں میں گھوم کر ڈھول بجاتے اور مخصوص انداز میں آوازیں لگا کر لوگوں کو بیدار کرتے تھے۔ اس روایت کو بعض علاقوں میں بڑی عقیدت اور خوشی کے ساتھ نبھایا جاتا تھا۔ ڈھول کی آواز سن کر لوگ بیدار ہوتے، گھروں میں چراغ روشن ہوتے اور سحری کی تیاری شروع ہو جاتی۔ یہ روایت نہ صرف لوگوں کو جگانے کا ذریعہ تھی بلکہ اس میں ایک سماجی پہلو بھی شامل تھا۔ اس سے محلے میں ایک اپنائیت اور اتحاد کا احساس پیدا ہوتا تھا۔ بچے خاص طور پر اس آواز کا انتظار کرتے اور اسے رمضان کی خاص نشانی سمجھتے تھے۔ اگرچہ آج کل موبائل فون اور جدید سہولیات کی وجہ سے یہ روایت کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن کشمیر کے کئی علاقوں میں اب بھی یہ خوبصورت روایت کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہے، جو رمضان کی ثقافتی پہچان کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ وادیٔ کشمیر میں اس بابرکت مہینے کی کچھ ایسی روایات بھی ہیں جو اسے دوسری جگہوں سے ممتاز بناتی ہیں۔ یہاں افطاری اور سحری صرف کھانے پینے کا وقت نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور روحانی تجربہ ہوتا ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ سحری کے وقت کی ایک نمایاں اور قدیم روایت ڈھول بجا کر لوگوں کو جگانا ہے۔ محلّے کے مخصوص افراد سحری سے پہلے گلیوں میں گھوم کر ڈھول بجاتے ہیں تاکہ لوگ نیند سے بیدار ہوں۔ یہ روایت آج کے جدید دور میں بھی کئی علاقوں میں کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہے، جو اجتماعی زندگی اور باہمی تعلق کی خوبصورت مثال پیش کرتی ہے۔ کشمیر میں سحری کے دسترخوان پر روایتی کشمیری نان، نمکین چائے (نون چائے) اور سادہ مگر مقوی کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ سرد موسم کے باعث گرم چائے اور روایتی روٹیوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ خاندان کے تمام افراد ایک ساتھ بیٹھ کر سحری کرتے ہیں، جو خاندانی اتحاد کو مضبوط بناتا ہے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 75 سال کے شخص غلام رسول مہر نے ہمارے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ تقریباً تیس برسوں سے ماہِ رمضان میں سحری کے وقت ڈھول بجا کر لوگوں کو ثواب کی نیت سے جگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وادی کی صدیوں پرانی روایت ہے جو آج بھی زندہ ہے اور رمضان کی روحانیت کو مزید دوبالا کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادیٔ کشمیر میں رمضان المبارک کا انداز باقی علاقوں سے مختلف اور منفرد ہوتا ہے۔ چاہے افطاری کے وقت دسترخوان پر سجے روایتی کشمیری پکوان ہوں یا سحری میں پیش کیا جانے والا روایتی وازوان، ہر منظر اپنی ایک خاص پہچان رکھتا ہے۔ غلام رسول مہر کے مطابق، وادی کے مختلف علاقوں میں آج بھی لوگ سحری کے وقت ڈھول کی تھاپ پر ایک دوسرے کو جگاتے ہیں، جو بھائی چارے، محبت اور اجتماعی روایت کی خوبصورت مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں بھی یہ روایت قائم ہے اور نئی نسل کو اپنی ثقافت سے جوڑنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ شہرسرینگر کے ایک 65 سال عمرکے عبدالاحد خان نے ہمارے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں ماہِ رمضان کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ ان کے مطابق چاہے سحری کا پُرسکون وقت ہو یا افطاری کی بابرکت گھڑیاں، کشمیر میں رمضان کی فضا روحانیت، روایت اور بھائی چارے سے بھرپور نظر آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سحری کے وقت مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو جگانے کے لیے آواز دی جاتی ہے، تاکہ کوئی روزہ دار سحری سے محروم نہ رہ جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ افراد آج بھی پرانی کشمیری روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ڈھول بجا کر لوگوں کو جگاتے ہیں اور اسے باعثِ اجر و ثواب سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ روایت نہ صرف ایک مذہبی خدمت ہے بلکہ وادی کی ثقافتی پہچان بھی ہے۔ عبدالاحد خان نے مزید کہا کہ افطاری کے وقت بھی کشمیری دسترخوان اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ مختلف روایتی پکوان، مقامی ذائقے اور سادہ مگر پُرخلوص اہتمام رمضان کی برکتوں کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ان کے مطابق، کشمیر میں رمضان صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ محبت، اشتراک اور اپنی تہذیبی روایات کو زندہ رکھنے کا مہینہ بھی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ماہِ رمضان کے دوران ایثار اور ہمدردی کی ایک خوبصورت روایت بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں میں کچھ لوگ افطاری کے وقت پھل، کھجور اور پانی وغیرہ پیکٹوں میں بھر کر سڑک سے گزرنے والے مسافروں اور گاڑیوں میں سوار افراد میں تقسیم کرتے ہیں، تاکہ وہ وقت پر اپنا روزہ افطار کر سکیں۔دریں اثنا ءسرینگر کے ایک اور شہری معراج الدین نے یہ بھی بتایا کہ شہر ِ خاص (ڈاون ٹاون) کے بعض علاقوں میںآج بھی اوقات ِسحری کے دوراں سحر خواںروایتی انداز میں گلی گلی گھوم کر ڈھول بجا بجاکر لوگوں کو نیند سے جگاتے رہتے ہیںاور ڈھول بجانے کا یہ سلسلہ علی الصبح ساڑھے تین بجے سےساڑھے چاربجے تک جاری رہتا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق یہ سارے اعمال محض ایک روایت نہیں بلکہ خدمتِ خلق اور بھائی چارے کی مثال ہے۔ افطار سے چند لمحے قبل سڑکوں پر نوجوان اور بزرگ رضاکار پیکٹ ہاتھوں میں لیے کھڑے نظر آتے ہیں اور مسافروں کو عزت و احترام کے ساتھ افطاری فراہم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان کا اصل پیغام ہی بانٹنے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے میں پوشیدہ ہے اور اسی جذبے کے تحت وادی میں یہ روایات برسوں سے جاری ہیں۔ یہ مناظر نہ صرف روح کو سکون دیتے ہیں بلکہ معاشرے میں باہمی محبت اور یکجہتی کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔یوں کشمیر میں رمضان کی سحری اور افطاری صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ یہ روایات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وادیٔ کشمیر میں رمضان صرف عبادت کا نہیں بلکہ محبت، اتحاد اور خدمتِ خلق کا بھی مہینہ ہے۔
(رابطہ۔9596571542)
[email protected]
������������������