جموں// مرکزی بجٹ کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کسان تحریک کی جانب سے پریس کلب کے احاطہ میںزور دار احتجاج کیا گیا جس دوران ارون جیتلی کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔ سٹیٹ سیکرٹری کسان تحریک جی این ملک نے کہا کہ بر سرا قتدار جماعت کی طرف سے کسانوں کیساتھ کئے گئے تمام وعدہ سراب ثابت ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کی طرف سے پیش کیا گیا بجٹ صرف کاروباری طبقہ کے لئے ہے کیوں کہ اس میں کسانوں اور زراعت شعبہ کے ساتھ جڑے دیگر افراد کے لئے کوئی راحت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وہ سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ لاگو کرنے کی صورت میں نہیں ہے لیکن اب حکومت نے پارلیمنٹ میں جھوٹ کا سہارہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی اس رپورٹ کو لاگو کر چکے ہیں اس طرح کسانوں کے مسائل کو پس پشت ڈال کر ان کے ساتھ بھدا مذاق کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی سرکار صرف کاروباری طبقوں کو فروغ دینے کا کام کر رہی ہے جس کے نتیجہ می غریب دن بدن غریب تر ہوتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قرضے کے بوجھ تلے دبے ہوئے کسانوں کیلئے کوئی پالیسی مرتب نہیں کی گئی ہے اور زرعی قرضوں کا حجم 1لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 1.1لاکھ کروڑ ہو گیا ہے ۔ دوسروں کے علاوہ بنارسی داس، سوہن لال، سیوا رام بھگت، گیان سنگھ اور مندیو سنگھ نے مظاہرین سے خطاب کیا۔